عطیہئ اعضاء اور اعضاء کی پیوندکاری۔۔۔ دِینی رہنمائی

عطیہئ اعضاء اور اعضاء کی پیوندکاری۔۔۔ دِینی رہنمائی

  

یہ موضوع یقیناً ایک اجتہادی اور تحقیقی موضوع ہے جس پہ قیل و قال ہے،جس پہ اقوال ہیں، جس پہ نظریات ہیں اور علمائے کرام میں اختلاف اِس کے اجتہادی ہونے ہی کی وجہ سے ہے۔ایک حکمِ کلّی ہے، پروردگارِ عالم سورہئ مائدہ، آیت32میں ارشاد فرما رہا ہے:

”جس نے ایک نفس کو زندگی دی اُس نے گویاسارے انسانوں کو زندگی دے دی۔“

اور جزوی موضوعات میں کہ کیسے دُوسروں کو زندگی دی جائے؟ دوسروں کو کیسے بچایا جائے؟انسان کو کیسے مزید جینے کا موقع دیا جائے؟ اِس پہ یقیناً بحث ہے۔ میں اپنے اِس مختصر بیان میں دو مقدمے اور ان کے ذیل میں ایک ذیلی مقدمہ پیش کروں گا۔

پہلا مقدمہ تو یہ ہے کہ حیات کے اسباب فراہم کرنا، زندگی کے مواقع فراہم کرنا انسانیت کی خدمت ہے اور پسندیدہ عمل ہے۔ سرکارِ دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے سوال ہوا،”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! سب سے اچھا انسان کون ہے؟“آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:

”جولوگوں کے لیے اچھا ہے۔“

لہٰذا قرآن و سنّت کی روشنی میں یہ طے ہے کہ کسی دوسرے کو جینے کا بہتر موقع دینا اوراُس کو زندگی کے مواقع فراہم کرنا ایک پسندیدہ اور مطلوب عمل ہے۔ علمِ ادیان اور علمِ ابدان کی تقسیم کے مطابق ہمارا بدن دِینی اصولوں کا پابند ہے۔ دِینی اصول ہمارے بدن کی پابندی کے بارے میں جو رہنمائی کریں گے یقینا وہی ہمارے بدن کوقابلِ قبول ہونا چاہیے۔

دوسرا مقدمہ یہ ہے کہ طے کیا جائے گا کہ موت کسے کہتے ہیں؟ کیا دماغ کا مرجانا موت ہے یا دل کا مرجانا موت ہے؟طبِ قدیم میں دل کے مرجانے کوموت کہا گیا ہے اور طبِ جدید نے دماغ کے مرجانے کو اصلی موت قرار دیا ہے۔اِسی کے ضمن میں یہ بات آئے گی کہ روایاتِ ائمہئ اہلِ بیت ؓ کی روشنی میں دماغی موت کو اصلی موت قرار دیا ہے۔

عبداللہ ابنِ سنان نے اپنے مؤثق میں، ربیع ابنِ عبداللہ نے اپنی صحیح میں اور ابنِ عمیر نے اپنی صحیح میں حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ (اِس گھرانے پر اللہ رحمن ور حیم کے دُرود و سلام آتے ہیں)سے روایت نقل کی ہے کہ جب حضرت ؓ سے پوچھا گیا کہ”ایک مردہ ماں کے شکم میں ایک متحرّک بچہ ہے، کیا کریں؟“ تو حضرت ؓنے فرمایا کہ”اسے باہرنکالو اور ماں کے شکم کو سی کر اُسے دفنادو۔“

اِس لیے کہ رونا اور متحرّک ہونا دماغ کے زندہ ہونے کی علامت ہے۔اگر بچہ رو رہا ہے اور متحرک ہے تو دُنیا میں آنے کے بعد میراث بھی پائے گا اور وہ میراث اُس سے، کوئی اور بھی پائے گا۔شرعی احکام اِس بات پہ بار ہوں گے کہ یہ زندہ ہے یا نہیں اور زندہ ہونا اِس بات پر موقوف ہے کہ اُس کا دماغ کام کررہا ہے یا نہیں کررہا۔لہٰذ اموت کے تعین کے ذریعے سے ہم میراث کے مسائل اور عدّت کی مدّت کے مسائل کو طے کرتے ہیں۔ اور موت کو طے کرنا ہے دل کی موت سے یا دماغ کی موت سے۔ روایاتِ ائمہئ اہلِ بیتؓ سے ظاہر یہ ہے کہ دماغ کی موت اصلی موت ہے اور دل کی موت اصلی موت نہیں ہے۔البتہ دل اگر پوری طرح سے مرجاتا ہے تو دماغ خود بخود ختم ہوجائے گا، لیکن اِس کے برعکس لازم نہیں ہے۔

اِن دو مقدمات کے بعداہدائے اعضاء یا عطیہئ اعضاء کے حوالے سے چار صورتیں متصوّر ہیں: پہلی صورت یہ کہ عضو کی پیوند کاری ایسے عضو سے وابستہ ہو جس کا دینا اور لینا جان اور زندگی کا مسئلہ نہ ہو،مثلاً کسی کا پیر خراب ہے، اِس کے عوض کوئی دوسرا اپنا پیر دے دے، مثلاً کسی کی اُنگلی کٹ گئی ہے اورکسی اور کی اُنگلی اُسے لگا دی جائے یا اسی طرح کے وہ اعضاء جن سے زندگی کا تعلق نہیں ہے، بہتر زندگی کا تعلق ہوسکتا ہے۔علمائے کرام اورمراجع عظّامِ مکتبِ اہل بیت ؓاِس طرح کے اعضاء کے اہداء کی اجازت نہیں دیتے، بلکہ اسے حرام قراردیتے ہیں۔

دوسری صورت ہے ایسے عضو کا عطیہ کرنا اور لینا جس سے جان اور زندگی کا تعلق ہو، جس کی واضح مثال شاید گردے اور جگر کا مسئلہ ہے۔ ایک شخص کے دونوں گردے فیل ہوگئے ہیں اور ایک شخص ایک گردے پر زندگی گزار سکتا ہے تو وہ اپنا ایک گردہ اُسے دے دے جس کے دونوں گردے ناکارہ ہوچکے ہیں۔اِس طرح وہ بھی زندگی گزار سکتا ہے اوریہ بھی زندگی گزار سکتا ہے۔ اِس حوالے سے چند اور ضمنی اور ذیلی شرط و شرائط کو تصور کرنے کے بعد علمائے کرام اِسے نہ صرف جائز کہتے ہیں بلکہ بعض مراحل میں واجب قرار دیتے ہیں۔

یہاں ایک مسئلہ پیش آتا ہے اور وہ ہے مسئلہئ تزاحم۔ایک جانب جان بچانا واجب اورایک جانب اپنے آپ کو نقصان پہنچانا حرام۔یہ جو اپنے آپ کو نقصان پہنچانا حرام ہے اور دُوسرے کی جان بچانا واجب ہے، اس میں مصلحت اور مفسدہ کو موردِ گفتگو قرار دیا جائے گا۔مصلحت کتنی ہے اور مفسدہ کتنا ہے؟مفسدہ یہ ہے کہ ایک انسان اپنا عضو دیتا ہے تو بہر حال وہ ناقص ہوتا ہے۔اِس میں ایک کمی اور خرابی واقع ہوتی ہے، یہ مفسدہ ہے۔ اور جس کو دے رہا ہے اُس کی زندگی بحال ہوجاتی ہے، یہ مصلحت ہے۔تو اِس میں تولا جائے گا کہ اِس میں کتنی مصلحت ہے اور کتنا مفسدہ ہے۔مثلاً ایک بہت ضعیف العمر انسان ہے،جس کی طبعی عمر اتنی ہوچکی ہے جس کے بعد وہ شاید ایک دو سال سے زیادہ زندگی نہ گزار سکے اور ایک بچہ ہے، جوان ہے، وہ اپنا ایک گردہ اِسے دے دے جس کی زندگی تقریباً عرفی اعتبا رسے مکمل ہونے کو ہے اور اِس کو اب ایک زندگی گزارنی تھی۔ تو یہ خود طے کریں گے کہ مصلحت کتنی ہے اورمفسدہ کتنا ہے۔البتہ جب یہ طے ہوجائے اور مصلحت غالب آجائے تو خاص طور پر گردوں اور جگر کی پیوند کاری میں علمائے کرام فرماتے ہیں کہ یہ لینانہ صرف جائز بلکہ واجب ہے۔

