گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔ ساتویں قسط

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ ...
گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔ ساتویں قسط

  

اس پورے برصغیر میں اور دوسرے مسلمان ملکوں میں بھی، دیہات کے امام کی حیثیت ایک عظیم ادارہ کی ہوتی ہے۔ ( انہوں نے پاکستان کی حمایت اور 1947ء کے استصواب کے حق میں شاندار پراپیگنڈہ کیا تھا۔) وہ کوئی تنخواہ نہیں پاتا، جو کچھ ہاتھ آجائے اسی پر قناعت کرتا ہے۔ قاضی محمد صدیق چند لڑکوں کو مختلف گھروں میں بیج دیتے تھے اور وہ قاضی صاحب کے کھانے کے لئے کچھ نہ کچھ ضرور لے آتے تھے۔ اگر روٹی ان کی ضرورت سے زیادہ ہوتی تو وہ اسے گائے کے آگے ڈال دیتے اور اس کے باوجود بچ رہتی تو بیچ دیتے تھے۔ مسجد کا امام عام طور پر گاؤں کا سب سے نادار فرد ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ہی ان پڑھ بھی۔ وہ کلام پاک محض پڑھ سکتا ہے، معنی نہیں سمجھ سکتا۔ مسلمانوں میں پروہتوں اور پادریوں کی طرح کا کوئی طبقہ موجود نہیں۔ ان میں ڈین بشپ اور آرک بشپ نہیں ہوتے۔ اسی طرح مساجد کو ریاست کی طرف سے کوئی مالی امداد نہیں ملتی اور یہ محض رضاکارانہ نوعیت کے ادارے ہوتے ہیں۔ عوام ان میں سرکاری عمل و دخل کی سختی سے مزاحمت کرتے ہیں۔ مسلمانوں کا ہمیشہ سے یہ عقیدہ رہا ہے کہ سیاست کو مذہب سے الگ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ کتاب اللہ میں دین کے ساتھ سیاسی مسائل کے متعلق بھی احکام ہیں۔ ہماری تاریخ میں اس نوع کی متعدد مثالیں ہیں کہ ائمہ مساجد نے بعض فرما رواؤں کی تائید  یا تردید میں زبردست کردار ادا کیا ہے۔ ائمہ کو اگر منظم کیا جاتا اور سیاسی معاملات میں ا ن کی تربیت پر توجہ دی جاتی تو یہ لوگ سیاسی جماعتوں کے لئے زبردستی نفع یا نقصان کا موجب ہوسکتے تھے۔ ہمارے عوام ناخواندہ اور ناسمجھ ہیں۔ ائمہ کی جانب سے حکومت یا کسی فرد کے خلاف کسی طرح کا منفی پراپیگنڈٖہ، جس میں واہمہ کی آمیزش ہو۔ انتہائی خطرناک ہوسکتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ تمام ائمہ کے لئے ایک تعلیمی معیار مقرر ہونا چاہیے اور ان کی تنخواہوں کی ادائیگی مقامی آبادیوں کے ذمہ ہونی چاہیے۔ ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ انہیں سیاست بازی سے روک دیا جائے اور ان پر صریح پابندی عائد ہوکہ وہ اپنی مساجد کو سیاسی پراپیگنڈے کے لئے استعمال نہ ہونے دیں۔

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔ چھٹی قسط  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

میں نے اپنے بچپن میں یہ منظر اکثر دیکھا ہے کہ فجر کی نماز کے وقت بعض لوگ چھوٹے چھوٹے برتنوں میں پانی لے کر مسجد کے دروازے کے باہر کھڑے ہوجاتے اور جب نمازی مسجد سے نکلتے تو وہ ان سے التماس کرتے کہ وہ پانی میں پھونک ماردیں۔ ان کے خیال میں نمازی کی سانس سے وہ پانی برکت والا ہوجاتا ہے۔ یہ پانی وہ لوگ مریضوں کو پلاتے تھے۔ امام صاحب کی پھونک کی برکت، ان لوگوں کے خیال میں نہایت پاکیزہ اور شفابخش ہوتی۔ پچاس سال کی تعلیم اور ہسپتالوں کی تعمیر کے باوجود یہ طریقہ ختم ہونے کو نہیں آیا۔

