پہاڑوں کی سیر

پہاڑوں کی سیر
پہاڑوں کی سیر

  

رات بالاکوٹ کے پی ٹی ڈی سی موٹل میں گزارنے کے بعد میں اُٹھا، گاڑی سٹارٹ کی اور ناران کا رخ کیا۔بالاکوٹ میں، میں ہمیشہ ڈاک بنگلے میں ٹہرتا تھا۔ڈاک بنگلے والے کمرے کے سامنے ایک بہت بڑا پتھر تھا جسے میرین سٹون کہتے تھے۔ روایت ہے کہ ایک پاگل عورت سر پر یہ پتھر رکھے یہاں آرام کرنے کو رکی۔ تھوڑی دیر آرام کے بعدپتھر وہیں رکھ کر چلی گئی۔ وہ پتھر اس قدر وزنی تھا کہ باوجود کوشش کے پندرہ بیس آدمی بھی اسے نہ ہلا سکے۔ چنانچہ وہاں پڑا، اس عورت مریم کے نام سے موسوم وہ پتھر سیاحوں کے لئے ایک پُرکشش چیز تھی۔ آج وہ ڈاک بنگلہ زلزلے کی وجہ سے مکمل تباہ ہو چکا۔اس کی خالی جگہ سے ملحق آج کل پی ٹی ڈی سی موٹل ہے۔ رات سے ہلکی ہلکی بارش جاری تھی۔وادی کاغان کو جانے والی سڑک آج بڑی کھلی اور خوبصورت ہے۔ میں سوچنے لگا کہ وقت کے ساتھ چیزیں کیسے بدل جاتی ہیں۔ میں چودہ برس کی عمر میں پہلی دفعہ 1965ء میں یہاں آیا تھا۔اس وقت یہ راستہ ایک پتلی پگڈندی کی طرح تھا۔زیادہ تر سرکاری محکمے جی ٹی ایس کی جیپیں اس روٹ پر چلتی تھیں۔

راستہ چار گھنٹے آنے کے لئے اور چار گھنٹے جانے کے لئے کھلتا تھا۔ اس لئے کہ اگر آمنے سامنے دو جیپیں آ جائیں تو گزرنا ممکن ہی نہیں تھا۔ ناران میں یا تو پی ٹی ڈی سی ہوٹل نہیں تھایا شاید بالکل چھوٹا سا ہوٹل ہوتا تھا۔ 1973ء میں بہرحال یہ موجود تھا،جس کے چند کمرے اورکچھ خیمے تھے۔ 1965ء میں بہترین رہائش یوتھ ہوسٹل تھاجو اب نایاب ہے۔جی ٹی ایس کا ریسٹ ہاؤس اسی سال بنا تھا۔ شاید اس میں ہم پہلے مقیم تھے۔ ہوٹل اور پکی دکانیں نہیں کھوکھے ہی کھوکھے تھے۔ کھوکھوں پر مشتمل چھوٹا سا بازار۔ جیپ ناران کی طرف گامزن تھی۔ سب سہمے سہمے بیٹھے تھے۔ گھر کے کسی فرد نے ڈرائیور سے پوچھا، اتنا خطرناک راستہ، حادثات تو بہت ہوتے ہوں گے۔ڈرائیور فوراً بولا۔ وہ تو روز کی بات ہے۔ وہ نیچے دیکھیں، ایک ٹوٹی ہوئی جیپ نظر آ رہی ہے۔ پانچ آدمیوں سمیت گری تھی، پانچوں آج تک مل نہیں پائے۔وہ سامنے آگے کی طرف دیکھیں۔ ایک چھوٹی بس گری ہوئی ہے۔ پندرہ بندے اس میں بیٹھے تھے۔احمق ڈرائیور تھا، یہاں جیپ کا راستہ مشکل ہے وہ بس لے کر آ گیا تھا۔ سب ہلاک ہو گئے۔ ابھی موڑ کے بعد آپ کو دکھاتا ہوں،دو جیپیں چکنا چور نیچے پڑی ہیں۔ گیارہ بارہ بندے ان میں تھے……ابھی اس کی بات ختم نہ ہوئی تھی کہ ماں جی، میری دادی مرحومہ جو اس وقت جیپ میں ہمارے ساتھ سفر میں تھیں،ناراض ہو گئیں۔ ڈرائیور سے کہنے لگیں۔چپ کرو، نظر نہیں آتا، ہم پہلے ہی خوف سے آنکھیں بند کئے بیٹھے ہیں، تم ہولناک کہانیاں سنا رہے ہو۔ ایسا ہی راستہ ہے تو واپس چلو ہمیں آگے نہیں جانا۔بڑی مشکل سے آگے جانے کے لئے ماں جی کو راضی کیا، اس کے بعد ڈرائیور گاڑی میں یوں بیٹھا تھا جیسے سانپ سونگھ گیا ہو۔