تیسری صورت وہ ہے کہ دل زندہ ہو اور دماغ مرچکا ہو، تو دل، پھیپھڑے، جگر اور اِس طرح کی اور چیزوں کو کسی اور مریض کے حوالے کرکے اُس کو زندگی دی جائے۔ایسے میں لینے والا بچ جائے گا مگر دینے والا مرجائے گا۔بقول شاعر:

کیا خاک وہ جینا ہے جو اپنے ہی لیے ہو

خود مٹ کے کسی اور کو مٹنے سے بچالے

اِس میں وصیت کو موردِ گفتگو قرار دیا جائے گا کہ اُس نے اگر وصیت کی ہے، تو یہ چیز جائز ہے اور اگر وصیت نہیں کی ہے تو یہ کام نہیں کیا جاسکتا۔اگر وصیت بھی کی ہے تو پھر دوسری شق بنے گی کہ وارثوں سے دیت کے بارے میں طے کیا جائے گا اور وارث ایک بٹا تین(ثلث)میں اختیار رکھتے ہیں کہ وہ اجازت دیں یا نہ دیں یا اِس کے عوض دیت لے لیں یا بغیر عوض کے اسے قبول کرلیں۔

انسان کے بدن کا بڑا احترام ہے، حتیٰ کہ حج کے موقع پر،پروردگارِ عالم بال توڑنے کی بھی اجازت نہیں دیتا، ہمیں اپنے بدن کو تکلیف پہنچانے کی اجازت نہیں دیتا، مگر شرط و شرائط کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے، مصلحت اگر بلند ہو اور زیادہ ہو تو پھر ہم اپنے بدن کو تکلیف پہنچا سکتے ہیں۔اِسی طرح ایک انسان جو مسلمان ہے، اُس کے بدن میں جب نقص یا خرابی آئے گی تو مثلہ کی ایک بحث آتی ہے،جس کے بارے میں قاعدہ اور قانون یہ ہے کہ اگر انتقام، اذیت، آزار،ذلیل و رُسوا اور بے وقعت کرنے کے لیے ایسا کیا جارہا ہو،تومثلہ کہلائے گا ورنہ مثلہ کے مصداق سے بھی خارج رہے گا۔

خلاصہئ بحث یہ کہ انسان جتنا اپنی زندگی میں اِن حدود کے اندر رہے، جنھیں اللہ نے طے کیا ہے،مثلاً وہ طویل مسافت طے کرکے کسی کی زندگی کی خدمت کرتا ہے، وہ غریق کو نجات دینے کے لیے، اُسے بچانے کے لیے خود بھی دریا یا سمندر میں کُود جاتا ہے۔

اعضاء کے عطیے کے حوالے سے سب سے زیادہ واضح اور روشن موضوع گردوں کی پیوند کاری کا ہے، چوں کہ ایک شخص ایک گردے پر زندگی گزار سکتا ہے، دوسرے شخص کے چوں کہ دونوں گردے خراب ہوچکے ہیں، اُسے اگر ایک گردہ مل جائے تو و ہ بھی زندگی گزار سکتا ہے، اِس طرح دو افراد اِس معاشرے میں زندگی گزار سکتے ہیں۔ اِن تمام شرائط کے تحت اگر گردوں کی پیوند کاری ہو تو نہ صرف جائز بلکہ واجب عمل قرار پایا ہے۔

۔۔۔۔۔

مزید :

ایڈیشن 1 -