امام کے علاوہ ہمارے گاؤں کی دوسری اہم شخصیت حکیم ہے۔ تقریباً ہر گاؤں میں ایک یا دو حکیم ہوتے ہیں جو مریضوں کا علاج کرتے ہیں۔ حکیم، عربی لفظ ہے جس کے معنی ہیں حکمت والا، یعنی دانشور، یہ حکیم صاحبان جس طریق علاج پر کاربند ہیں اسے یونانی کہتے ہیں۔ اردو میں جس ملک کا نام یونان ہے، انگریزی میں اسے (GREECE) کہا جاتا ہے۔ علاج کا یہ طریقہ ہمیں یونانیوں سے ملا ہے۔ جنہوں نے یہاں تین سو برس حکومت کی۔

حضرت مسیحؑ سے قبل کے تاریخی واقعات میرے لئے ازمنہ وسطیٰ کی تاریخ سے کہیں زیادہ طلسماتی کشش رکھتے ہیں۔ یہ مطالعہ واقعی بڑا دلچسپ ہے کہ سکندر اور اس کے چھ ہزار سپاہی کس طرح یونان سے نکلے اور طویل منزلوں کو قدموں تلے روندتے ہندوستان میں وارد ہوئے۔

مقدونیہ کے فاتح سکندر نے شمالی مغربی ہندوستان پر تقریباً 326 قبل مسیح میں حملہ کیا۔ سکندر کے سپاہیوں نے پنجاب کے انتہائی مشرق دریا، ستلج کے ساحل پر پہنچ کر کہا تھا ’’اب ہم وہاں پہنچ گئے ہیں جہاں سے سورج طلوع ہوتا ہے اور ہمیں اپنے گھروں سے نکلے ہوئے دو سال کا عرصہ گزرچکا ہے۔ ہم واپس جانا چاہتے ہیں۔‘‘ سکندر نے دریائے ستلج کے کنارے سات مینار تعمیر کرائے اور ملتان کے راستے جنوب کو ہوتا ہوا سمندر تک پہنچا۔ ملتان میں اسے ایک ایسے حکمران سے جنگ کرنی پڑی جو بہت بہادر اور جانباز تھا۔ ملتان کا قلعہ کسی طرح فتح نہ ہوتا تھا۔ اس پر سکندر نے خود کو ایک دیوار پر چڑھ کر نیچے چھلانگ لگادی۔ اس مہم میں اسے ایک تیر کا گھاؤ لگا اور چہار جانب یہ خبر پھیل گئی کہ سکندر لڑائی میں مارا گیا ہے۔اس خبر سے پوری فوج کے دل بیٹھ گئے، لیکن سکندر زندہ تھا۔ اس کے جرنیلوں نے دوسری ہی صبح اس کو ایک بلند جگہ پر بٹھادیا۔ اس کے زخموں پر مرہم پٹی کردی گئی تھی۔ فوجی دستے سکندر کے سامنے سے گزرنے لگے، ہر سپاہی اپنے بادشاہ کو جیتا جاگتا دیکھ کر خوشی کے مارے فاتحانہ نعرے لگاتا قدم بڑھاتا جاتا تھا۔

سکندر کا لشکر جب ساحل سمندر پر پہنچا تو سپاہیوں کی نصف تعداد بحریر استے سے مسوپوٹامیہ روانہ ہوئی اور باقی ماندہ نصف نے خشکی کا راستہ ختیار کیا۔ کراچی سے بصرہ اور وہاں سے سیدھے بغداد تک، یہ تمام زمین آج کل مکمل ریگستان ہے۔ وہاں نہ پینے کو پانی ملتا ہے، نہ مویشیوں کے لئے چارہ اور نہ راستے میں کوئی آبادی کہ غذا میسر آسکے لیکن سکندر کا لشکر جب اس راستے سے گزرا تو میرا خیال ہے کہ آدمیوں اور مویشیوں کے لئے پینے کا پانی ان دنوں میسر آتا ہوگا۔

