اس خلوص کی قسم

اس خلوص کی قسم

  

سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے انتقال کے ساتھ برصغیر پاک و ہند کی تحریک آزادی کا وہ زندگی افروز اور دلآویز باب ختم ہوگیا۔ جس میں آزادی کی خاطر جسمانی اور روحانی صعوبتیں سہنا عبادت کا درجہ اختیار کر گیا تھا۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا وجود گرامی اس مقدس جدوجہد کا مجسم نشان تھا۔ ان کے سیاسی مخالفین کو بھی ہمیشہ اس حقیقت کا اعتراف رہا کہ شاہ جی ہر قسم کی مصلحت اور نوعی مفاد سے قطعی طور پر بلند تھے ان کا خلوص اتنا بے داغ اور اتنا بے لوث تھا کہ ان کے انتقال کے صدیوں بعد بھی اس خلوص اور اس نیک نیتی کی قسم کھائی جاتی رہے گی تحریک آزادی کو شاہ جی کی شخصیت سے ا لگ کر کے دیکھا جائے تو اس میں اس دبدبے اور اس طنطنے اس حسن اظہار اور اس جمال مدعا کی شدید کمی پیدا ہوجاتی ہے جو شاہ جی مرحوم کی شخصیت کے نمایاں عنصر تھے۔ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری مرحوم و مغفور مسلمانوں کی تحریک آزادی اور ان کے دینی شعور کی تاریخ کے ایک ایسے عظیم کردار تھے کہ محض بطور مثال اگر اس ایک کردار سے صرف نظر کر لیا جائے تو پوری تاریخ کی عمارت ڈولنے لگتی ہے۔ دراصل ہم عجیب و غریب ذاتی اور گروہی تعصبات میں مبتلا لوگ ہیں چنانچہ اپنی تاریخ ساز شخصیتوں کو بھی انہی تعصبات کے محدود دائروں میں رکھ کر پرکھتے ہیں اور اثبات کی بجائے نفی سے بہت محظوظ ہوتے ہیں۔ ہماری یہ ذہنیت ہمارا بہت بڑا المیہ ہے۔ شاہ جی کی ہمہ گیر شخصیت کے ساتھ بھی ہم نے کچھ ایسا ہی رویہ رکھا ہے، ورنہ اپنے ہم وطنوں، خصوصاً مسلمان ہم وطنوں کے ذہنوں میں انھوں نے برطانوی استعمارو استبداد کے خلاف جو غیر مشروط نفرت پیدا کی اور مسلمانوں کے دلوں میں اسلام کی حریت پسندانہ روایت کی جو مشعلیں انہوں نے روشن کیں وہ ہماری سیاست اور ہمارے دین و دانش کی وہ اقدار ہیں جنھوں نے ہماری شخصیتیں تعمیر کی ہیں اور ہمارے جذبوں اور امنگوں کی تربیت اور تہذیب کی ہے۔

تحریک پاکستان کا ساتھ نہ دینے والوں میں شاہ جی واحد شخصیت تھے جنہوں نے قیام پاکستان کے فوراً بعد اپنی رائے کی شکست کا واشگاف الفاظ میں اعتراف کرلیا۔ حق بات یہ ہے کہ اس طرح کے تاریخی اعترافات عظیم لوگ ہی کرسکتے ہیں، ورنہ دوسرے حضرات تو اپنے سابقہ طرز عمل کی تاویلیں ہی کرتے رہ جاتے ہیں؟ نظریہ ئپاکستان کے دور حاضر کے ٹھیکیداروں کا طریق کار اب تک یہی ہے کہ تاویل کرتے ہیں اور تاویل نہ کرسکیں تو اپنی کتابوں سے پاکستان کی مخالفت میں کہے گئے جملے حذف فرمادیتے ہیں۔ میری حیثیت ان کے ایک ادنیٰ عقیدت مند کی ہے۔ 1933ء کے آس پاس کا ذکر ہے میں بہاول پور کے کالج میں طالب علم تھا۔خبر گرم ہوئی کہ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری نماز عشاء کے بعد مسجد جامع میں تقریر فرمائیں گے۔ طلبہ نے شاہ جی کی ساحرانہ خطابت کے قصے سن رکھے تھے، چنانچہ ہم لوگ مسجد جامع پہنچے اور زندگی میں پہلی بار شاہ جی کی خطابت کے اعجاز سے متعارف ہوئے میں نے اس عمر میں ایسی مؤثر تقریر تو کیا سنی ہوگی ایسی مؤثر تحریر بھی نہیں پڑھی تھی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ الفاظ کا ایک لشکر ان کے سامنے دست بستہ حاضر ہے اور وہ ہردلیل، ہر نکتے، ہر جذبے کے لئے ایسے مناسب الفاظ استعمال فرما رہے ہیں کہ بلاغت کے اصولوں کے مطابق اس سے زیادہ مناسب الفاظ کا تصور تک محال ہے۔ اس پر مستزاد اُن کا انتخاب اشعار تھا کہ معلوم ہوتا تھا یہ شعر خاص اسی صورت حال کے لئے شاعر کے دل پر وارد ہوا تھا۔

