مچھیرے نے جال سمندر میں پھینکا تو مچھلیوں کے ساتھ بوتل میں بند خط بھی آگیا، اس میں کیا لکھا تھا؟ پڑھ کر حیران پریشان رہ گیا کیونکہ۔۔۔

مچھیرے نے جال سمندر میں پھینکا تو مچھلیوں کے ساتھ بوتل میں بند خط بھی آگیا، ...
مچھیرے نے جال سمندر میں پھینکا تو مچھلیوں کے ساتھ بوتل میں بند خط بھی آگیا، اس میں کیا لکھا تھا؟ پڑھ کر حیران پریشان رہ گیا کیونکہ۔۔۔

  

یروشلم(نیوز ڈیسک) فلسطینی ملاح جہاد السلطان 15 اگست کے روز معمول کے مطابق مچھلیاں پکڑنے میں مصروف تھا کہ غزہ کے ساحل کے قریب پانی میں تیرتی ہوئی ایک بوتل نے اس کی توجہ کھینچ لی۔ اس نے جال پھینکا اور اس بوتل کو کھینچ لیا۔ سلطان کو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ بوتل کے اندر ایک کاغذ تھا جس پر کچھ لکھا ہوا تھا، لیکن اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ ایک برطانوی جوڑے کا خط تھا جو سینکڑوں میل کا سفر طے کرتا ہوا اس کے پاس آن پہنچا تھا۔

دراصل یہ خط برطانوی جوڑے 25 سالہ زیک مرینر اور 22 سالہ بیتھنی رائٹ نے لکھ کر بوتل میں ڈالا تھا اور اسے برطانیہ کے ایک ساحل کے قریب سمندر میں پھینک دیا تھا۔ انہوں نے اسے ڈیڑھ ماہ قبل سمندر میں ڈالا تھا اور یہ 500 میل کا سفر طے کر کے غزہ ساحل پر آن پہنچا تھا۔

باپ کی موت کے بعد ایک دن خاتون نے اس کا بٹوہ کھول کر دیکھا تو اس میں ایسی تصویر نظر آگئی کہ زندگی کا سب سے زوردار جھٹکا لگ گیا، کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ اس کی۔۔۔

سیاہ روشنائی میں تحریر کئے گئے خط میں لکھا تھا ”ہیلو! یہ بوتل نکالنے کیلئے آپ کا شکریہ۔ ہم آج کل چھٹیوں پر ہیں اور یہ جان کر بہت خوشی محسوس کریں گے کہ یہ بوتل کتنی دور تک گئی۔ اگرچہ یہ محض اگلے ساحل تک ہی جاپائے لیکن آپ ہمیں اس کے بارے میں ضرور خبر کریں۔ ہم بہت شکر گزار ہوں گے۔“

زیک اور بیتھنی کا خط سلطان کو ملا تو اس نے اپنے داماد وائل السلطان سے کہا کہ وہ اس میں دئیے گئے ای میل ایڈریس پر اس جوڑے کو جواب بھیجے۔ انہوں نے اپنے جواب میں لکھا کہ ”غزہ کے لوگ بہت اچھے ہیں اور وہ بھی آپ کی طرح ایک اچھی زندگی گزارنے کا خواب دیکھتے ہیں۔ ہم فلسطینی ملاحوں کو سمندر میں چھ میل سے آگے جانے کی اجازت نہیں لیکن میں امید کرتا ہوں کہ ہم بھی کسی دن اس بوتل کی طرح آزاد ہوں گے اور جہاں تک چاہیں گے جاسکیں گے۔“

زیک کو جب یہ پیغام ملا تو وہ بہت افسردہ ہوئے۔ انہوں نے این پی آر ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا”ہمیں یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ ہماری بوتل سینکڑوں میل کا فاصلہ طے کرگئی تھی، لیکن یہ جان کر بہت دکھ ہوا کہ جن لوگوں کو یہ بوتل ملی وہ بہت افسردہ زندگی گزاررہے ہیں۔ ہم دعا گو ہیں کہ ان کے مسائل ختم ہو جائیں اور وہ بھی ہماری طرح آزاد زندگی گزار سکیں۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -