دریائے سندھ ‘ ستلج میں سیلابی صورتحال برقرار‘ بچی جاں بحق ‘ فصلیں زیر آب

  دریائے سندھ ‘ ستلج میں سیلابی صورتحال برقرار‘ بچی جاں بحق ‘ فصلیں زیر آب

  

راجنپور ‘ روجھان ‘ جتوئی ‘ بہاولنگر ‘ میلسی (نمائندگان پاکستان ) راجن پور سے نامہ نگار کے مطابق ضلع راجن پور میں دریائے سندھ میں پانی بتدریج کم ہو رہا ہے ۔اس وقت پانی کا (بقیہ نمبر33صفحہ12پر )

بہاﺅ تقریباً 3لاکھ کیوسک ہے۔جس میں بتدریج کمی ہو رہی ہے ۔دوسری طرف درہ کاہا سلطان اور چھاچھڑ سے بھی پانی کا اخراج نہ ہونے کے برابر ہے۔یہ تفصیلات انچارج ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی راجن پور حافظ ممتاز نے ایک بریفنگ کے دوران بتائیں۔تفصیلات کے مطابق دریائے سندھ کا پانی صرف دریائی علاقوں تک محدود ہے ۔اس سے ضلع بھر میں کسی بھی مستقل آبادی کو خطرہ نہ ہے ۔اب تک کی صورتحال کے مطابق صر ف کچہ کے علاقوں جو کہ دریائے سندھ کے سابقہ اور موجودہ روائتی راستوں میں رہنے والوں کو وہاں سے منتقل ہونا پڑا ہے اور وہاں پر موجود فصلیں بھی زیر آب آئی ہیں ۔اس طرح رود کوہی کے پانی سے بھی صرف وہی لوگ متاثر ہوئے ہیں جو اس پانی کے گذرنے کے راستوں میں موجود ہیں یا وہاں اپنی فصلیں اگائے ہوئے ہیں۔اب تک جتنے بھی بند سیلابی پانی سے ٹوٹے ہیں وہ سب لوگوں کی طرف سے بنائے گئے ذمیندارہ بند ہیں ۔انتظامیہ کی طرف سے بنائے گئے تمام حفاظتی بند محفوظ ہیں اور ان کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے ۔ضلعی انتظامیہ نے راجن پور میں کل بارہ مقامات پر فلڈ ریلیف کیمپ قائم کر دئے گئے ہیں جن میںچک شہید،گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین راجن پور ،بیٹ سونترہ میں یونین کونسل آفس نور پور تحصیل جام پور میں دیہی مرکز صحت لنڈی سیدان ،بوائز پرائمری سکول چٹول ،دفتر یونین کونسل حاجی پور،قبول چوک،ٹھل مہاتم جبکہ تحصیل روجھان میں گورنمنٹ ہائی سکول بنگلہ اچھا،منچن فلڈ بند بھاگسر،موضع گڈ ناڑ،گورنمنٹ بوائز ہائی سکول شاہ والی خاص شامل ہیں۔مزید یہ کہ محکمہ ریسکیو1122،سول ڈیفنس،ریوینو ،ڈیزاسٹر منیجمنٹ کی ٹیمیں سیلابی علاقوں میں موجود ہیںاور کسی بھی ایمر جنسی کی صورت حال کا سامنا کرنے کے لئے تیار اور مستعد ہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان خان بزدار کی ہدایات کے مطابق سیلابی پانی سے متاثرہ آبادیوں اور زیر آب آنے والی فصلوں کے نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے ۔سیلابی پانی سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے ۔اوپر بیان کردہ فلڈ ریلیف کیمپوں میں محکمہ صحت ،لائیو اسٹاک، ریونیو ،1122اور دیگر محکموں کے کیمپ فعال ہیں۔سروے کے مطابق سیلابی علاقوں سے منتقل ہونے والے لوگوں کے پاس تا حال اپنا راشن اور مویشیوں کے لئے بھوسہ وغیرہ موجود ہے ۔