آیات قرآنی کی قرأت کا انداز بھی منفرد تھا اور اشعار بھی وہ ایسے لحن سے ادا فرماتے تھے کہ خود شاعر بھی اپنا شعر شاہ جی کی لحن میں سنتا تو پکار اٹھتا کہ میرے شعر کو تخلیق کے بعد آج فن کی معراج نصیب ہوئی۔ شاہ جی کی یہ تقریر نصف شب کے بعد تک جاری رہی پھر اچانک انہوں نے گھڑی دیکھی اور ہاتھ دعا کے لئے اٹھا دیئے یہ دعا بجائے خود فصاحت و بلاغت کا ایک شاہکار تھی۔ دوران دعا کسی نے عرض کیاکہ بارش کی بھی دعا فرما دیں۔ شاہ جی نے موسلادھار بارش کی دعا مانگی اور ابھی بارش کی دعا ختم نہیں کر پائے تھے کہ مجمع میں سے کسی کی آواز آئی ”قبلہ شاہ جی ہمیں اتنی زیادہ بارش نہیں چاہیے، ہم غریبوں کے گھر کچے ہیں شاہ جی نے یہ سنا تو دعا کے لئے اٹھے ہوئے ہاتھ گرادیئے اور اسلام میں اعتدال اورمیانہ روی کے موضوع پرنئی تقریر کا سلسلہ شروع ہوا جو نماز فجر کی اذان تک جاری رہا اور اس تمام عرصے میں لوگ جوق در جوق آتے تو رہے،لیکن اٹھ کر گیا ایک بھی نہیں اور جاتے بھی کیسے سب شاہ جی کی تقریر کی ساحرانہ گرفت میں تھے۔ اس کے بعد مجھے لاہور میں بیرون دلی دروازہ شاہ جی کی متعدد تقریریں سننے کا شرف حاصل ہوا اور جو بھی تقریر سنی، سابقہ تقریروں کے مقابلے میں بالکل نئی اور زیادہ مؤثر محسوس ہوئی۔ آج ان تقریروں کو یاد کرتا ہوں تو اپنا ہی ایک شعر میرے ذہن میں گونجنے لگتا ہے۔

جب بھی دیکھا ہے تجھے، عالم نو دیکھا ہے

مرحلہ طے نہ ہوا تیری شناسائی کا

میں نے بالمشافہ شناسائی کا یہ مرحلہ بھی طے کرنا چاہا اور ایک بار ملتان میں ان کی خدمت میں حاضر بھی ہوا،مگر جس شفقت سے شاہ جی نے میری پذیرائی فرمائی اور جس محبت سے انھوں نے مجھے سینے سے لگایا، پھر جس عالی ظرفی سے انہوں نے مجھے خود میرے ہی اشعار سنانے شروع کیے کہ آبدیدہ بھی ہوجاتے تھے، داد بھی دیتے جاتے تھے اور میرے حق میں دعا بھی فرماتے جاتے تھے، تو مجھے محسوس ہوا کہ شاہ جی تو مجھ سے مدتوں سے متعارف ہیں اور اپنے فن کے بارے میں خود مجھے اتنی معلومات حاصل نہیں جتنی ہماری تاریخ کی اس عظیم شخصیت کو حاصل ہیں دراصل یہ بالواسطہ اظہار تھا اس حقیقت کا کہ ہمارے بڑے جب اپنے سے بہت چھوٹوں کو بھی بڑا بنا کر پیش کرتے ہیں تو یہ ان بڑوں کی فراخ دلی اور وسیع النظری بھی ہوتی ہے او رجو ہر قابل کی حوصلہ افزائی بھی کہ یہ سلسلہ رک نہ جائے آگے بڑھتا جائے۔ میں نے اپنے ارباب سیاست اور زعمائے دین میں شاہ جی سے بڑا شعر شناس کبھی نہیں دیکھا۔

ذاتی طور پر مجھے ان کی ہمہ جہت شخصیت کے اس ایک پہلو سے بے پناہ عقیدت تھی یہ پہلوان کی تقریروں کی روانی اور ان کے بیان کی لطافت کی صورت میں نمایاں ضرور ہوتا ہے، جبکہ شاہ جی سیاسیات سے ہٹ کر صرف شعروسخن کی طرف متوجہ ہوتے تھے اگر ایک بہت بڑا شاعر ہونا بہت بڑی سعادت ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ ایک بہت بڑا شعر شناس ہونا بھی کم سعادت نہیں ہے اور شاہ جی اتنے بڑے شعر شناس تھے کہ شاعر کی نفسیات کی گہرائیوں میں اتر جاتے تھے اور شعر کی داد ہمیشہ اس پہلو سے دیتے تھے جو خود شاعر کی نظرمیں اس کی متاع عزیز ہوتا تھا۔ اچھا شعر ان کے دل میں ترازو ہوجاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں وہ سعدی و حافظ اور غالب و اقبال کے اشعار کو اپنی معجزہ کار تقریروں کی زینت بناتے تھے وہیں ہم لوگوں کے اشعار کو بھی یہ عزت بخشنے سے گریز نہیں فرماتے تھے۔ حالانکہ جب ہمیں یہ عزت دی گئی تب ہماری حیثیت نو مشق نوجوانوں سے زیادہ نہیں تھی۔ یہ شاہ جی کی بھر پور اور ہمہ اثر شخصیت کا ایک ایسا پہلو ہے جو انہیں ہماری دینی اور سیاسی تحریکوں کے علاوہ ہماری تہذیبی نشأۃ ثانیہ کا بھی ایک حامل کردار ثابت کرتا ہے۔

یوں ان کے انتقال سے صرف سیاست کی دنیا ہی نہیں لٹی، بلکہ شعرو سخن کی دنیا بھی اجڑ گئی وہ دلاویز حکایت یکایک ختم ہوگئی جو عرفی، غالب اور اقبال نے قائم کی تھی، وہ رشتہ اچانک ٹوٹ گیا جس کے دم سے ہم ٹیپو سلطان شہید اور سید احمدشہید کی روحوں کو اپنا نگران سمجھتے تھے۔ خدا ہمیں شاہ جی کی عالی حوصلگی، جرأت مندی، صداقت پسندی اور بے باکی کے ساتھ ان کے حسن ذوق کی پیروی کرنے کی توفیق بخشے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -