ٹیچرز ایکشن کمیٹی کا سرکاری سکولوں کو بلدیات کے حوالے کرنے کے خلاف ااحتجاج

ٹیچرز ایکشن کمیٹی کا سرکاری سکولوں کو بلدیات کے حوالے کرنے کے خلاف ااحتجاج

  

لاہور(لیڈی رپورٹر)ٹیچرز ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام لاہور سمیت پنجاب بھر میں نئے بلدیاتی آرڈیننس 2019 کے تحت سرکاری سکولوں کو بلدیات کے حوالے کرنے کے خلاف اساتذہ تنظیموں کے راہنماؤں و عہدیداران کی کثیر تعداد نے پریس کلبوں کے سامنے احتجاجی مظاہرے کئے۔لاہور میں پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہر ہ کیا گیا۔اساتذہ نے اپنے مطالبات پر مشتمل بینرز اور کتبے اُٹھارکھے تھے اور مسلسل نئے بلدیاتی آرڈینینس 2019 کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے۔اساتذہ راہنماؤں سید سجاد اکبر کاظمی، رانا لیاقت علی، وحید مرادیوسفی، افضل بھنڈر، ملک مستنصر اعوان، چوہدری محمد علی، ملک لطیف شہزاد، محمود رضا، ملک سجاد حسین، آغا سلامت، مرزا اختر بیگ و دیگر کا کہنا تھا کہ نئے بلدیاتی نظام کی تحویل میں تعلیمی ادارے نہ صرف سیاسی اکھاڑے بن جائیں گے بلکہ اساتذہ بھی غلامانہ زندگی گزارے پر مجبور ہونگے۔

ہر دس سے پندرہ سال بعد ایک نیا تجربہ کرکے تعلیمی نظام کو برباد کیا جارہا ہے۔ راہنماؤں کا کہنا تھا کے بلدیاتی ادارے شہر میں صفائی ستھرائی کی سہولیات تو فراہم کر نہیں سکتے تعلیمی نظام میں کیا بہتر ی لائیں گے۔ تعلیم جیسا حساس شعبہ سیاسی اور منظور نظر افراد کے سپرد کرنے سے اقربا پروری کو فروغ ملے گا۔ جبکہ دوسری طرف کئیر این جی او تعلیمی اداروں میں اساتذہ کے میرٹ پر ہونے والے تبادلہ جات کو منسوخ کروا کر یہ تاثر دے رہی ہے کہ سرکاری تعلیمی ادارے ان کی ملکیت اور اساتذہ ان کے غلام ہیں۔ ملک کا آئین اور دستور ان کے حکم کے تابع ہے۔محکمہ تعلیم کے افسران ان کا دُم چھلہ بنے ہوئے ہیں۔لہذا حکومت پنجاب نئے بلدیاتی آرڈینینس 2019 میں فور ی ترمیم کرکے تعلیمی ادارے نئے بلدیاتی نظام کی تحویل سے باہر نکالے۔پرائمری،ایلیمینٹری اور سیکنڈری سکولوں کو بدستور سرکاری تحویل میں رکھا جائے تا کہ پور ے صوبے میں یکساں نظام تعلیم رائج ہو اور تعلیمی میدان میں یکساں ترقی ہو سکے اس کے ساتھ اساتذہ میں پیدا شدہ عدم تحفظ کی فضا کا خاتمہ ہوسکے ورنہ اساتذہ سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور ہونگے

مزید :

میٹروپولیٹن 4 -