خان کو کام تو کرنے دیں

خان کو کام تو کرنے دیں
خان کو کام تو کرنے دیں

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

عمران خان صاحب کے بطور وزیر ا عظم حلف اٹھا لینے کے بعد اپوزیشن کے شور شرابے میں نما یاں کمی واقع ہوگئی ہے۔ پاکستان کی ستر سالہ تایخ میں شاذ ہی کوئی ایسا انتخاب ہوگا جس کو منصفانہ قراردیا گیا ہو گا۔ پاکستان میں منعقد ہونے والا ہر انتخاب اپوزیش کے لئے غیر مُنصفانہ اور دھاندلی زدہ رہا ہے۔2013 کے انتخابات میں عمران خان صاحب چیخ رہے تھے کہ انتخابات میں دھاندلی کی گئی ہے لیکن مُسلم لیگ ن خاص طور پر میاں برادرز کوئی بھی بات ماننے کے لئے تیار نہ تھے۔ عمران خان نے چار حلقوں کے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کروانے کے لئے مطالبہ کیا تھا۔ لیکن نواز شریف کو اُن حلقوں کے ووٹوں کی گنتی پر اعتراض تھا۔ جس کی وجہ سے سیاسی فضا میں بد مزگی بڑھ گئی۔

اب چا ر سیٹوں کی بات نہیں ہو رہی بلکہ تمام انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دیا جار رہا ہے کیونکہ ماضی کے بڑے بڑے سیاست دان اس بار انتخابات میں اپنی نشست جیت نہیں سکے۔ چونکہ وُہ اپنی نشستیں نہیں جیت سکے ۔ لہذا یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ الیکشن غیر مُنصفانہ نہیں ہوئے بلکہ نتایج کو بدلنے کے لئے فوج نے مداخلت کی ہے۔ کم از کم مُسلم لیگ اور مولانافضل الرحمان اور دوسرے رفقاءکا یہی موقف ہے۔ لیکن اگر انصاف کی بات کی جائے تو ا لیکشن کمشن مُسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی رضامند ی سے بنایا گیا تھا۔ اُس میں عمران خان کی رائے شامل نہیں تھی۔ 

ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم حزب اختلاف کی ا صطلاح کی تشریح اپنے مخصوص انداز میں کرتے ہیں۔ ہم یہ بات فرض کر لیتے ہیں کہ اپوزیش کا مطلب ہر حال میں حزب اقتدار کی مخالفت کرنا ہے۔ حا لانکہ مہذب ممالک میں حزب اختلاف حکومت کے اچھے کاموں کی تعریف کرتی ہے۔ مفید اور کار آمد قوانین بنانے میں حکومت کی مدد کرتی ہے۔ کیونکہ اُن کا مطمعِ نظر مُلک کی بہتری میں کام کرنا ہوتا ہے۔ وُہ حکومت کے غلط اقدامات پر شدت سے تنقید کرتی ہے۔ بالفاظ ِدیگر، حزب اختلاف حکومت کی کمیوں اور کمزوریوں کی طرف اشارہ کرکے ذاتی دشمنی نہیں نکالتی بلکہ وُہ حکومت پر تنقید اس لئے کرتی ہے کہ ایسا قانون وجود میں آئے جو مُلک اور اُسکے عوام کے لئے سُود مند ہو۔ لیکن ہمارے مُلک میں ان روایات کے بر عکس حزبِ اختلاف کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وُہ حکومت کو کسی بھی صورت میں چلنے نہ دے۔ قدم قدم پر اُسکی مخالفت کی جائے۔ اُس کو سکون سے کام نہ کر دیا جائے۔ اُسکو اسقدر زچ کر دیا جائے کہ وُہ

قا نون سازی جیسے اہم کام کا انجام نہ دے سکے ۔ اپنے منشور کے پروگر اموں پر عمل نہ کر سکے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حزب اختلاف کا یہ رول جمہوری اقدار کے بر عکس اور متضاد ہے۔