وادی کاغان انتہائی حسین وادی ہے۔اس کے حسن میں وہ کمال کشش ہے کہ آپ ایک دفعہ یہاں کا چکر لگا لیں تو یہ آپ کو بار بار بلاتا ہے۔میں کئی دفعہ یہاں آیا ہوں۔ وقت کے ساتھ ساتھ راستہ بہتر سے بہترین ہوتا گیا۔ہوٹل اچھے اور سہولیات بہتر سے بہتر ہو گئی ہیں۔ اب اس کا راستہ ایک شاندار کھلی سڑک ہے۔ ہم بالاکوٹ سے ابھی چند کلومیٹر ہی چلے تو بہت تیز بارش شروع ہو گئی۔ اس تیز بارش سے راستہ بھی دھندلا نظر آنے لگا۔ میں نے گاڑی روک لی اور ساتھ بیٹھی بیگم سے پوچھا، اتنی تیز بارش میں راستے میں کچھ حادثہ بھی ہو سکتا ہے اور اگر ہم خیریت سے ناران پہنچ گئے تو لینڈ سلائڈنگ کے نتیجے میں راستے بند ہو جائیں گے اور اب ہمیں دس دن یہیں رہنا اور راستہ کھلنے کا انتظار کرنا ہو گا۔ اگر تیار ہو تو آگے چلوں ورنہ واپس چلتے ہیں۔ فیصلہ واپسی کا ہواور ہم تیز بارش میں مانسہرہ اور ایبٹ آباد سے گزرتے چند گھنٹوں میں راولپنڈی پہنچ گئے۔رات کی خبروں نے میرے اندیشے کی تصدیق کر دی۔ لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں راستے بند ہو گئے اور بہت سے حادثات میں کئی جانیں بھی گئیں۔

پی ٹی ڈی سی حکومت پاکستان کا ادارہ ہے۔ اس ادارے کا مقصد سیاحت کا فروغ اور سیاحوں کو سہولتیں مہیا کرنا ہے۔تمام پہاڑی علاقے میں جگہ جگہ پی ٹی ڈی سی موٹل ہیں جو سیاحوں کو اس علاقے میں قیام کی بہترین سہولتیں فراہم کرتے ہیں۔میں 80ء اور 90ء کی دہائیوں میں چھٹیوں کے دو ماہ شمالی علاقہ جات ہی میں گزارتا تھا اور ہمیشہ قیام کے لئے پی ٹی ڈی سی موٹل میری انتہائی پسندیدہ جگہ تھی۔ صاف ستھرے کمرے،کشادہ اور ماڈرن اچھے باتھ روم، یہی ان موٹلز کی خوبی تھی۔ اس دفعہ بھی میں نے بالاکوٹ کے پی ٹی ڈی سی موٹل ہی میں رات قیام کیا۔مگر شدید مایوسی ہوئی۔ کمرہ تو کسی حد تک ٹھیک تھا، مگر واش روم انتہائی گندے۔ ایک دفعہ شکایت پر کمرہ بدلا بھی مگر واش روم انتہائی بدبودار۔ نئی تعمیر کے باوجود کوئی نل، کوئی کموڈ اور کوئی گٹر صحیح حالت میں نہیں تھا۔ شدید گرمی کے باوجود اے سی کا انتظام نہیں تھا۔ چلیں چونکہ گرمی چند دن ہی ہوتی ہے اِس لئے انہیں ضرورت محسوس نہیں ہوئی،مگر باتھ روم تو صاف ستھرے ہونا ضروری ہیں۔ حکومت کو ایسی چھوٹی چھوٹی چیزوں پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے، کیونکہ سیاحوں کو اچھے ماحول کی فراہمی ہمارے اچھے ملکی ماحول کی عکاس ہے۔

