فیصل آباد: واساافسروں کے ٹیکنیکل الاؤنس میں 18لاکھ روپے ماہانہ اضافہ کی منظوری

فیصل آباد: واساافسروں کے ٹیکنیکل الاؤنس میں 18لاکھ روپے ماہانہ اضافہ کی ...

  

فیصل آباد(منیر عمران سے)وزیراعظم عمران خان نے ارکان اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافہ کی اطلاع ملنے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تنخواہوں میں اضافہ کا فیصلہ مسترد کر دیا تھا مگر ان کے ایف ڈی اے میں نمائندہ چیئرمین کی زیر صدارت گورننگ باڈی کے اجلاس میں واسا کے ایم ڈی سمیت گریڈ 17کے اوپر کے تمام ٹیکنیکل افسران کے ٹیکنیکل الاؤنس میں مجموعی طور پر تقریباً 18لاکھ روپے ماہانہ کے اضافہ کی منظوری دے دی گئی حالانکہ ایم ڈی واسا نے فنڈز نہ ہونے کابہانہ بنا کر عید سے قبل 850ڈیلی ویجز ملازمین برطرف کر دیئے تھے جن میں سے اب تک 550کو واپس بلا لیا گیا جبکہ 300ملازمین بے روزگار کر دیئے گئے اسی بات پر تقریباً دو تین ماہ قبل چیئرمین ایف ڈی اے اور ڈی ایم ڈی واسا سروسز وایڈمن اینڈ فنانس کے درمیان ایک اجلاس میں بدمزگی بھی ہوئی تھی جس میں چیئرمین ایف ڈی اے اسد معظم کا یہ اعتراض تھا کہ افسران کے ٹیکنیکل الاؤنس میں اضافہ سے بجٹ پر بوجھ پڑے گا جبکہ واسا کے فنڈز میں کمی کے بہانے بنا کر سینکڑوں ڈیلی ویجز ملازمین کو فارغ کیا جا رہا ہے۔ اور بجلی کے بلوں کی ادائیگی کے وقت بھی بڑا شور مچایا جاتا ہے تو یہ خسارہ کیسے پورا ہو گا اسی بناء پر لوگوں کے درمیان تلخ کلامی تک بھی بات پہنچی تھی اس کے بعد اچانک خاموشی چھا گئی اور اس ”طویل خاموشی“ کے بعد اچانک ہی چیئرمین کے مؤقف میں کسی نہ کسی وجہ سے ”نرمی“ پیدا ہو گئی اس ”نرمی“ کی وجوہات تو ابھی تک سامنے نہیں آ سکیں تاہم ٹیکنیکل الاؤنس میں اضافہ کی منظوری دیدی گئی ہے جس کے مطابق ایم ڈی واسا اور ڈی ایم ڈی واسا کی تنخواہوں میں ٹیکنیکل الاؤنس کی مد میں 88 /88ہزار روپے ماہانہ زائد کا اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح ڈپٹی ڈائریکٹر ز انجینئرنگ کی تنخواہوں میں 57ہزار روپے زائد اور ہر اسسٹنٹ ڈائریکٹر انجینئرنگ کی تنخواہوں میں 45ہزار زائد کا اضافہ ہو گا۔ اس میں مزید حیرانی اس بات پر بھی ہو رہی ہے کہ فنڈز میں کمی کا شور مچانے والے افسروں کو اس اضافہ کا اطلاق اگست کے مہینے میں شروع ہو جائے گا۔

الاؤنس کی منظوری

مزید :

علاقائی -