انچارج ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی نے مزید بتایا کہ بھارت کی طرف سے پاکستانی دریا ﺅں میں چھوڑے جانے والے پانی سے ضلع راجن پور کو کوئی خطرہ نہیں۔راجن پور کے لوگوں سے اپیل ہے کہ کسی بھی غیر معمولی سیلابی صورتحال یا ریلیف کی ضرورت کے لئے ضلعی انتظامیہ کی طرف سے چوبیس گھنٹے فعال کنٹرول روم سے فون نمبر 0604-920029پر رابطہ کیا جا سکتا ہے ۔روجھان سے نمائندہ پاکستان کے مطابق دریائے سندھ میں طغیانی کا سلسلہ جاری متاثرین کپاس ،مونگی کی فصلیں تباہ ،بستی جام مکھن جھلن میں کمسن بچی ڈوب کر جاں بحق تفصیل کے مطابق دریائے سندھ کی تباہی کا سلسلہ جاری ہے سیلاب میں گھری بستی جام مکھن جھلن میں کمسن بچی (م) ولد عیسی قوم جھلن گھر کے قریبی سیلابی پانی میں ڈوب کر جاں بحق یوگءجس کی لواحقین نے اپنی مدد آپ کے تحت لاش نکال لی اسکے علاوہ دریائے سندھ سے بستی جام مکھن جھلن ،کچہ مندری ،میراں پور ،بستی سیلاتانی سمیت کءعلاقے زیرآب آگئے دریائے سندھ کی سیلابی ریلے سے متاثرین کی کپاس اور مونگی کی فصلیں تباہ ہوگءہیں اور گھر پانی میں گھرے ہوئے ہیں اسکے علاوہ سیلابی پانی سے زیر آب آنے والی بستی دیرہ دلدار میں ایک طرف سیلابی پانی اور دوسری طرف ان کے گھروں کے آگے بے تحاشہ سیم نکل آیا ہے سیم کے گندے پانی کی وجہ سے مچھروں کی آماجگاہ بن گی ہے جس کی وجہ سے بستی میں وبائی امراض ملیریا، اور جلدی امراض پھیلنے کا بھی اندیشہ ہے بستی دیرہ دلدار کے مکینوں میں حاجی شاہد حمید خان مزاری ، ہدایت اللہ خان مزاری ، محمد وسیم دھریجہ، مشتاق احمد نوناری، راشد حمید خان و دیگر افراد نے ڈپٹی کمشنر راجن پور محمد افضل ناصر سے اپیل کی ہے کہ دیرہ دلدار کی بستی حاجی شاہد حمید خان مزاری سیم کا گندہ پانی نکالا جائے تاکہ مچھروں سے نجات اور ملیریا اور جلدی امراض سے بجا جا سکے ۔جتوئی سے نامہ نگا رکے مطاب دریائے سندھ بھپر گیا متعدد مقامات پر کٹاو درمیانے درجے کا سیلاب انتظامیہ انہار اور ضلعی انتظامیہ کی نااہلی کے باعث کئی بستیاں فصلیں دریا برد ہوگئیں تفصیلات کے مطابق تحصیل جتوئی کے نواحی علاقوں جن لنڈی پتافی رام پور بیٹ دریائی کے رہائشی محمد بلال عبید اللہ کلیم اللہ محمد وسیم محمد اسلم فیض بخش رسول بخش اقبال حسین محمد علی نادر عباس سرفراز نواز شریف صادق حسین احمد رضا عابد حسن ودیگر نے انتظامیہ کے خلاف احجتاج کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ لنڈی پتافی کے مقام پر 20 سالوں سے دریائے سندھ کٹاو کر رہاہے یہ بھی کہا کہ انتظامیہ اور مقامی سیاست دانوں نے دریائے سندھ کے کٹاو کو روکنے کیلئے کوئی انتظام نہیں کیا اور آج بھی دریاو کے کٹاو سے کئی خاندان بے گھر ہو چکے ہیں انہوں کہا کہ دریائے سندھ میں پانی کا اضافہ ہوتے ہی مزید تباہی جاری ہے ان کہا کہ انتظامیہ نے کوئی فلیڈ ریلیف کمپ نہیں لگایا گیا واضع رہے کہ کچھ عرصہ قبل مقامی سیاسی کے لوگوں نے بیٹ دریائی کے مقام پر 54 کروڑ روپے سے سپر بند کا کام شروع کرنے گیا تھا مگر یہ منصوبہ بھی کرپشن نے نظر ہو گیا اب وہ کام آج تک مکمل نہیں کیا گیا متاثرین اپنی مدد آپ کے تحت نقل مکانی کر رہے ہیں متاثرین نے اپیل کی ہے کہ فوری طور پر امدادی تیمیں بھیج کر فلڈریلف کیمپ لگائے جائیں تاکہ متاثرین لوگوں کو فوری ریلف مل سکے۔