عارف علوی کے صدر منتخب ہونے کے خلاف درخواست کی سماعت

عارف علوی کے صدر منتخب ہونے کے خلاف درخواست کی سماعت

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ نے عارف علوی کے صدر پاکستان منتخب ہونے کیخلاف درخواست پر صدر پاکستان کے وکیل نے درخواستگزار کے جواب کا جائزہ لینے کے لیے مہلت مانگ لی۔۔ جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس آغا فیصل پر مشتمل دو رکنی بینچ کے روبرو عارف علوی کے صدر پاکستان منتخب ہونے کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ درخواستگزار نے جواب الجواب جمع کرادیا۔ جواب الجواب میں کہا گیا کہ عارف علوی کی جانب سے جمع کرایا گیا پاور آف اٹارنی جعلی اور غیر قانونی ہے۔ پاور آف اٹارنی نوٹری پبلک کے بجائے اوتھ کمشنر سے تصدیق کرایا گیا ہے۔ اوتھ کمشنر کے پاس اس نوعیت کے دستاویزات تصدیق کرنے کا اختیار نہیں۔ پاور آف اٹارنی او تھ کمشنر سے تصدیق کروانا بھی فراڈ کے زمرے میں آتا ہے۔ پاور آف اٹارنی جمع کرانے والے عارف علوی کے بیٹے ڈاکٹر عواب علوی خود جعلسازی میں ملوث رہے ہیں۔ عارف علوی پہلے بھی دوسرے کیسز میں جعلی دستاویزات جمع کرائی ہیں۔ عارف علوی کے بیٹے عواب علوی کے جعلی دستاویزات جمع کرانے کا معاملہ زیر التوا ہے۔ صدر مملکت عارف علوی نے دیوانی مقدمے میں ٹرسٹ سے متعلق جعلی حلف نامہ جمع کرایا۔ صدر مملکت پر آئین کی دفعہ 62(1)(d)(f) کا اطلاق ہوتا ہے۔ عدالتی حکم پر صدر پاکستان کی جانب سے بھی جواب عدالت میں جمع کرارکھا ہے۔ صدر پاکستان کے وکیل نے درخواستگزار کے جواب کا جائزہ لینے کے لیے مہلت مانگ لی۔ عدالت نے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔ صدر پاکستان کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا تھا کہ میرے خلاف درخواست بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہے۔ درخواستگزار نے حقائق مسخ کیے۔ میرے خلاف درخواست قابل سماعت نہیں۔ درخواست میں بیان کردہ الزامات مسترد کرتا ہوں۔ جواب میں استدعا کی گئی ہے کہ درخواست جرمانے کے ساتھ مسترد کی جائے۔ دائر درخواست میں عظمت ریحان نے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ جس شخص عدالتی ریکارڈ میں ٹیمپرنگ کی وہ ملک کا سربراہ کیسے رہ سکتا ہے۔ عارف علوی نے 1977 میں دائر سول سوٹ کے ریکارڈ میں ٹمپرنگ کی گئی۔ موجودہ چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے بھی عارف علوی کیخلاف حکم نامہ جاری کیا تھا۔ ڈاکٹر عارف علوی نے خود علویہ تبلغ ٹرسٹ کا "کوٹرسٹی" ظاہر کیا۔ ہاکس بے پر نمک بینک کے دعوے میں خود کو "ٹرسٹی" ظاہر کیا۔ 1977 سے عدالت میں زیر سماعت کیس میں تین بار عارف علوی نے حلف نامہ میں غلط بیانی کی۔ عارف علوی نے جعلی دستاویزات جمع کراکر ہاکس نے ایک ہزار 8 سو 10 ایکڑز مین اپنے کے کیس کا فیصلہ اپنے حق میں کرایا۔ صدر پاکستان عارف علوی کو نااہل کرنے کا حکم دیا جائے۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -