ڈسٹرکٹ ہسپتال ملتان کا منصوبہ التواء کا شکار‘ تخمینہ لاگت میں 10کروڑ کا اضافہ

ڈسٹرکٹ ہسپتال ملتان کا منصوبہ التواء کا شکار‘ تخمینہ لاگت میں 10کروڑ کا ...

  

ملتان(وقائع نگار) ملتان میں ڈسٹرکٹ ہسپتال کا منصوبہ گزشتہ پانچ سال سے فعال نہ ہو سکا۔ 700 ملین سے زائد لاگت سے تیار ڈسٹرکٹ ہسپتال کا منصوبہ تاحال نامکمل ہے۔معلوم ہوا ہے ملتان میں سرکاری علاج گاہوں میں علاج کی سہولیات کی کمی کا گلہ ملتان کے شہری کرتے نظر آتے (بقیہ نمبر9صفحہ12پر)

ہیں۔ پر اسکی اصل وجہ ہسپتالوں میں سہولیات کی کمی نہیں بلکہ آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے ہسپتالوں کے قیام کا عمل میں نہ لانا ہے۔ ایسے ہی صورتحال کا سامنا ملتان شہر کے باسیوں کواس وقت بھی کرنا پڑا ہے۔ سال 2014 میں بہاولپور بائی پاس کے پاس کے قریب ڈسٹرکٹ ہسپتال بنانے کے کام کا آغاز کیا گیا۔اڑھائی سال میں مکمل ہونے والا منصوبہ پانچ سال گزر جانے کآ باوجود تاحال مکمل نہ ہو سکا۔ واضح رہے مذکورہ ہسپتال کے منصوبے کی مالیت میں بھی اس وقت تک دس کروڑ روپے سے زائد کا اضافہ ہو چکا ہے۔جبکہ دوسری جانب ہسپتال فعال نہ ہونے سے ملتان میں پہلے سے موجود سرکاری ہسپتالوں پر مریضون کا لوڈ بڑھ گیا ہے۔ملتان میں ڈسٹرکٹ ہسپتال کا منصوبہ شروع ہونے کے بعد ٹی ایچ کیو ہسپتال ملتان،سول ہسپتال اور فاطمہ جناح کو ملا کر عارضی طور پر ڈسٹرکٹ ہسپتال کا درجہ دے دیا گیا۔کاغذوں میں تو ملتان کو ڈسٹرکت ہسپتال مل گیا پر زمینی حقائق اسکے برعکس ہیں۔ کیونکہ ملتان تاحال ڈسٹرکت ہسپتال کی سہولت سے محروم ہے،ڈسٹرکٹ ہسپتال کے منصوبے کے حوالے سے سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر منور عباس کا کہنا ہے کے ہسپتال جون 2020 میں مکمل ہو گا۔ کمشنر اور ڈی سی ملتان کے احکامات پر اس سال دسمبر میں ہسپتال کا کچھ حصہ فعال کرنے کی کوشش کی جائے گی۔شہریوں نے مذکورہ ہسپتال کا فوری فعال ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

ڈسٹرکٹ ہسپتال

مزید :

ملتان صفحہ آخر -