بھارت قتل عام کی جانب گامزن ، مزن دنیا کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر خاموشی توڑنا ہو گی : شاہ محمود

      بھارت قتل عام کی جانب گامزن ، مزن دنیا کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر ...

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں عوامی مزاحمت کی کال کو ناکام بنانے کےلئے قتل عام کے منصوبے بنا رہا ہے،مقبوضہ وادی میں بات اب مشاہدے سے آگے نکل چکی ہے ،ہم خدشے سے دنیا کو آگاہ کر رہے ہیں کہ بیانات سے کردار ادا نہیں ہو گا ، دنیا کو اب مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر خاموشی توڑنی ہوگی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔امریکہ کی غیر سرکاری تنظیم کا حوالہ دیتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہاکہ جینو سائیڈ واچ نے الرٹ بہت سوچ سمجھ کر جاری کیا ہے، مقبوضہ کشمیر میں صورتحال بہت بگڑ چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ وادی کے لوگ مجبوراً حالات اپنے کنٹرول میں لینے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ بھارت قتل عام کی جانب بڑھ رہا ہے لہٰذادنیا کو اسے روکنا ہو گا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال بہت سنگین ہے ، کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی بہت قدر و منزلت ہے ، مقبوضہ وادی میں نوجوان بچوں اور بچیوں کو اٹھایا جارہا ہے ، کشمیری نوجوانوں پر تشدد اور اجتماعی زیادتیاں کی جا رہی ہیں، کشمیر میں مسئلہ زندگیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا ہے ، انہوں نے مزید کہا کہ مقبوضہ وادی میں خوف میں مبتلا والدین بچوں کو کیسے سکول بھیجیں،والدین کو خوف ہے کہ بچوں کو سکول بھیجیںتو وہ واپس لوٹیں گے یا نہیں ،شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ستمبر میں ہونے والے یو این ہیومن رائٹس کونسل اجلاس 45 ممالک کو صورتحال سے آگاہ کروں گا، جبکہ وزارت خارجہ نے یو این ہیومن رائٹس کونسل کو خط بھی لکھا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تہمینہ جنجوعہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر پر تمام ممالک کو آگاہ کریں، ہم خدشے سے دنیا کو آگاہ کر رہے ہیں ، بیانات نہیں کردار ادا کریں گے جبکہ مقبوضہ وادی میں میڈیا کوریج کرنے دی جائے تو صورتحال سامنے آئے گی۔ وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر جو ہم مسلسل کہتے آرہے ہیں ،عالمی تنظیم جینوسائیڈ واچ نے بھی اس کی تصدیق کردی۔ عالمی تنظیم نے اقوام متحدہ سے بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی سے روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وادی میں کئی لاکھ بھارتی فوجی تعینات ہیں اور مسلمان اکثریت پر اقلیت ہندو فوج کی حکمرانی ہے، مقبوضہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر قتل عام شروع ہوسکتا ہے۔بعدازاںوزیر خارجہ نے سوئٹزر لینڈ کے ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ کیا جس میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سمیت خطے میں امن و امان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔وزیر خارجہ نے اپنے سوئس ہم منصب کو بھارت کے مقبوضہ جموں و کشمیر میں یکطرفہ اقدامات اور ان کے مضمرات سے آگاہ کیا ۔انہوںنے کہاکہ سوئٹزرلینڈ کے وزیر خارجہ نے اس ساری صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس ساری صورتحال کا جائزہ لے ہیں ۔ سوئس وزیر خارجہ نے کہاکہ خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لئے تمام فریقین کو تصفیہ طلب معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے چاہئیں ۔وزیرخارجہ نے نیپال کے ہم منصب پردیپ کمار گیاوالی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی تشویشناک صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیر خارجہ نے نیپالی ہم منصب کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی جانب سے جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے مقبوضہ جموں و کشمیر میں اٹھائے گئے یکطرفہ اقدامات اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کی قراردادوں کے منافی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں گزشتہ سترہ روز سے کرفیو جاری ہے جس کے سبب انسانی جان بچانے والی ادویات اور خوراک تک دستیاب نہیں ہو پا رہی ۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں صورتحال اس قدر تشویشناک ہے کہ انسانی حقوق پر کام کرنےوالی بین الاقوامی تنظیم ’جینو سائیڈ واچ ‘ نے جینو سائیڈ الرٹ جاری کرتے ہوئے مقبوضہ وادی میں سفاکانہ قتل عام کا خدشہ ظاہر کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نیپال، سارک کا سربراہ ہونے کے ناطے مقبوضہ جموں و کشمیر کے نہتے انسانوں کو بھارتی بربریت سے بچانے اور خطے میں قیام امن کیلئے اپنا کردار ادا کرے ۔نیپالی وزیر خارجہ نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نیپال اس ساری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے انہوں نے فریقین کو تصفیہ طلب امور کے حل کیلئے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔دونوں وزرائے خارجہ کا خطے میں قیام امن کیلئے باہمی روابط جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔علاوہ ازیںپاک افغان ٹریک ٹو پراجیکٹ سے وابستہ اعلیٰ سطح کے افغان وفد نے ڈاکٹر شعیب سڈل کی قیادت میںوزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی۔اس موقع پر ،وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہاکہ پاکستان اور افغانستان کے مابین تاریخی ،ثقافتی ،مذہبی دیرینہ تعلقات ہیں ،پاکستان افغانستان کی داخلی خود مختاری کا احترام کرتا ہے،پاکستان افغانستان میں امن و استحکام کا خواہاں ہے کیونکہ افغانستان کا امن پورے خطے کی تعمیر و ترقی کے لیے ناگزیر ہے،ہم نے خلوصِ دل سے افغان امن عمل میں اپنا مصالحانہ کردار ادا کیا اور انشاءاللہ کرتے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ چینی اور افغان وزرائے خارجہ کو سہ فریقی کانفرنس میں شرکت کیلئے دعوت نامے ارسال کئے ہیں جو جلد اسلام آباد میں منعقد ہو گی۔ وفد نے ملاقات کے دوران پاک افغان دو طرفہ تعلقات، افغان امن عمل سمیت مختلف باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ ءخیال کیا۔ڈاکٹر شعیب سڈل نے وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاک افغان ٹریک ٹو پروجیکٹ کا آغاز 2015 میں ہوا اور اس پراجیکٹ کا مقصد پاک افغان ، تجارتی ، سیاسی اور ثقافتی تعلقات کا فروغ ہے اور یہ اس سلسلے کی سترویں میٹنگ ہے۔دریں اثناءوفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے وزارت خارجہ میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی ۔ ملاقات میں دونوں رہنماﺅں نے مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سمیت مختلف امورپر تبادلہ خیال کیا۔دونوں وزراءنے اقوام متحدہ ،سیکورٹی کونسل کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دیگر فورمز پر بھی اجاگر کرنے کیلئے مشاورت کی۔

شاہ محمود قریشی

 اسلام آباد( سٹاف رپورٹر ) پاکستان نے کہا ہے کہ بھارتی جارحیت سے خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہیں ،مقبوضہ وادی کو ایک جیل میں تبدیل کردیاگیا ہے ،وادی میں انسانی المیہ جنم لے رہا ہے ،عالمی برادری فوری نوٹس لے ، دنیا کشمیریوں کی جسمانی ذہنی اذیت کا اندازہ نہیں لگاسکتی ، بھارتی افواج کے ہاتھوں سینکڑوں کشمیری شہید اور زخمی ہوچکے ہیں، کشمیر کے حوالے سے ہمارے اصولی موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ، امریکی صدر کے رابطے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ان کی دلچسپی کے عکاس ہیں ،پاکستان میں داعش کا کوئی وجود نہیں ، ہمسائیہ ممالک میں داعش کی موجودگی پر تشویش ہے ،کوشش اور خواہش ہے کہ کرتارپور راہداری وقت پر کھل جائے ،یو اے ای کا مودی کو ایوارڈ دونوں ملکوں کا باہمی معاملہ ہے ، دفتر خارجہ بھارتی شہریوں کی واپسی میں مدد کیلئے تیار ہے ۔ تفصیلات کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے عالمی فورم پر مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم پر موثر انداز میں آواز اٹھائی ہے، جبکہ عالمی برادری سے مطالبہ بھی کیا وادی کی صورتھال پر توجہ دے۔ مسئلہ کشمیر کے معاملے پر پاکستان کا موقف اصولی ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر توجہ دے۔ مقبوضہ وادی میں ایک ہفتے کے دوران کریک ڈان اور سرچ آپریشنز میں 4 کشمیری شہید ہوچکے ہیں جبکہ وادی میں مزید اموات کے خدشات ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ کشمیر میں ادویات اور خوراک کی شدید قلت پیدا ہوچکی ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مختلف ممالک کے اپنے ہم منصبوں سے رابطے کیے اور عالمی رہنماﺅں سے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم کو بند کروانے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے ایک مرتبہ پھر زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کا حل صرف اقوام متحدہ کی قرار دادوں میں ہے، تاہم مسئلہ کشمیر سے متعلق تمام آپشنز زیر غور ہیں۔ بھارت تاحیات مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ نہیں رکھ سکتا۔ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا معاملہ عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے)لے جانے پر وزارت قانون اور وزارت خارجہ میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور ان کے ساتھ مقبوضہ کشمیر اور علاقائی تبدیلیوں پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر مختلف ممالک کی جانب سے پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی جارہی ہے تاہم یہ معاملہ بھارت کے راضی ہونے پر ہی آگے بڑھے گا۔دوسرے ہمسایہ ملک افغانستان میں ہونے والے حالیہ واقعات پر بات کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم افغانستان میں دہشت گردی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر محمد فیصل نے پاکستان میں داعش کی موجودگی کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس تنظیم کا کوئی منظم وجود ہے۔پاک بھارت سرحد کھلے ہونے سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان میں موجود بھارتی شہری واہگہ سے واپس جاسکتے ہیں، جبکہ بھارت میں پاکستانیوں کے پھنسے ہونے کی اطلاعات نہیں ہیں۔انہوں نے بتایا کہ بھارت نے 20اگست کو ایل او سی پر بلا اشتعال فائرنگ کی، جس سے ایک شہری شہید ہوا۔ پاکستان کرتار پور راہداری جلد کھولنے کا خواہشمند ہے۔ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف پر امریکی پابندی سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ پر پابندیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ

مزید :

صفحہ اول -