ممتاز علمائے کرام نے ”آزادی کشمیر مارچ“ کی حمایت کا اعلان کر دیا 

ممتاز علمائے کرام نے ”آزادی کشمیر مارچ“ کی حمایت کا اعلان کر دیا 

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے بھارت کی جانب سے 370اور35Aکے قانون کو ختم کر کے مقبوضہ کشمیر کو اپنا حصہ بنانے کے خلاف اور مظلوم کشمیر یوں سے اظہار یکجہتی کے لیے اتوار یکم ستمبر 3بجے دن شاہراہ فیصل پر تاریخی اورعظیم الشان ”آزادی کشمیر مارچ“کے سلسلے میں رئیس الجامعہ دارالعلوم کورنگی مفتی رفیع عثمانی، دارالعلوم نعیمیہ کے مہتمم و رویت ہلال کمیٹی کے چیئر مین مفتی منیب الرحمن اور جامعہ ستاریہ کے مہتمم مولانا محمد سلفی سے ان کے مدارس میں ملاقات کی اور انہیں مارچ میں شرکت کی دعوت دی۔علمائے کرام نے ”آزادی کشمیر مارچ“ کو وقت کی اہم ترین ضرورت قراردیتے ہوئے اس کی بھرپور حمایت کی۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کراچی کے نائب امراء برجیس احمد، مسلم پرویز، جمعیت اتحادالعلماء کے مولانا عبد الوحید، سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری اور دیگر بھی موجود تھے۔ ملاقات کے موقع پر حافظ نعیم الرحمن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر کے مقبوضہ کشمیر میں انسانیت سوز مظالم کیے جارہے ہیں،کلسٹر بموں سے حملہ کیا جارہا ہے،عورتوں کی عصمت دری کی جارہی ہے، مواصلاتی نظام بند ہے اور مسلسل کرفیو کی وجہ سے کشمیری یرغمال بنے ہوئے ہیں،آر ایس ایس کے غنڈوں کو کشمیریوں پر مظالم کے لیے بھیجا جارہا ہے،کشمیریوں کی آواز بننے کیلئے تمام حکمرانوں کو فیصلہ کرنا ہوگا اورپاکستان کو کشمیر کا مقدمہ پر زور طریقے سے لڑنا ہوگا اس لیے ہم نے مقبوضہ کشمیر کے نہتے مظلوم مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ”آزادی کشمیر مارچ“کا اعلان کیا ہے۔کراچی کے عوام ”آزادی کشمیر مارچ میں شریک ہوکر مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کریں، علمائے کرام جمعہ کے خطبے میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اجاگر کریں۔مفتی رفیع عثمانی نے کہاکہ افسوس کی بات70سال گزرگئے لیکن آج تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوسکا، اقوام متحدہ نے کشمیریوں کو حق دیا تھا کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں لیکن بھارت نے اقوام متحدہ کی قرارداروں اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی، اگر حکومت جہاد کااعلان کرتی ہے تو پاکستانی عوام سیسہ پھیلائی ہوئی دیوار بن کر فوج کی پشت پر کھڑے ہوگے جس طرح 1965کی جنگ میں کھڑے ہوئے تھے اورہم ضرور کامیاب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ  ”آزاد کشمیر مارچ“وقت کی ضرورت ہے۔ میں علماء اور عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس مارچ میں بڑے پیمانے پر شریک ہوں اور مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں سے اپنی یکجہتی کا اظہار کریں۔ مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیرمیں تین ہفتے سے مسلسل کرفیو لگا کر ان کی زندگی مفلوج کردی ہے،اس جبر کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی، کشمیر نا صرف پاکستان بلکہ پوری امت مسلمہ کا مسئلہ ہے، عالمی عدالت نے کشمیر کا پُر امن حل نہ نکالاتوشدت پسندی میں اضافہ ہوگا،افسوس کا مقام ہے کہ مسئلہ کشمیر پر مسلم ممالک کی جانب سے بھی اب تک کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے،مسلم ممالک کو چاہیئے کہ صرف زبانی جمع خرچ نہ کریں جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہ ہو،بھارت سے نا صرف سفارتی،اقتصادی وتجارتی اورہر قسم کے تعلقات کو معطل کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے امت مسلمہ، OICاور سعودی عرب،عرب امارات اپنا بھرپور کردار ادا کرے۔پاکستان کے 22کروڑ عوام کشمیریوں کے ساتھ ہیں،عالم اسلام اور عالمی طاقتوں کو بھی کشمیر کے لیے مسئلہ حل کرنے کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -