فلیش پوائنٹ

فلیش پوائنٹ
فلیش پوائنٹ

  

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی فاشٹ ہندو توا حکومت نے بہت سی اقلیتوں والے سیکولر بھارت کا نعرہ آخرکار 5اگست 2019زمین میں دفن کردیااس حرکت سے اب کشمیرمیں بھارت کی موجودگی فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے سے مماثلت پید اہوگئی ہے فرق صرف یہ ہے کہ کشمیر کی لہولہان سرزمین اب دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان فلیش پوائنٹ بن گئی ہے۔

مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کرکے سلامتی کونسل کی قرار دادوں کی نفی اور عالمی قوانین کی دھجیاں اڑادی ہیں در حقیقت بھارت نے پاکستان کی سلامتی پر وار کیا ہے اس کو 27 فروری کی طرح منہ توڑ جواب دینا ہوگا۔ پاکستان کے 22 کروڑ عوام سیاسی و عسکری قیادت کی پشت پر کھڑے ہیں۔ بھارت نے خطے کی سالمیت کو داؤ پر لگادیا ہے عالمی برادری نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اپنا بھرپور کردار ادا نہ کیا تو سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔ بھارتی حکام پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں لمحہ فکریہ ہے کہ بھارت بلوچستان میں جارحیت اور پاکستان کے مختلف حصوں میں دہشت گردی کو سپورٹ کررہا ہے آئے روز بھارتی حکمران پاکستان کو کھلم کھلا دھمکیاں دیتے ہیں بھارتی میڈیا تو خیر وزیراعظم مودی خود کئی بار پاکستان کے خلاف زہر اگل چکے ہیں مسئلہ کشمیر اور خطے میں بھارت کے گھناؤنے کردار پر عالمی برادری کا دہرا معیار افسوسناک ہے لیکن عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن یادیو کے خلاف فیصلے کے بعد بھارت بوکھلاہٹ کا شکارہے مقبوضہ کشمیر میں مزید 34 ہزار فوجیوں کی تعیناتی نے ثابت کردیا ہے کہ بھارت کشمیریوں کے جذبہ حریت کو دبانے میں بری طرح ناکام ہے۔

بھارت ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت وہاں مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی کوشش کررہا ہے ہمیں ذاتی اختلافات سے بالا تر ہوکر جرأ ت اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو پوری دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہئے اور بھارت کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات کو مکمل طور پر ختم کرنا چاہئے اس کی متعصبانہ پالیسیوں کے غیر ذمہ دارانہ وزیر دفاع کے بیانوں نے ایٹمی جنگ کے حالات پیدا کردیئے ہیں عالمی برادری نے اگر اب بھی نہتے کشمیریوں کے لئے آواز بلند نہ کی تو پوری دنیا کا امن تہ و بالا ہوجائے گا بھارت نے پاکستان کی سلامتی پر وار کیا ہے اس کو بھرپور جواب دینا ہوگا وہ پاکستان کا دوست نہیں بلکہ دشمن ہے جس نے ہمیشہ پاکستان کے مفادات کونقصان پہنچایا ہے اس کے ساتھ دوستی پیار محبت اور امن کی آشا کی باتیں ا کرنے والے آج کہیں نظر نہیں آتے انہوں نے کشمیریوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے لیکن پاکستانی قوم ہمیشہ کشمیر کی آزادی اور حق خود ارادیت کی حمایت جاری رکھیں گی پاک فوج نے واضح پیغام دے دیا ہے کہ اگر کسی بھی قسم کے مس ایڈوانچر کی کوشش کی گئی تو 27 فروری کی طرح کا سرپرائز دیں گے ہم ہر طرح سے تیار ہیں پاک افواج کے پیچھے پوری قوم کھڑی ہے 22 کروڑ عوام 22 کروڑ فوج بن جائے گی جس میں یہ خاکسار قلم چھوڑ کر بندوق اٹھاکر بارڈر کی طرف فوج کے شانہ بشانہ کھڑا ہوجائے گا مقبوضہ کشمیر کی اپنی حیثیت کی تبدیلی کی بھارتی کوشش اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی خلاف ورزی ہے بھارتی اقدامات سے دو ایٹمی طاقتوں کے تعلقات خراب اور علاقائی سلامتی بھی متاثر ہوسکتی ہے کیونکہ دونوں ممالک کی سرحدیں ساتھ ساتھ ہیں۔

مہذب دنیا جو باتیں کرتی ہیں ان پر عملدرآمد کرے ہم حق خود ارادیت کیلئے جدوجہد پر کشمیریوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کشمیر پاکستانیوں کے دلوں کی دھڑکن ہے بھارت نے مکروہ اقدامات کے ذریعے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرکے محض اپنے مکروہ چہرے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں احتجاج ہر طاقت کا بے دریغ استعمال کیا جارہا ہے بھارت نے کشمیر کے اہم رہنماؤں کو نظر بند کررکھا ہے محبوبہ مفتی نے تقسیم ہند پر ساتھ نہ دینے پر اور بھارت میں ہی رہ جانے پر اپنے بزرگوں کی طرف سے معافی مانگی اور کہا کہ تقسیم ہند بالکل ٹھیک تھی 72 برسوں سے کشمیری حق خود ارادیت کے منتظر ہیں مگر بھارت نے اپنی آٹھ لاکھ فوج کے ذریعے نہتے کشمیریوں کی آزادی کو سلب کررکھا ہے برہان وانی کی شہادت کے بعد سے اٹھنے والی تحریک آزادی وادی کشمیر کے کونے کونے میں پھیل چکی ہے بھارتی مظالم کے باوجود کشمیری عوام سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرتے نظر آتے ہیں بھارت اگر کشمیری عوام پر مظالم کے پہاڑ توڑ رہا یہ تو اس میں اصل قصور ان عالمی اداروں اور طاقتوں کا ہے جو مسلمانوں کے ساتھ دہرا معیار اختیار کئے ہوئے ہیں پوری قوم کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کیساتھ ہے

پاکستان اور کشمیر دو جسم ایک جاں ہیں جب تک ہمارے جسم میں جان ہے اور پاک فوج کا آخری سپاہی بھی اپنے جسم میں خون کا آخری قطرہ بہانے سے دریغ نہیں کرے گا کشمیر کی حفاظت کی جائے گی انشاء اللہ وہ وقت دور نہیں جب کشمیر میں آزادی کا سورج طلوع ہوگا اور کشمیری بھی دنیا کی دیگر قوموں کی طرح ایک آزاد فضاء میں سانس لیں گے۔ دنیا کو دکھانے کیلئے سیکولر ازم کا نعرہ لگانے والی بھارت کی نسلی عصبیت کی شکار قیادت مسلسل دنیا کے امن کیلئے سنگین خطرہ بنی ہوئی ہے امریکہ افغانستان میں اپنے کردار کو محدود کررہا ہے اور کشمیر کو متنازعہ قراردے کر کشمیر میں بیٹھ کر چین اور پاکستان پر نظر رکھنا چاہتا ہے یہ ہے امریکہ کا ثالثی کردار لیکن عالمی برادری نے کشمیری اور فلسطینی عوام سے کئی وعدے کیے مگر نہ تو کشمیری عوام سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق استصواب رائے کا حق حاصل کرسکے اور نہ یہ فلسطینیوں کو عالمی اداروں سے انصاف ملا امریکہ اور یورپی ممالک کو مسلمانوں کے حوالے سے اپنے دہرے معیار کو بدلنا ہوگا۔

مزید :

رائے -کالم -