حضرت محمد ﷺ کی زندگی میں سورج گرہن کس اہم ترین موقع پر رونما ہوا؟ وہ بات جو غیر مسلموں کو بھی تڑپادے

حضرت محمد ﷺ کی زندگی میں سورج گرہن کس اہم ترین موقع پر رونما ہوا؟ وہ بات جو ...
حضرت محمد ﷺ کی زندگی میں سورج گرہن کس اہم ترین موقع پر رونما ہوا؟ وہ بات جو غیر مسلموں کو بھی تڑپادے

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) گزشتہ روز سورج گرہن لگا جس کا عالمی میڈیا پر بہت چرچا رہا اور اس کی کئی وجوہات بیان کی جاتی رہیں۔ سازشی نظریہ ساز تو اسے دنیا کے خاتمے کی آخری علامت قرار دیتے رہے۔ ایسا ہی ایک سورج گرہن حضور اکرمﷺ کے زمانے میں بھی لگا تھا لیکن اس کی وجہ بالکل عیاں اور مختلف تھی۔ وہ سورج گرہن اس بات کا ثبوت تھا کہ رسول اللہﷺ اللہ کے آخری نبیﷺ ہیں۔ حضور ﷺ کی زندگی میں صرف ایک بار ہی سورج گرہن لگا۔ اس وقت ان کی عمرمبارک 61برس تھی۔ یہ سورج گرہن آپ ﷺکی حیات طیبہ میں کئی تلخ واقعات آنے کے بعد لگا۔

حضورﷺ کی پہلی اہلیہ ام المومنین حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے بطن سے ان کے دو بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں جبکہ ایک بیٹا ام المومنین حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے پیدا ہوا۔ یہ حضور ﷺ کا سب سے چھوٹا بیٹا تھاجس کا نام ابراہیم تھا۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرما چکے تھے کہ محمد ﷺ کسی مرد کے باپ نہیں ہوں گے۔ چنانچہ وہ پہلے سے جانتے تھے کہ ابراہیم آپ ﷺ کے پاس نہیں رہیں گے مگر پھر بھی ان کا وصال آپﷺ کے لیے بہت بڑا صدمہ ثابت ہوا۔ یہ صدمہ اس قدر بڑا تھا کہ حضور ﷺ اپنی حیات مبارکہ میں چند بار ہی لوگوں کے سامنے روئے تھے جن میں ایک بار ابراہیم کی وفات پر روئے۔

لوگ مسجد نبویﷺ میں حضور اکرمﷺ کے پاس تعزیت کے لیے آ رہے تھے اور مسجد لوگوں سے بھری ہوئی تھی۔ اس وقت اچانک چاند سورج کے سامنے آ گیا اور سورج کو گرہن لگ گیا۔ اس پر مدینہ منورہ میں یہ بات پھیل گئی کہ ابراہیم کی وفات پر آسمان بھی رو رہا ہے، اس لیے دن میں رات ہو گئی ہے۔ تاہم حضور ﷺ نے نماز کسوف کے لیے لوگوں کو کھڑے ہونے کو کہا۔ انہوں نے اس نماز میں کئی سورتیں پڑھیں۔ یہ نمازسورج گرہن کے مکمل خاتمے تک جاری رہی۔ یہ واقعہ نبی کریمﷺ کے اللہ کا آخری نبی ہونے کا ایسا مظہر تھا کہ کوئی مسلمان بقائمی ہوش و حواس اس سے انکار نہیں کر سکتا۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -