کشمیر پوری مسلم امہ کا مسئلہ، مودی کا اقدام غلط وادی میں ظلم ناقابل قبول

کشمیر پوری مسلم امہ کا مسئلہ، مودی کا اقدام غلط وادی میں ظلم ناقابل قبول

  

اسلام آباد (صباح نیوز) پاکستان کے دورہ پر آئے افغان پارلیمانی وفد نے کہا ہے کشمیر پوری مسلم امہ کا مسئلہ ہے، افغان عوام کشمیروں پر ہونیوالے ظلم کیخلاف، کشمیریوں اور پاکستان کے موقف کی بھر پور حمایت کرتے ہیں، بھارت کا کشمیر سے متعلق آئین میں موجودہ تبدیلی غلط اقدام ہے،جس کی واپسی ضروری ہے۔ پاکستان اورافغانستان کے مابین پارلیمانی تعلقات کو مستحکم بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔اس موقع پر چیئرمین سینیٹ نے کہا مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے حوالے سے افغانستان کشمیر ی بھائیوں کی بھرپور معاونت کرے، پارلیمنٹ کے مشترکہ وفود مختلف ممالک میں بھیجے جائیں گے تاکہ کشمیروں پرہونیوالے مظالم کو دنیا بھر میں اجاگر کیا جا سکے، چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی مشترکہ طور پر افغانستان کا دورہ کریں گے تاکہ افغانستان کی پارلیمنٹ کے اراکین عوام اور تمام متعلقہ شعبوں کے نمائندوں کو کشمیر میں بھارتی بربریت سے آگاہ کیا جا سکے۔ اس امر کااظہار افغانستان کے پارلیمانی وفد سے ملاقات میں کیا گیا۔پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونیوالی اس ملاقات کے دوران اطراف نے معاشی تعاون اور علاقائی روابط کو مرکزی اہمیت دینے کی ضرورت پر زور دیااور دونوں ملکوں کے مابین پارلیمانی تعلقات کو مستحکم بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھانے پر اتفاق کیا۔چیئرمین سینیٹ نے کہا مضبوط اور خوشحال افغانستان نہ صرف پاکستان بلکہ جنوبی ایشائی خطے کیلئے انتہائی ضروری ہے کیونکہ افغانستان میں امن و امان کی بہتری سے پاکستان سمیت پورے خطے کا امن وابستہ ہے۔ افغانستان کا مسئلہ طاقت کے استعمال کی بجائے گفت و شنید سے حل کرنے کی ضرورت ہے اور اس عمل کی قیادت خود افغانستان کو کرنی چاہئے۔ پاکستان باہمی تکریم مشترکہ مفادات اور عدم مداخلت کی پالیسی پر یقین رکھتا ہے اور ہم افغانستان میں مستحکم حکومت کے خواہشمند ہیں جس کیلئے پاکستان کی کوئی پسند نہ پسند نہیں۔ افغانستان کے لوگوں کو اپنے مسائل کے حل کیلئے خود کلیدی کردار ادا کرنا ہے اور پاکستان قیام امن کیلئے ہر قسم کی معاونت فراہم کر رہا ہے۔ پاکستان افغانستان میں امن مذاکرات کے حوصلہ افزا نتائج کیلئے پر امید ہے اور  اس سلسلے میں مثبت پیش رفت اور نتائج سامنے آئیں گے۔ پارلیمانی وفد کے تبادلوں سے پہلے سے موجود برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم ہونگے اور ایک دوسرے کے درمیان غلط فہمیاں کے ازالہ میں مدد ملے گی۔چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا افغان پارلیمانی وفد کا ایوان بالا کی دعوت پر پاکستان کا دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ہمیں ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہئے تا کہ دونوں ملکوں میں ترقی کی راہیں کھل سکیں۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز نے کہا پارلیمانی وفود کے تبادلوں کا مقصد دونوں ملکوں کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانا ہے، ہم افغانستان کیساتھ اس برادرانہ تعلقات کو مزید بہتر بنانا چاہتے ہیں۔دونوں ملکوں میں امن ہو گا تو خطے کو خوشحالی نصیب ہو گی۔ سینیٹرز بیرسٹر محمد علی سیف، ڈاکٹر مہر تاج روغانی،سلیم ضیا، لیاقت تراکئی اور مومن خان آفرید ی بھی ملاقات میں شریک تھے، جبکہ 6رکنی افغان پارلیمانی وفد کی قیادت سینیٹر فیض خان وکیلی کر رہے تھے، بعدازاں چیئرمین سینیٹ نے افغان پارلیمانی وفد کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا جس میں ارکان پارلیمنٹ نے بھی شرکت کی۔

افغان وفد

  

مزید :

صفحہ آخر -