سخاکوٹ،شاملات میں کسی غیر متعلقہ فرد کی مداخلت برداشت نہیں

سخاکوٹ،شاملات میں کسی غیر متعلقہ فرد کی مداخلت برداشت نہیں

  

بٹ خیلہ (بیورورپورٹ)سخاکوٹ شاملات میں کسی غیر متعلقہ افراد کی مداخلت اور خرید و فروخت کی اجازت نہیں دینگے۔اربوں روپے کی 4ہزار جریب سے زائد آراضی چار قوموں سہہ سدہ، ملی خیل عزی خیل، شلمان اورقوم خٹک کا حق ہے۔ ضلعی و تحصیل انتظامیہ چند آفراد کیساتھ تعاون کی بجائے شامیلات کی سرکاری طور پر تقسیم کے لئے ٹھوس اقدامات کریں۔ سپریم کورٹ نے 1978سے سخاکوٹ شامیلات کی خریدوفروخت پر پابندی عائد کی ہے اورچار قوموں پر مساویانہ تقسیم کا فیصلہ دیا ہے۔ سخاکوٹ کے 4ہزار جریب سے زائد شامیلات آراضی کے سلسلے میں قوم سہہ سدہ کا ایک بڑا اجتماع منڈی حاجی عجب خان سخاکوٹ میں زیر صدارت سابق ایم پی اے حاجی جہانگیر خان منعقد ہوا جس میں شامیلات کے حصہ داران نے شرکت کی۔ اجتماع سے سابق ایم پی اے حاجی جہانگیر خان، ممبر ضلع کونسل یوسف خان، حاجی نیک محمد خان،سابق تحصیل ناظم شفیع اللہ خان،آصغر خان، حاجی لیاقت علی، عمر محمد لالا، حاجی یار محمد، سابق چیئرمین بختی زمان، حق نواز خان اور مولانا جہانزیب خان سمیت دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ممبر ضلع کونسل یوسف خان، سابق ایم پی اے حاجی جہانگیر خان اوردیگر مقررین نے کہا کہ سخاکوٹ شامیلات میں غریبوں، یتیموں، بیواؤں اور بے سہارا لوگوں کا بھی حصہ ہے اس لئے شامیلات سے متعلق سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا ہے اس پر عمل در آمد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ کسی فریق کا ساتھ دینے اور پیسوں کی چمک دمک کی بجائے سپریم کورٹ کے فیصلے کے روشنی میں چار ہزار جریب سے زائد شامیلات آراضی سرکاری طور پر چار قوموں پر مساویانہ تقسیم کیا جائے بصورت دیگرشامیلات کے حق دار ہزاروں لوگ احتجاج پر مجبور ہوکر سڑکوں پر نکلیں گے۔مقررین نے کہا کہ ہزاروں جریب آراضی کے حق داران مسائل سے دوچار ہیں جبکہ غیر متعلقہ لوگوں نے شامیلات آراضی کی خریدو فروخت کرکے مزے کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر آج ہم نے اس مسئلے کا حل نہیں نکالا اور شامیلات آراضی کو حق داران میں تقسیم نہیں کیا گیا تو ہماری آنی والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کرینگے کیونکہ ہمارے آباؤ اجداد نے یہی شامیلات ہمار ے نسلوں کیلئے چھوڑی ہے۔ اس موقع پرممتاز شخصیت آصغر خان کو شامیلات آراضی کے لئے کمیٹی کا چیئرمین اور دیگر ممبران کے ناموں کا بھی اعلان کیا گیا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -