پنجاب حکومت نے وہ کام کردکھایاجو کوئی اور صوبہ نہ کرسکا

پنجاب حکومت نے وہ کام کردکھایاجو کوئی اور صوبہ نہ کرسکا
پنجاب حکومت نے وہ کام کردکھایاجو کوئی اور صوبہ نہ کرسکا

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)اٹھارہویں ترمیم کے صوبوں کو بھی اپنی بجلی بنانے کا اختیارحاصل ہے لیکن حکومت پنجاب کے علاوہ کوئی دیگر صوبہ اس قدر بجلی پیدا نہیں کرسکا کہ اس کو عوام کے سامنے لائے لیکن حکومت پنجاب نے ’امید کی کرنوں سے روشنی کے میناروں تک‘کے نام سے اپنے بجلی منصوبوں سے پیدا ہونیوالی بجلی اور زیرتکمیل منصوبوں کی تفصیلات عوام کیساتھ شیئرکردیں۔

حکومت پنجاب کی طرف سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق بجلی کی پیداوار میں 3400 میگا واٹ کا اضافہ ہوا ہے ،ان منصوبوں میں بھکی پاور پروجیکٹ 717 میگا واٹ ، قائداعظم سولر پارک بہاولپور 400 میگاواٹ نیشنل گرڈ میں شامل ہوگئی ہے جبکہ1180 میگاواٹ پیداوار کیلئے کام جاری ہے ۔ انرجی ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے 20,000 سرکاری سکولوں میں سولر سسٹم لگانے کا منصوبہ شروع کردیا گیا ہے ، 50 سرکاری دفاتر میں پائیلٹ پروجیکٹ کے طور پر سولر سسٹم کی کامیاب تنصیب کا کام مکمل ہوگیا، بجلی کی بچت اور اس کے صحیح استعمال کو یقینی بنانے کیلئے پنجاب انرجی ایفیشنسی اینڈکنزورویشن ایجنسی کا قیام عمل میں لایاگیا۔ پنجاب کے چار مختلف مقامات پر 20 میگاواٹ مجموعی پیداوار کے ہائیڈرو پاور پروجیکٹس جبکہ ساہیوال کول فائیرڈ پاور پروجیکٹ 1320 میگاواٹ پر کام ہورہاہے۔

پنجاب حکومت کے مطابق 135میگا واٹ کے تونسہ ہائیڈروپاورپروجیکٹ کا جلد آغازکردیا جائے گا، 250 میگاواٹ کے روجھان ونڈ پاور پلانٹ پر کام جاری ہے جبکہ قائداعظم سولر پارک بہاولپور 400 میگاواٹ نیشنل گرڈ میں شامل ہوگئے ہیں اور مجموعی طور پر 1000 میگاواٹ کا یہ منصوبہ ہے ۔ خادم پنجاب اجالا پروگرام کے تحت 300,000 سولر ہوم سسٹم کو طلباءمیں میرٹ کی بنیاد پر تقسیم کیاگیاجبکہ 21 ہائیڈرو پاور پلانٹس کابھی جلد آغازہوجائے گا۔

مزید : قومی