راولپنڈی میں میرا ایک بیٹا رہتا ہے یوں میرا وہاں بھی گھر ہے اور میں چھٹیوں میں کچھ دن وہاں گزارتا ہوں۔راولپنڈی قیام کے دوران ہم یعنی میں اور میری بیگم نے پہاڑوں کی سیر کرنے کا سوچا یہ سفر اس سلسلے کی کڑی تھی۔ ہم چلے تو سب سے پہلے ایبٹ آباد کے قریب ٹھنڈیانی کے خوبصورت پہاڑ پر پہنچے۔راستہ بلا کا حسین تھا۔ ایسا حسن جسے لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔ایک جگہ نیچے دریا اور دونوں طرف اونچے پہاڑ اور گھنے جنگل۔ چنار کے پیڑوں کے درمیان سڑک کے دوسری طرف چوٹی سے تھوڑا نیچے کسی ریٹائرڈ جنرل نے اپنے آبائی گاؤں میں ایک مسجد تعمیر کروائی ہوئی ہے۔ یہ مسجد وادی کے حسن کو دوبالا کر رہی تھی۔وہ جگہ جہاں کھڑا ہونا بھی میرے جیسے کے لئے دشوار ہو۔ ایسی ڈھلوان پر مسجد کسی کے زبردست جذبہ ایمان سے عبارت تھی،راستے کے حسن سے لطف اندوز ہوتا میں ٹھنڈیانی کے قرب میں پہنچ گیا۔ ٹھنڈیانی سے دو تین کلو میٹر پہلے بہت سے کھوکھا نما ہوٹل نظر آئے۔ صرف دو ایسے تھے جو قدرے معقول تھے، وہاں بیٹھ کر چائے پی جا سکتی ہے،ایک آدھ دن قیام بھی کیا جا سکتا ہے مگرٹھنڈیانی کی چوٹی پر جہاں لوگ رکتے ہیں، کوئی انتظام نہیں۔ ایک ریسٹ ہاؤس ہے، جس کی بکنگ ایبٹ آباد سے ہوتی ہے۔ وہاں کم لوگ قیام کرتے ہیں۔ چوٹی پر کچھ تنصیبات تھیں اور کچھ گیٹڈ رہائش گاہیں۔ بیٹھنے کے لئے کوئی معقول جگہ اور کوئی باتھ روم نہیں۔ ایک انتہائی گندی سی کینٹین اور چندکھوکھے یہ ٹھنڈیانی کا کل اثاثہ ہے،جتنی بڑی تعداد میں لوگ وہاں جاتے ہیں وہاں ایک اچھی کینٹین اور کچھ صاف ستھرے باتھ روم بڑے ضروری ہیں۔ محکمہ سیاحت اس طرف بھی توجہ دے۔

مجھے اب وادیئ کاغان جانا تھا۔ مقامی لوگوں سے پوچھ کر ایبٹ آباد کی بجائے میں نے بیچ کا ایک نیا راستہ اختیار کیا۔ یہ راستہ ٹھنڈیانی سے بوئی اور گڑھی حبیب اللہ سے ہوتا بالا کوٹ جاتا ہے۔یہ راستہ بھی بہت خوبصورت تھا، مگر سیاحتی اعتبار سے انتہائی بنجر۔ دوڈھائی گھنٹے کے سفر میں رکنے اور بیٹھنے کے لئے کوئی جگہ نہیں تھی۔ بوئی پہنچ کر میں رکا۔چائے کی طلب محسوس ہو رہی تھی۔ چائے کے گندے سے ہوٹل نظر آ رہے تھے۔ میں نے ایک دکان پر موجود ایک بزرگ سے،جو شاید اس علاقے کے عطائی ڈاکٹر تھے، پوچھا کہ یہاں کوئی اچھا ہوٹل بھی ہے۔ جواب ملا، ضرور ہے، انہوں نے دکان چھوڑی اور مجھے گاڑی لے کر اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا۔ کوئی دو منزل اوپر ایک ویسا ہی ہوٹل تھا۔ انہوں نے مالک سے کہا، انہیں اچھی سی چائے پینی ہے اس لئے آپ کے پاس لایا ہوں۔اس علاقے کی روایتی ملنساری کے ساتھ ہوٹل کا مالک بھی بہت اچھی طرح ملا۔پوچھنے لگا، کہاں سے آئے ہیں، لاہور سے۔

کیا کرتے ہیں، بتایا کہ ریٹائرڈ ٹیچر ہوں۔ ان کا اگلا سوال تھا، کون سا گریڈ تھا، میں ہنس دیا اور پوچھا کہ آپ کہاں پڑھاتے رہے ہیں۔ کہنے لگے آپ کو کیسے پتہ چلا کہ میں بھی استاد ہوں۔ میں ہنس دیا کہ ہمارے پرائمری کے استاد ہمیشہ گریڈوں کے چکر میں رہتے ہیں۔ میں نے بتایا کہ یونیوسٹی میں پڑھاتا ہوں تو پھر انہوں نے گریڈ کا ذکر نہیں کیا۔اس کے بعد انہوں نے اپنے کھانے کی تعریف کی، چائے کے خالص دودھ کا ذکر کیا، مگر ان کی سوچ کا معیار اس سے زیادہ نہیں تھا۔ بوئی سے گڑھی حبیب اللہ بھی دریا کے کنارے کنارے خوبصورت نظارے دم بخود کرتے ہیں۔ میرے خیال میں اس علاقے میں سیاحت کی ترقی اور اچھے ہوٹلوں کے قیام کے لئے حکومت کو مقامی لوگوں کو سرمایہ فراہم کرنا چاہئے۔ سیاحت دُنیا کی سب سے بڑی انڈسٹری ہے، جس کی ترویج کے لئے حکومت کو بہت سنجیدگی سے کام کرنا ہوتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -