بھارت کشمیر پر قبضہ ختم کرے، امریکی قانون سازوں کا مطالبہ، اقوام متحدہ کشمیریوں کی نسل کشی رکوائے، جینو سائیڈ واچ ایمنسٹی انٹر نیشنل

  بھارت کشمیر پر قبضہ ختم کرے، امریکی قانون سازوں کا مطالبہ، اقوام متحدہ ...

  

سری نگر اسلام آباد، لندن (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 اے ختم کرنے کے بعد کرفیو اور پابندیوں کو 19 روز ہو گئے، وادی میں موبائل فون، انٹرنیٹ سروس بند اور ٹی وی نشریات معطل ہیں قابض انتظامیہ نے ٹیلی فون سروس بند کررکھی ہے جبکہ ذرائع ابلاغ پرسخت پابندیاں عائد ہیں۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق مواصلاتی نظام کی معطلی، مسلسل کرفیو اور سخت پابندیوں کے باعث لوگوں کو بچوں کے لیے دودھ، زندگی بچانے والی ادویات اور دیگر اشیائے ضروریہ کی شدید قلت کا سامنا ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابقمقبوضہ کشمیر میں نظام زندگی معطل ہوئے 19 دن ہوگئے، سرینگر کی دیواروں پر آزادی کے پوسٹرز لگ گئے۔ مودی سرکار نے مقبوضہ وادی میں ایک اور گھنانا کھیل رچانا شروع کر دیاہے۔کشمیری نوجوانوں کی مزاحمت سے خوفزدہ بھارتی فوج اور پولیس روزانہ سیکڑوں کے حساب سے گرفتاریاں کر رہی ہے، گرفتار نوجوانوں کو مقبوضہ کشمیر کی بجائے بھارت کی جیلوں میں قید رکھا جا رہا ہے۔بی جے پی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی مخصوص حیثیت تو ختم کر دی لیکن مزاحمت کا خوف اسے چین نہیں لینے دے رہا۔مقبوضہ وادی میں کشمیریوں اور بالخصوص نوجوانوں کی پکڑ دھکڑ میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔بھارتی فوجی رات گئے چوروں کی طرح کشمیریوں کے گھر پر حملہ آور ہوتے ہیں، گھر والوں کو زد و کوب کرتے ہیں اور نوجوانوں کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ مقبوضہ وادی میں جیلیں کشمیریوں سے بھر چکی ہیں۔ اسی وجہ سے ان نوجوانوں کو اب بھارت کی جیلوں میں قید کیا جا رہا ہے۔سری نگر کے رہائشی کے مطابق بھارتی فوج رات گئے ان کے گھر گھسے اور ان کے دو لڑکے اٹھا کر لے گئے۔ایک خاتون نے اپنی داستان سناتے ہوئے کہا کہ رات ڈھائی بجے ان کے گھر پر حملہ کیا گیا، گھر کی کھڑکیاں اور دروازے توڑ دیئے گئے اوران کے جوان بیٹے کو گرفتار کر لیا گیا۔ نوجوان کا دادا ساری رات سڑک پر بیٹھ کر اپنے پوتے کی رہائی کے لیے دہائیاں دیتا رہا۔بی بی سی کے مطابق ایسی گرفتاریوں پر جب پولیس اور فوجی حکام سے پوچھا جاتا ہے تو وہ کوئی جواب نہیں دیتے۔ مسلسل 10 روز سے ان گرفتاریوں پر اٹھائے گئے سوالات کو ٹالا جا رہا ہے۔بی بی سی کے مطابق کشمیریوں کی اکثریت خوفزدہ ہے، وادی میں پراسرار خاموشی ہے جو کسی بڑے واقعے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے حوالے سے کام کرنے والی عالمی تنظیم جینو سائیڈ واچ نے مقبوضہ کشمیر کی گھمبیر صورت حال پرالرٹ جاری کرتے ہوئے اقوام متحدہ اور اس کے رکن ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت کو کشمیر یوں کی نسل کشی سے روکیں جبکہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی بھارت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے فیصلے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مودی سرکار کے اس فیصلے نے خطے کے امن کو داؤ پر لگا دیا ایسی بگڑتی ہوئی صورت حال ایشیاء کے خطے کو تباہی کے دہانے پر لے جائے گی۔جینو سائیڈ واچ نے اپنی جاری کردہ رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ بھارت کی قابض افواج اب تک ستر ہزار کشمیریوں کو شہید کر چکی ہے جبکہ 1989 سے لیکر 2006 کے درمیانی عرصے میں 50 ہزار کشمیریوں کو شہید کیا گیا ہے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بگڑتی ہوئی صور ت حال کے بعد پاک بھارت سرحدوں پر دونوں ملکو ں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ بھارتی حکمرانوں نے بغیر کسی آئینی جواز کے کشمیر پر فوجی آمریت مسلط کررکھی ہے۔کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت ہونے کے باوجود ہندو اور سکھوں کی اقلیت کو فوجی طاقت پر حکمرانی کروائی جارہی ہے جبکہ وادی میں مواصلاتی رابطے میں بھی منقطع ہیں جسے کشمیریوں کا بیرون دنیا سے رابطہ ہی منقطع ہو چکا ہے یہ اقدام انسانی حقوق کی بڑی خلا ف ورزی ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں پر تشدد،خواتین کی عصمت دری اور مسلمان سیاست دانوں کے بغیر جرم کے دو سال سے حراست کے واقعات عا م ہیں ۔۔کشمیریوں کی نسل کشی پر عالمی تنظیم نے دس مراحل کی نشاندہی کی ہے ان مراحل میں یہ بھی شامل ہے مودی اور بی جے پی کی حکومت کا جو خطے میں خوشحالی لانے اور دہشت گردی ختم کرنے کا ہدف ہے اس کے درپردہ بھارتی فوج اور پولیس کشمیریوں کی نسل کشی کرنا چاہ رہی ہے۔عالمی تنظیم نے اقوام متحدہ اور ان کے رکن ممالک سے اپیل کی کہ وہ کشمیریوں کی نسل کشی رکوانے کے لئے بھارت پر دباؤ ڈالے ۔دوسری جانب حقوق انسانی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے بھی کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کشمیریوں کو ان کے جائز حقوق دے۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے جاری مظالم کیخلاف برسلز میں یورپی یونین ہیڈ کوارٹر کے سامنے کشمیر کونسل یورپ کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا گیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مظاہرے میں یورپین ہیڈ کشمیریوں اور پاکستانیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کیخلاف نعرے درج تھے اس موقع پر چیئرمین کمشیر کونسل یورپی یونین علی رضا سید نے کہا کہ بھارت نے بڑی تعدادمیں انتہا پسندوں کو کشمیر بھیجا ہوا ہے تاکہ وہ قابض علاقے میں ظالمانہ سرگرمیاں تیز کردیں انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کا نظام زندگی مفلوج کیا جاچکا ہے

کشمیر صورتحال

سری نگر اسلام آباد، لندن (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 اے ختم کرنے کے بعد کرفیو اور پابندیوں کو 19روز ہو گئے، وادی میں موبائل فون، انٹرنیٹ سروس بند اور ٹی وی نشریات معطل ہیں،قابض انتظامیہ نے ٹیلی فون سروس بند کررکھی ہے جبکہ ذرائع ابلاغ پرسخت پابندیاں عائد ہیں۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق مواصلاتی نظام کی معطلی، مسلسل کرفیو اور سخت پابندیوں کے باعث لوگوں کو بچوں کیلئے دودھ، زندگی بچانے والی ادویات اور دیگر اشیائے ضروریہ کی شدید قلت کا سامنا ہے۔دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے حوالے سے کام کرنے والی عالمی تنظیم جینو سائیڈ واچ نے مقبوضہ کشمیر کی گھمبیر صورت حال پرالرٹ جاری کرتے ہوئے اقوام متحدہ اور اس کے رکن ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت کو کشمیر یوں کی نسل کشی سے روکیں جبکہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی بھارت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے فیصلے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مودی سرکار کے اس فیصلے نے خطے کے امن کو داؤ پر لگا دیا ایسی بگڑتی ہوئی صورت حال ایشیاء کے خطے کو تباہی کے دہانے پر لے جائے گی۔جینو سائیڈ واچ نے اپنی جاری کردہ رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ بھارت کی قابض افواج اب تک ستر ہزار کشمیریوں کو شہید کر چکی ہے جبکہ 1989 سے لیکر 2006 کے درمیانی عرصے میں 50 ہزار کشمیریوں کو شہید کیا گیا ہے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بگڑتی ہوئی صور ت حال کے بعد پاک بھارت سرحدوں پر دونوں ملکو ں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ بھارتی حکمرانوں نے بغیر کسی آئینی جواز کے کشمیر پر فوجی آمریت مسلط کررکھی ہے۔کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت ہونے کے باوجود ہندو اور سکھوں کی اقلیت کو فوجی طاقت پر حکمرانی کروائی جارہی ہے جبکہ وادی میں مواصلاتی رابطے میں بھی منقطع ہیں جسے کشمیریوں کا بیرون دنیا سے رابطہ ہی منقطع ہو چکا ہے یہ اقدام انسانی حقوق کی بڑی خلا ف ورزی ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں پر تشدد،خواتین کی عصمت دری اور مسلمان سیاست دانوں کے بغیر جرم کے دو سال سے حراست کے واقعات عا م ہیں ۔۔کشمیریوں کی نسل کشی پر عالمی تنظیم نے دس مراحل کی نشاندہی کی ہے ان مراحل میں یہ بھی شامل ہے مودی اور بی جے پی کی حکومت کا جو خطے میں خوشحالی لانے اور دہشت گردی ختم کرنے کا ہدف ہے اس کے درپردہ بھارتی فوج اور پولیس کشمیریوں کی نسل کشی کرنا چاہ رہی ہے۔عالمی تنظیم نے اقوام متحدہ اور ان کے رکن ممالک سے اپیل کی کہ وہ کشمیریوں کی نسل کشی رکوانے کے لئے بھارت پر دباؤ ڈالے۔دوسری جانب حقوق انسانی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے بھی کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کشمیریوں کو ان کے جائز حقوق دے۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے جاری مظالم کیخلاف برسلز میں یورپی یونین ہیڈ کوارٹر کے سامنے کشمیر کونسل یورپ کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا گیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مظاہرے میں یورپین ہیڈ کشمیریوں اور پاکستانیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کیخلاف نعرے درج تھے اس موقع پر چیئرمین کمشیر کونسل یورپی یونین علی رضا سید نے کہا کہ بھارت نے بڑی تعدادمیں انتہا پسندوں کو کشمیر بھیجا ہوا ہے تاکہ وہ قابض علاقے میں ظالمانہ سرگرمیاں تیز کردیں انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کا نظام زندگی مفلوج کیا جاچکا ہے

