گورنر پنجاب چلے گئے،گولڈ میڈلسٹ منہ تکتے رہ گئے

گورنر پنجاب چلے گئے،گولڈ میڈلسٹ منہ تکتے رہ گئے
گورنر پنجاب چلے گئے،گولڈ میڈلسٹ منہ تکتے رہ گئے

  

بہت دِنوں سے بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی میں 15ویں کانووکیشن کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔ گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے انتظامیہ کی حد درجہ کوششوں کے بعد مہمانِ خصوصی بننے کی حامی بھری تھی۔گورنر پنجاب کی مصروفیات کے باعث صرف پی ایچ ڈی اور گولڈ میڈلسٹ کو ڈگریاں اور میڈلز تقسیم کرنے کا فیصلہ کیاگیا تھا۔یونیورسٹی کی طرف سے بطورِ مہمان شرکت کے لئے جو کارڈ مجھے ملا،اُس میں درج پروگرام کے مطابق یہ تقریب 11بجے شروع ہو کر دوپہر سوا دو بجے تک چلنی تھی۔ ایک دن پہلے جب اس کانووکیشن کی فل ڈریس ریہرسل ہوئی تو تمام پی ایچ ڈی سکالرز اور گولڈ میڈلسٹ کو یہ باور کرایا گیا کہ وہ گورنر سے ڈگریاں اور میڈلز وصول کر رہے ہیں،سب بہت خوش تھے کہ کئی برسوں بعد ہونے والا کانووکیشن خوشی کی خبر لایا ہے کہ وہ چانسلر سے اعزازات اور ڈگری لیں گے،مگر وہ یہ بھول گئے تھے کہ پنجاب یونیورسٹی کا کانووکیشن نہیں،بلکہ جنوبی پنجاب کی یونیورسٹی میں منعقد ہو رہا

ہے،جہاں آنے کا وعدہ کر کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار بھی کئی بار بھول گئے ہیں، حالانکہ وہ اس یونیورسٹی کے طالب علم رہے ہیں، ہم نے تو سُنا تھا گورنر کا عہدہ نمائشی ہوتا ہے،اُن کے پاس وقت ہی وقت ہوتا ہے،مگر چودھری محمد سرور کے پاس تو لگتا ہے پورے صوبے کی انتظامی ذمہ داری بھی ہے، جس کے باعث اُن کی مصروفیات اتنی زیادہ ہیں کہ ایک یونیورسٹی کے کانووکیشن کو بھی وہ اپنے حکم سے تہہ و بالا کر دیتے ہیں اور انتظامیہ نے جو پروگرام دیا ہوتا ہے،اُس کے بخیئے ادھیڑ کر آناً فاناً ہوا کی طرح آتے اور چلے جاتے ہیں،کانووکیشن کسی بھی یونیورسٹی کا سب سے معتبر اور پُروقار جلسہ ئ برائے عطائے اسناد ہوتا ہے۔اُسے سیاسی جلسے کی طرح بے ترتیب کر دینا مَیں نے اپنی زندگی میں پہلی بار دیکھا، کیا ایسا گورنر پنجاب لاہور کی کسی یونیورسٹی میں کر سکتے،کیا یہ سب کچھ ملتان اور جنوبی پنجاب میں ہی ہو سکتا ہے کہ آپ لاہور سے فاتح کی طرح آئیں اور مفتوحہ علاقے کے سارے خواب روند کر چلے جائیں۔