حزب مخالف کا اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ وُہ حکومت کی پالیسیوں پر مثبت انداز میں تنقید کرکے حکومت کو ایسا ماحول فراہم کرے جس میں قانون سازی مُلک و قوم کے لئے مُفید اور کارگر ثابت ہو۔حکومت کے جائز اقدامات کو بھی تنقید کا نشانہ بنانا اور حکومت کے ہر کام میں بلاوجہ رخنے ڈالنا حزب اختلاف کا کام نہیں۔در اصل حزب اختلاف چیک ا ینڈ بیلینس کا میکنزم فراہم کرتی ہے جس سے حکومت رہنمائی لیتی ہے اور اپنی پالیسیوں کو عوام کے مُفاد میں بناتی ہے۔ لیکن ہمارے ہاں حکومت کو ہر حال میں پریشان کرنا ہی حزب اختلاف کا فرضِ منصبی سمجھا جاتاہے۔

عمران صاحب کو وزراتِ عظمیٰ آسانی سے ہر گز نہیں ملی۔ اُنکی حتیٰ الا مکاں کوشش ہوگی کہ وُہ اپنے وعدوں کو عملی جامہ بھی پہنائیں۔نیا پاکستان بنانے سے ہرگز مطلب یہ نہیں کہ وُہ اسکی سر حدوں کو بدلنے والے ہیں۔ بلکہ وُہ مُلک کی بُنیاد قائد کے بتائے ہوئے اصولوں پر رکھنا چاہتے ہیں بد قسمتی سے قا ئد کے اصولوں کو ذاتی مصلحتوں کے پیش نظر اپنے مقاصد کے لئے بدلا گیا۔ عمران خاں صاحب کی خواہش یہ ہے کہ مُلک میں ہر شخص کو انصاف ملے اور ترقی کرنے کے لئے یکسان مواقع ملیں۔ ابھی اُن پر تنقید کرنا مُناسب نہیں۔ ابھی وُہ حکومت کی تشکیل میں مصروف ہیں۔ اُنکی کار کردگی پر تنقید کرنے کے لئے ابھی وقت کی ضرورت ہے۔ پھر بھی اُن کی ہر بات او رحرکت کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کُچھ لوگوں کے نزدیک عمران خان مُلک کے لئے قائد اعظم کے بعد دوسر ا لیڈر ہے جو قوم کے لئے دل میں درد رکھتا ہے۔ سادگی کو زندگی کا شعار بنانے پر اصرار کر رہا ہے۔ کیونکہ اُنکے نزدیک ایک مقروض مُلک اُس وقت تک اپنا وقار قایم نہیں کر سکتا جب تک وُہ مالی اعتبار پر مضبوط نہ ہو۔ دوسرے ممالک کا قرض اتارنے کے لئے انہوں نے سادگی کا نظریہ پیش کیا ہے۔ اس طرح ٹیکس دہندگان کے پیسے کو بچایا جا سکتا ہے۔ غیر ضروری اخراجات کو کم کرنے کی روایت ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں۔ سرکاری ضیافتوں میں چائے اور بسکٹوں کے ضروری دوروں کو کنٹرول کرنے کی سعی کی جا رہی ہے۔ ہمسایوں سے دوستانہ تعلقات بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ نئی اصلاحات کو متعارف کروانے کے لئے عمران خان صاحب نے اپنی پہلی تقریر میں واضع پیغام دیا ہے۔ کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ دیا جائے گا۔ کڑے احتساب کو لاگو کرنے کے لئے نیب کے چئیرمین سے تجاویز لینے کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔ عمران خاں حاحب کی خواہش ہے کہ مُلک کو قرض کے مکڑی جال سے رہاکروایا جائے۔ تاکہ وُہ ایک آزاد اور خُود مُختار مُلک کے سر براہ کے طور پر دوسرے مُلکوں کے سر براہوںسے برابری کی بنیاد پر بات کر سکیں۔ ہم سجھتے ہیں کہ اِس میں سب کی عزت ہے۔ لیکن وہ لوگ جو مُلک کی بجائے اپنے ہیم مُفاد کو دیکھتے ہیں اُن کے لیے خان صاحب کی باتیں مضحکہ خیز ہیں۔

۔۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