کشمیر…… حکایت خونچکاں

کشمیر…… حکایت خونچکاں
کشمیر…… حکایت خونچکاں

  

کشمیر میرا دل، میری جاں، اس کی داستان لکھوں تو کیسے کہ میرا خامہ لہو لہو…… مری انگلیاں فگار…… میرا تعلق پاکستان کی اولین نسلوں سے ہے جن کا کشمیر سے اٹوٹ رشتہ ہے۔ ہمیشہ سے سنا اور محسوس کیا کہ پاکستان کشمیر کے بغیر نامکمل ہے کیونکہ وہ پاکستان کی شہ رگ ہے۔ یہ داستانِ عشق ستر برسوں پر محیط ہے۔ پاکستان کی کسی حکومت نے اس موقف سے انحراف نہیں کیا۔ چاہے وہ سویلین ہو یا فوجی۔ دوسری طرف کشمیری کبھی اپنی شناخت سے دست بردار نہیں ہوئے۔ ان کے لئے اور ہمارے لئے یہ 1955ء کا نامکمل ایجنڈا ہے، لیکن وقت کی آندھیوں اور ہماری قیادتوں کی مصلحت کوشی اور بڑی حد تک کمزوریوں نے اسے دھندلا دیا، بلکہ آہستہ آہستہ ارباب اختیار اس کے ذکر سے بھی گھبرانے لگے۔ مزید وقت گزرنے کے ساتھ صاحبانِ اقتدار کے لب سلنے لگے۔ اگرچہ اس دوران کشمیر میں ظلم و ستم کی آگ بھڑک گئی۔ آزادی کے پروانوں کو انتہاپسند کہا جانے لگا، مگر جتنا ظلم بڑھا اتنا ہی کشمیری نوجوانوں کے دلوں میں آزادی کی آرزو آگ کی طرح بھڑکتی گئی۔

اس دوران بھارت میں معتدل جماعتوں کے بجائے انتہا پسند کٹر ہندوؤں کا زور بڑھنے لگا۔ انہیں بھارت کی کارپوریٹ دنیا کا سرمایہ، جرائم پیشہ مافیاز اور بدعنوان سیاست دانوں کی حمائت حاصل رہی، بلکہ اس میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ مودی حکومت کا فلسفہ ہندوتوا، نسل پرستوں کی آمریت، اقلیتوں کی حق تلفی میں دلخراش شدت آتی گئی۔ کبھی انہوں نے بابری مسجد کو ڈھایا اور رام بھومی کا ڈرامہ رچایا۔کبھی انہوں نے سمجھوتہ ایکسپریس کی چتا جلائی، کبھی گجرات میں بے گناہ مسلمانوں کے قتل عام سے شہرت اور مقبولیت حاصل کی۔ مودی اور اس کے ساتھی اس امر سے بخوبی آگاہ ہیں کہ بے دریغ تشدد کے بعد وہ شدت پسند متعصب ہندوؤں میں پہلے سے زیادہ پوجے جاتے ہیں۔ نفسیاتی تجزیے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ تشدد اور خون بہانے سے انہیں خاص قسم کی طمانیت حاصل ہوتی ہے جو نفسیاتی اصطلاحوں میں انہیں ایک غیر معمولی احساس برتری بخشی ہے۔ اور اپنے دیس کی ایسی پستی کا شعور نہیں ہونے دیتی جہاں کوڑے کے ڈھیروں سے کتے بلیوں کے علاوہ انسان بھی گندگی سے پیٹ بھر رہے ہیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جس دن بھارت نے ایٹمی دھماکا کیا تھا، اسی دن دور درشن سے دکھائی دیا کہ دہلی کے ایک ہسپتال کے باہر کسی لاوارث کی لاش گندگی کے ڈھیر پر بے گور و کفن پھینکی جا رہی تھی اور اسمبلی کے باہر ایک دلت کو سڑک پر بے دردی سے گھسیٹا جا رہا تھا۔

ایک فورم میں کسی مبصر نے کہا کہ دس سال بعد پاکستان میں ایسی قیادت آئی جس نے کشمیر کے مسئلے کو دلیری سے دوبارہ زندہ کیا۔ میری رائے میں ستر برسوں میں بھارت میں ایسی قیادت آئی ہے، جس نے نادانستہ طور پر مسئلہ کشمیر کے سرد ہوتے ہوئے جسم میں روح پھونکی،یعنی اسے بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنا ڈالا۔ یہ بھارت کے سیاسی پنڈتوں کا کرشمہ ہے کہ بیک جنبشِ قلم انہوں نے بھارت کے آئین کو بدل کر بھارت کے سیکولزم اور گاندھی کے عدم تشدد کے فلسفے کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوڑ ڈالا۔ کشمیر کو دنیا سے منقطع کیا، کرفیو اور ایک قسم کا مارشل لاء نافذ کر ڈالا، خبروں کا مکمل بلیک آؤٹ، وادی میں سیاحوں اور صحافیوں کی آمد و رفت کی ممانعت، گویا ان تمام اقدامات سے جنت نظیر کو جہنم بے نظیر بنائے اور خاموش سیاہ کفن میں دفن کرنے کا عمل مکمل کر لیا۔

میرا دل صد پارہ ہے کہ عجب بے قراری سی ہے۔ بے چینی سی ہے۔ سو وسوے اور اندیشے ہیں۔ پاکستانی دم بخود ہیں۔ یہ سب کچھ کیسے ہو گیا۔ یہ وقت میں میراجعت، کیا ہم واپس 1947ء میں چلے گئے ہیں۔ ہم دم بخود ہیں اور اقوام عالم خاموش تماشائی۔امہ کہاں ہے؟ معلوم نہیں یا پھر وہ صرف ایک لفظ تھا۔ ایک خیال جو خواب ہو گیا۔

ایسے میں مندرجہ ذیل سوالوں کا سامنا ہے:

(ا)کشمیر کے اندر کیا ہو رہا ہے؟

(ب)مودی حکومت کا اگلا منصوبہ کیا ہے؟

(ج)پاکستان کیا کر رہا ہے؟

پہلے سوال کا جواب ندارد کہ کشمیر کے دنیا سے رابطے مکمل طور پر کاٹ دیئے گئے ہیں۔ دوسرے سوال کے جواب میں صرف قیاس آرائی کی جا سکتی ہے۔ شاید مودی بھارت کی طاقت کے گھمنڈ میں مزید کچھ کر گزرے۔ شاید آزاد کشمیر یا شاہراہ قراقرم اگلے ہدف ہوں یا پھر ان کا پرانا خواب یعنی لاہور میں شام۔ فی الحال کچھ بھی یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتا۔ کہتے ہیں سائیکو (Psycho) کا ذہن عام آدمیوں کی اکثریت سے مختلف انداز میں چلتا ہے۔ خبط عظمت بھی ایک ذہنی بیماری ہے۔ اس کا شکار احساسِ برتری کی بناء پر خود اعتمادی کا وصف رکھتا ہے اور دوسروں سے اپنے آپ کو ہوشیار اور برتر جانتا ہے۔

(د) پاکستان کیا کر رہا ہے؟

بھارت سے سفارتی رابطے ختم، تجارت بند جو ویسے بھی بیکار قسم کی تھی اور نہ ہونے کے برابر تھی۔ وزیرخارجہ کے دورے جب چڑیاں چگ گئیں کھیت، پھر بھی کچھ نہ کرنے سے کچھ کرنا اچھا ہے۔ سیکیورٹی کونسل کا اجلاس، چین سے مشاورت…… بہت خوب۔ امریکہ سے زیادہ توقعات شاید نکسن کے بحری بیڑہ کی طرح جو آج تک نہ پہنچ سکا۔ٹی وی پروگرام…… شاید چند سیمینار…… اچھی کاوشیں۔ برطانیہ میں پاکستانی شہری اور کشمیریوں سے زیادہ متحرک ہونے کو کہا جائے وغیرہ وغیرہ۔

یہ سب کچھ بہت قابل تعریف ہوگا، لیکن میرا دل ابھی بہت آزردہ ہے کہ کشمیر سب سے پہلے ایک انسانی مسئلہ ہے۔ وہاں وادی کے گھروں میں محصور، دنیا سے کٹے ہوئے، معصوم بچوں، بے بس خواتین، بزرگوں اور نوجوانوں تک غذا، دوا اور طبی امداد کیسے پہنچائی جائے؟

اے دنیا کے منصفو! میرا تم سے یہ سوال ہے کہ کیا ہم ان کی جان و مال کے علاوہ ان کی عزت اور عزتِ نفس کو بچا سکیں گے؟

مزید :

رائے -کالم -