کشمیر صورتحال

سری نگر (آئی این پی)مقبوضہ کشمیر کے عوام نے بھارتی فوج کے کرفیو اور دیگر پابندیوں پر مزاحمت کرتے ہوئے آج نماز جمعہ کے بعد سری نگر میں سوناور کے مقام پر اقوام متحدہ کے دفتر کی طرف مارچ کا اعلان کردیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت کے مقبوضہ کشمیر سے متعلق غیر قانونی اقدامات اور وادی میں قبضے کے خلاف یہ احتجاج کیا جائے گا۔اس مارچ کی کال حریت رہنماؤں کی جانب سے سری نگر اور وادی کے دیگر حصوں میں لگائے گئے پوسٹرز کے ذریعے دی گئی۔ رہنماں کی جانب سے ہر نوجوان، بزرگ، مرد اور عورت پر زور دیا گیا کہ وہ اس مارچ کا حصہ بنے تاکہ بھارت اور پوری دنیا کو یہ پیغام پہنچایا جاسکے کہ کشمیری اپنے علاقے میں بھارتی قبضہ اور ہندو ثقافت کو تسلیم نہیں کریں گے۔اس مارچ کا ایک مقصد بھارت کی جانب سے باہر کے لوگوں کو یہاں بسا کر مقبوضہ کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کرنے کی کوشش کی مزاحمت کرنا ہے۔کے ایم ایس کے مطابق نماز جمعہ کے خطبات کے دوران علما اس معاملے کو اٹھائیں گے۔ علاوہ ازیں مقبوضہ وادی میں 18ویں روز بھی کرفیو اور مواصلاتی نظام کا مکمل بلیک آٹ رہا جس نے پورے علاقے میں موجود آبادی کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کردیا۔یہی نہیں بلکہ گلیوں میں ہزاروں بھارتی فوجیوں کی موجودگی اور سڑکوں پر خاردار تاریں اور رکاوٹیں ہونے کے باعث پیدل اور گاڑیوں کی نقل و حمل بھی بند رہی۔تاہم بھارتی پابندیوں کے باوجود مختلف مقامات پر کشمیری نوجوان کرفیو اور دیگر پابنیوں کو توڑتے ہوئے باہر نکل آئے اور آرٹیکل 370 کے خاتمے پر احتجاج کیا۔سری نگر اور وادی کے دیگر علاقوں میں احتجاج کرنے والوں پر بھارتی فوج نے گولیاں، پیلٹس اور آنسو گیس کے شیل فائر کیے، جس سے متعدد افراد زخمی ہوگئے۔

سری نگر مارچ

مزید :

صفحہ اول -