بہاولنگر سے نمائندہ خصوصی کے مطابق ڈپٹی کمشنر شعیب خان جدون نے بہاول نگرمیں دریائے ستلج کی دریائی بیلٹ کے علاقے ٹکڑا عاکوکا کا دورہ کیا۔اس علاقے میں سیلابی پانی کے خدشات کے پیش نظر ایک سب آفس بھی قائم کیا گیا ہے اور ڈپٹی کمشنر شعیب خان جدون کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر محمد یوسف ٹکڑا عاکوکا کی کڑی نگرانی بھی کررہے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر نے بوٹس کے ذریعے ریسکیو کی وردی میں ملبوس ہوکر دریائے ستلج کے پانی سے کٹاو¿ کا جائزہ لیا۔اسسٹنٹ کمشنر بہاول نگر محمد یوسف ،ایڈیشنل ڈائریکٹر لائیو سٹاک ڈاکٹر حق نواز،ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر راو¿ شرافت اور محکمہ ریونیو اور ریسکیو کے اہلکاران بھی موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر شعیب جدون نے ریونیو افسران ، لائیو سٹاک اور ریسکیو کو متوقع سیلاب کی صورت حال میں تمام تر تیاریاں اور سامان آپریشنل حالت میں رکھنے اور لگن کے ساتھ کام کرنے کی ہدایت کی۔ دریں اثنا ڈپٹی کمشنر آفس میں قائم کنٹرول روم نے پی ڈی ایم سے موصولہ امدادی اشیائ و سامان کے تھیلے متعلقہ تحصیلوں میں ارسال کردیے ہیں اور سیلاب کی صورت میںمتاثرہ افراد میں یہ امدادی سامان تقسیم کیا جائے گا۔میلسی سے سپیشل رپورٹر کے مطابق دریائے ستلج میں بھارت کیجانب سے چھوڑے گئے پانی نے ملک کے دیگر حصوں کی طرح تحصیل میلسی کے نواحی علاقوں کو بھی اپنی لپیٹ میںلینا شروع کر دیا میلسی سائیفن کے مقام پر ضلعی انتظامیہ وہاڑی نے فلڈ ریلیف قائم کرتے ہوئے دیہی علاقوں کے رہائشیوں کو سیلاب کی صورتحال سے آگاہ کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا گذشتہ روز محکمہ انہار کے جاری کیئے جانیوالے اعداد و شمار کے مطابق دریائے ستلج میں ہیڈگنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا لیول مزید اونچا ہو کر 19.30 فٹ ہو گیا ہے جبکہ اس مقام سے پانی کا اخراج 60340 کیوسک ، ہیڈ سلیمانکی پر پانی کی آمد 40882 کیوسک جبکہ اخراج 29318 کیوسک ہے ہیڈ اسلام پر پانی کی آمد 9421 کیوسک جبکہ اخراج 7871 کیوسک ہے ، میلسی ہیڈ سائیفن کے مقام پر پانی کی آمد 7285 کیوسک ہو چکی ہے ضلعی انتظامیہ نے متوقع سیلاب سے نمٹنے کیلئے انتظامات مکمل کر لیئے ہیں اور دریا کے کنارے موجود آبادیوں کے رہائشی افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -