پراسیکیوشن اپناکام کیوں نہیں کرتی، خیبر پختونخوا پولیس تو بالکل ناکارہ لگتی ہے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

پراسیکیوشن اپناکام کیوں نہیں کرتی، خیبر پختونخوا پولیس تو بالکل ناکارہ لگتی ...
پراسیکیوشن اپناکام کیوں نہیں کرتی، خیبر پختونخوا پولیس تو بالکل ناکارہ لگتی ہے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اغوا کے ملزم کو جرگے کے ذریعے معاف کرنے کے معاملے پر اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ پراسیکیوشن اپناکام کیوں نہیں کرتی، خیبر پختونخوا کی پولیس تو بالکل ناکارہ لگتی ہے۔

سپریم کورٹ میں اغوا ءکے ملزم خالد کی درخواست ضمانت پرسماعت جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے کی، عدالت نے ملزم کی ضمانت ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض منظورکرلی، ملزم خالد پر پشاور سے باسط کے اغواءکاالزام تھا۔

یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا پولیس نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کیا: عمران خان

دوران سماعت عدالت میں اغواءہونے والے باسط کے باپ نے اپنے بیان میں کہا کہ اس نے ملزم کو معاف کردیا ہے کیونکہ جرگے نے اسے ضمانت دی ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ ’آپ نے معاف کردیاکیاجھوٹاکیس فائل کیاتھا؟ ‘، جسٹس مشیرعالم نے کہا ’ہم دیکھ رہے ہیں کہ آج کل جرگوں میں کیامعاملات ہوتے ہیں‘۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اغوا ہونے والے باسط سے استفسار کیا کہ ’ دوسال تک آپ اغواءرہے آپ کومعلوم ہی نہیں کہ کدھرتھے، جھوٹا کیس کرنے پر بھی سزا ہوسکتی ہے، اللہ تعالی نے سچ بولنے کاحکم دیاہے، آپ کو اغواءکیا گیا پھر بھی معاف کردیا؟‘، جس پر باسط نے کہا کہ اس نے ملزم کو جرگے کے کہنے پرمعاف کیا ۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خیبرپختونخوا کے پراسیکیوٹر سے کہا کہ پراسیکیوشن اپناکام کیوں نہیں کرتی، کے پی کے پولیس ناکارہ لگتی ہے، کیا پولیس کا کام صرف پرچہ کاٹناہے، پرچہ کاٹ لیاتفتیش بالکل زیروہے۔

واضح رہے کہ ملزم خالد پر دوساتھیوں کے ساتھ مل کر پشاور سے باسط کواغواءکرنے کاالزام ہے ، باسط کو اغوا کے 2 سال بعد چارسدہ کے ہسپتال سے برآمد کیا گیا۔

مزید :

اسلام آباد -