مَیں نے ایسے کئی گولڈ میڈلسٹ طلبہ و طالبات کو روتے دیکھا، جنہیں اس کانوکیشن میں بُلا کر بے توقیر کیا گیا۔اُس وقت کانووکیشن ہال میں حیرت آسمانی بجلی بن کر ٹوٹی جب گورنر کا خطاب ختم ہونے کے بعد کھانے کا اعلان کر دیا گیا، کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ کانووکیشن کے پروگرام کی تکمیل سے پہلے ایسا کوئی وقفہ کر دیا جائے،حالانکہ اس کے بعد گولڈ میڈلز تقسیم کرنے کا مرحلہ باقی تھا، بعد میں پتہ چلا کہ گورنر صاحب نے جانا تھا،اِس لئے تقریب درمیان میں روک دی گئی،چائے کا وقفہ ختم ہوا تو جناح ہال سائیں سائیں کر رہا تھا، سب جا چکے تھے۔ البتہ باہر گولڈ میڈلسٹ طلبہ و طالبات حسرت و یاس کی تصویر بنے کھڑے تھے،انہیں دیکھ کر غالباً وائس چانسلر ڈاکٹر طارق محمود انصاری اور انتظامیہ کے دیگر لوگوں کو ترس آ گیا۔وہ اندر آئے اور چند ایک کو اپنے ہاتھوں سے گولڈ میڈلز پہنائے،حالانکہ اُس وقت ہال میں صرف کرسیاں ہی منہ چڑا رہی تھیں۔میری حس ِ صحافت پھڑکی اور مَیں نے کھوج لگایا کہ کہیں گورنر پنجاب کو لاہور یا اسلام آباد سے فوری واپسی کا بلاوا تو نہیں آ گیا،کہیں کشمیر کے معاملے پر وزیراعظم عمران خان نے انہیں مشاورت کے لئے تو نہیں فوری بُلا لیا یا خدانخواستہ گورنر ہاؤس لاہور میں کوئی ایمرجنسی تو نہیں ہو گئی، جس کے لئے گورنر صاحب کو کانووکیشن جیسی بڑی تقریب چھوڑ کر جانا پڑا ہو۔

لیکن کھوج لگانے پر علم ہوا ایسا کچھ نہیں تھا۔وہ سیدھے سرکٹ ہاؤس گئے،جہاں انہوں نے پی ٹی آئی کے ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی نیز عہدیداروں کی میٹنگ بُلا رکھی تھی۔اس کے بعد انہوں نے شہر میں چند اپنے قریبی سیاسی دوستوں سے ملاقاتیں بھی کیں۔گویا وہ وقت جو انہیں طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی کے لئے دینا چاہئے تھا اِدھر اُدھر بانٹ دیا، سیاسی ملاقاتیں تو کبھی بھی ہو سکتی ہیں، وہ ان کے لئے اپنا جہاز پکڑ کر کسی وقت بھی ملتان آ سکتے ہیں،مگر وہ طالب علم جو اُن کی راہ دیکھ رہے تھے،جو یہ خواب سجا کر گھروں سے جناح آڈیٹوریم آئے تھے کہ انہیں یونیورسٹی کے چانسلر گولڈ میڈل پہنائیں گے،مایوس و محروم رہ گئے۔اُن کی زندگی میں شاید اب یہ لمحہ کبھی نہ آئے۔وہ تصویر جو انہوں نے چانسلر کے ساتھ بنوا کر زندگی بھر کے لئے محفوظ کر لینی تھی، اب کبھی نہیں بن سکے گی،شاید وہ اسی لئے رنجیدہ تھے،بعض نے تو غصے میں اپنے گولڈ میڈل بھی زمین پر پٹخ دیئے۔”ملتان والوں کو ان لوگوں نے کیا سمجھا ہوا ہے،ہم اچھوت ہیں یا غلام ہیں۔

گورنر کے پاس وقت نہیں تھا تو انہوں نے انکار کیوں نہیں کیا۔یہ پی ٹی آئی کی حکومت کیا آئی ہے، تمام روایات ہی تہس نہس کر دی ہیں۔ یہ کسی بات کو سنجیدہ لیتے ہی نہیں“۔ایک طالب علم چِلا چِلا کر اپنا اُبال نکال رہا تھا،بات تو وہ بھی سچ ہی کہتا ہے،جس شہر نے پی ٹی آئی کو عام انتخابات میں اپنی تمام نشستیں دیں،اُس کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک شروع دن سے ہو رہا ہے۔جیسے دوسرے درجے کے شہریوں سے سلوک ہوتا ہے،ویسے ہی ملتان والوں سے برتا جا رہا ہے۔وزیراعلیٰ عثمان بزدار اپنا سارا فوکس ڈیرہ غازی خان پر رکھے ہوئے ہیں،ملتان والوں کی مثال تو آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا جیسی ہے، پہلے شہباز شریف لاہور سے باہر نہیں دیکھتے تھے، اب عثمان بزدار ڈیرہ غازی خان سے پار نہیں دیکھ رہے،انہوں نے ملتان کو پیکیج تو کیا دینا تھا، ملتان کا تفصیلی دورہ تک نہیں کر سکے۔ کل جب گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کانووکیشن کو ادھورا چھوڑ کر چلے گئے تو یونیورسٹی کے پروفیسروں کو سابق گورنر محمد رفیق رجوانہ بہت یاد آئے۔

ان کے دور میں کانووکیشن ہوا تو وہ شروع سے آخر تک تقریب میں موجود رہے،بلکہ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ بطور گورنر چانسلر بن کر مجھے جو عزت ملی ہے، مَیں اسے سب سے بڑی نعمت سمجھتا ہوں۔ ملک کے پڑھے لکھے طبقے سے آپ کی یہ ہم آہنگی کسی اور منصب سے نہیں ملتی، وہ کہا کرتے تھے کہ جب بھی پنجاب کی کسی یونیورسٹی سے اُنہیں کانووکیشن میں شرکت کا دعوت نامہ ملتا وہ اپنی تمام مصروفیات کو بالائے طاق رکھ کر اس کے لئے وقت نکالتے۔یہ ترجیحات کا معاملہ ہے۔ چودھری محمد سرور شاید اسے اہمیت نہیں دیتے۔ انہیں سیاست میں زیادہ دلچسپی ہے یا پھر ان سیلفیوں سے جو لوگ گورنر ہاؤس میں ان کے ساتھ بناتے ہیں، یہاں تو ان کی آمد پر سیکیورٹی کے اتنے سخت اقدامات کئے گئے جیسے اُنہیں شدید خطرات لاحق ہوں،حتیٰ کہ موبائل فون بھی ہال میں نہیں لے جانے دیئے گئے، جبکہ گورنر ہاؤس میں لوگ موبائل فون نہ صرف لے جا سکتے ہیں،بلکہ گورنر صاحب کے ساتھ سیلفیاں بھی لے سکتے ہیں۔ مَیں سوچتا ہوں چھوٹے شہروں کے افسران بھی چھوٹے اور بونے ہوتے ہیں۔

ان میں جرأت نہیں ہوتی کہ اپنا حق ہی مانگ سکیں۔ وہ لاہور سے آنے والے اہل ِ اقتدار کو اوتار سمجھ لیتے ہیں، سیکرٹریٹ سے کوئی ڈپٹی سیکرٹری بھی آ جائے تو ان کے ہاتھ پاؤں زرد ہو جاتے ہیں۔ شاید اِسی لئے یہاں کے لوگ علیحدہ صوبہ مانگتے ہیں، علیحدہ وزیراعلیٰ اور علیحدہ گورنر ہو گا، تو شاید ان کے ساتھ امتیازی اور غلامانہ سلوک نہیں کر سکے گا۔ مجھے بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی کے پوزیشن ہولڈرز طلبہ و طالبات سے ہمدردی ہے۔مجھے ان سینئر اساتذہ کے ساتھ بھی دِلی ہمدردی ہے، جنہیں پیچھے بٹھا کر آگے سیاسی لوگوں کو بٹھایا گیا، جن کی تعلیم بمشکل میٹرک سے بی اے تک ہو گی۔ اس میں قصور یونیورسٹی انتظامیہ کا ہے کہ سیاسی مصلحتوں نے اسے میرٹ پر فیصلے کرنے کی ہمت سے بھی محروم رکھا۔

مزید :

رائے -کالم -