بینک آف خیبر کے ششماہی دورانیہ کے 30 جون 2019ء کو ختم ہونیوالے مالی نتائج

بینک آف خیبر کے ششماہی دورانیہ کے 30 جون 2019ء کو ختم ہونیوالے مالی نتائج

  

پشاور(سٹی رپورٹر)بینک آف خیبر کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا 157 واں اجلاس گزشتہ روز اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ جس میں 30 جون 2019ء کو ختم ہونیوالے ششماہ کے دوران ان آڈیٹڈ کنڈینسڈ ان ٹیرم فنانشل سٹیٹمنٹ کی منظوری دی گئی۔ اس اجلاس کی صدارت ڈاکٹر شہزاد خان بنگش، ایڈیشنل چیف سیکرٹری گورنمنٹ آف خیبر پختونخوا چیئرمین بینک آف خیبر نے کی۔ اس اجلاس میں منیجنگ ڈائریکٹر بینک آف خیبر سیف الاسلام، اسد محمد اقبال، رشید علی خان اور شہریار احمد نے شرکت کی۔ اس دورانیہ میں بینک کا بشمول ٹیکس منافع638 ملین روپے اور بعداز ٹیکس منافع 498 ملین روپے رہا۔ جبکہ فی شیئر حصہ.5 رہا۔ اس دوران14% اضافہ کے ساتھ رجسٹرڈ ڈیپازٹس کا خاتمہ195286 ملین رہا جبکہ ایڈوانس116، 144 ملین روپے رہا جو کہ 2018ء میں ختم ہونے والے سال سے 17% زیادہ تھا۔ معمولی کمی کے ساتھ انویسٹمنٹس91,049 ملین روپے رہا۔ بینک کے مجموعی اثاثہ جات 235,559 ملین روپے رہے۔بورڈ نے بینک کی مجموعی کارکردگی اور تمام شعبوں میں ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا اور 30 جون 2019ء کو ختم ہونیوالے ششماہی دورانئیکے اکاؤنٹس کی منظوری دی۔ چیئرمین نے کہا کہ موجودہ حالات،پالیسیوں میں تبدیلیوں اور خصوصاً ایکسچینج ریٹس کی وجہ سے بینک کو مالیاتی چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لئے زیادہ محنت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بینک اپنے172 برانچز پر مشتمل اکاؤنٹس کی امیدوں پر پورا اتریگا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -