ملک کی پہلی قابل تجدید توانائی پالیسی کو حتمی شکل دینے کیلئے ماہرین سے مشاورت شروع

  ملک کی پہلی قابل تجدید توانائی پالیسی کو حتمی شکل دینے کیلئے ماہرین سے ...

  

اسلام آباد (این این آئی)ملک کی پہلی قابل تجدید پالیسی کوحتمی شکل دینے کیلئے ماہرین کیساتھ 2 روزہ مشاورت شروع کر دی گئی،مشاورت میں پاور ڈویژن نیپرا پی پی آئی بی صوبائی حکومتوں این ٹی ڈی سی سی پی پی اے نیکا پاکستان انجینئرنگ کونسل اورڈسکوز کے حکام شریک ہوئے۔اجلاس کی صدارت توانائی کی ٹاسک فورس کے چیئرمین ندیم بابر اور سیکرٹری پاور ڈویژن عرفان علی نے کی۔سیکرٹری پاور ڈویژن نے کہاکہ قابل تجدید ذرائع توانائی سے بجلی پیداوار کوموجودہ چار فیصد سے بڑھا کردوہزار پچیس تک بیس فیصد کیا جائیگا۔انہوں نے کہاکہ قابل تجدید ذرائع توانائی کوفروغ دے کربجلی کی قیمت میں نمایاں کمی کی جا سکتی ہے۔ندیم بابر نے کہاکہ ملک میں بجلی کی 40 فیصد پیداوار درآمدی فیول کی مرہون منت ہے۔انہوں نے کہاکہ ملک میں متبادل ذرائع توانائی کے بیشمار وسائل موجود ہیں جن کوقابل استعمال بنانا ضروری ہے۔انہوں نے کہاکہ تھرمل آئی پی پیز کو کیپسٹی پیمنٹ میں بہت زیادہ ادائیگیاں کرنا پڑتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں کے شکار10 ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔اعلامیہ میں کہاگیاکہ ماہرین سے مشاورت کے بعد قابل تجدید توانائی پالیسی مسودے کو حتمی شکل دے کرمنظوری کیلئے وفاقی کابینہ کوبھجوا دیا جائے گا۔اعلامیہ کے مطابق قابل تجدید توانائی پالیسی کی حتمی منظوری مشترکہ مفادات کونسل کی طرف سے دی جائے گی۔

مشاورت شروع

مزید :

صفحہ آخر -