جن دنوں میں لندن میں ہندوستان کا ہائی کمشنر تھا ایک بار مجھے وہاں آثار قدیمہ کے شہرہ آفاق ماہر سرآرل سٹین کے لیکچر کے سلسلہ میں ایک جلسہ کی صدارت کا اتفاق ہوا۔ اس موقع پر میں نے یہی سوال ان سے بھی کیا۔ ہم دونون کا متفقہ خیال تھا کہ اس زمانے میں وہ علاقہ غالباً مانسون کی گزرگاہ میں تھا اور اس کے بعد مانسون نے اپنی راہ بدل لی۔ ورنہ کوئی وجہ نہ تھی کہ وہ اب بے آب وگیاہ ریگستان میں تبدیل ہوجاتا۔

سکندر اعظم بابل پہنچا۔ وہاں اس نے دو برس قیام کیا اور اپنے سپاہیوں کو یہ اجازت دے دی کہ وہ چاہیں تو دوشادیاں کرسکتے ہیں۔ سکندر نے بخار میں مبتلا رہ کر بابل میں ہی انتقال کیا۔ ایک بارجو یونان سے اس کا قدم نکلا تو پھر واپس نہیں ہوا۔ اگرچہ ہندوستان سے وہ جاچکا تھا لیکن جاتے وقت شمال مغرب کے تمام مفتوحہ علاقوں میں اس نے اپنے گورنر مقرر کردئیے تھے۔ ان کا دارالحکومت راولپنڈی کے قریب ٹیکسلا میں تھا۔ ٹیکسلا کو ہمارے ماہرین آثار قدیمہ نے کوئی 40 سال پہلے دریافت کیا۔ اب وہاں ایک عجائب گھر قائم ہے جس میں قدیم بنیادوں کی کھدائی سے حاصل ہونے والے سکّے اور دوسرے نوادر محفوظ کرلئے گئے ہیں۔ یونانیوں نے اس ملک میں دلی اور اجمیر تک کے علاقے پر حکومت کی اور بعد کے یورپی حملہ آوروں کے برعکس یہاں انہوں نے آبادیا ں بھی قائم کیں اور مقامی لوگوں سے شادی بیاہ کے ناطے بھی جوڑے۔ انہیں اس میل جول میں کوئی دشواری محسوس نہیں ہوئی کیونکہ جس طرح یونانیوں کے سورج دیوتا اور چاند دیوتا تھے اسی طرح یہاں کے ہندو سورج اور چاند کی پوجا کرتے تھے۔ عقائد کی اس یکسانیت نے دونوں نسلوں کو باہم گھلنے ملنے میں آسانی مہیا کی۔قصہ مختصر، یونانیوں نے یہاں جس طریقہ علاج کو رواج دیا تھا، اسے اب بھی یونانی طریقہ علاج ہی کہا جاتا ہے۔ اس کا کوئی دوسرا نام نہیں۔ اس کے مقابلے میں ہمارے یہاں جدید سرجری اور علاج کا ایلوپیتھی طریقہ بھی ہے لیکن جدید دور کے ڈاکٹر کمیاب ہیں اور بیشتر دیہات میں تو دور دور تک ڈاکٹر کا وجود نہیں، یہاں حکیم ہی کادم غنیمت سمجھا جاتا ہے۔ یہ حکیم صاحبان جو ادویہ تجویز کرتے ہیں وہ محض سستی جڑی بوٹیاں ہوتی ہیں اور آسانی سے دستیاب ہوجاتی ہیں۔(جاری ہے)

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔ آٹھویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : فادرآف گوادر