آزادی کشمیر کی تحریک ’’ابھی نہیں یا کبھی نہیں ‘‘کے مرحلے میں داخل ہوگئی،حکومت قوم کو متحد کرنے کی بجائے قومی یکجہتی پارہ پارہ کررہی ہے:سراج الحق

آزادی کشمیر کی تحریک ’’ابھی نہیں یا کبھی نہیں ‘‘کے مرحلے میں داخل ...
آزادی کشمیر کی تحریک ’’ابھی نہیں یا کبھی نہیں ‘‘کے مرحلے میں داخل ہوگئی،حکومت قوم کو متحد کرنے کی بجائے قومی یکجہتی پارہ پارہ کررہی ہے:سراج الحق

  


لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ کشمیر کی آزادی کی تحریک ابھی نہیں یا کبھی نہیں کے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے،کشمیری پاکستان کی طرف اور پاکستانی حکمران امریکہ کی طرف دیکھ رہے ہیں،حکومت قوم کو کشمیر پر متحد کرنے کی بجائے قومی یکجہتی کو پارہ پارہ کررہی ہے،مصیبت کے دنوں میں تو جنگل کے جانور بھی آپس میں نہیں لڑتے،ایک طرف ہمارے گھر میں آگ لگی ہے ،ہمارے بچوں کو ذبح کیا اور ہماری بہنوں اور بیٹیوں کی عزتوں سے کھیلا جارہا ہے جبکہ حکمران ایئر کنڈیشنر ہالوں میں بیٹھ کر بیانات جاری کررہے ہیں،نہتے مگر ایمان کی قوت سے مالا مال افغانوں نے تین عالمی طاقتوں کو شکست دی مگر ایٹمی پاکستان کے حکمران ماؤں بہنوں بیٹیوں کی چیخ و پکار پر بھی اٹھنے کو تیار نہیں،جماعت اسلامی کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے 25اگست کو پشاور اور یکم ستمبر کو کراچی میں’’کشمیر بچاؤ مارچ‘‘ کرے گی۔

جامع مسجد منصورہ میں بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئےسینیٹر سراج الحق نے کہا کہ بھارت کشمیر یوں کا قتل عام کررہا ہے،کرفیو کو اس لئے لمبا کیا جارہا ہے کہ لوگوں کے گھروں سے کھانے پینے کی اشیاء ختم ہوجائیں اور لوگ بھوک اور پیاس کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جائیں،حکومت معمول کی سرگرمیاں چھوڑ کر کشمیر کی آزادی پر فوکس کرے اور 19دنوں سے محبوس کشمیریوں کی عملی مدد کیلئے آگے بڑھے،حکومت نے ایل او سی پر لگی باڑ کونہ گرایا تو دونوں طرف کے کشمیری خود اس دیوار برلن کو گرادیں گے ۔انہوں نے کہا کہ اگر افغان تین عالمی طاقتوں کو شکست دے سکتے ہیں تو ہم بھی بھارت کا غرورتوڑ سکتے ہیں، کشمیر میں لوگ اپنے گھروں میں محصور ہیں اور چوکوں اور چوراہوں میں خونی کھیل کھیلا جارہا ہے ،بھارت کی 15لاکھ فوج اور آرایس ایس کے غنڈے بہت بڑے پیمانے پر قتل عام کرنے کی سازش تیار کررہے ہیں مگر کسی ایک اسلامی ملک کے حکمران نے ملی غیرت اور حمیت کا ثبوت نہیں دیا۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ کشمیر ی بھارت کے سامنے جھکنے اور مودی کی خدائی تسلیم کرنے کو تیار نہیں،آزادی کیلئے لازوال قربانیاں دینے والی کشمیر ی قوم عالم اسلام کی طرف دیکھ رہی ہے لیکن بزدل اور کمزور قیادت کشمیر یوں کی کوئی عملی مدد کرنے کو تیار نہیں،حکمران جہاد سے منہ موڑ رہے ہیں،جہاد اور شہادت کے لفظ کو خطرناک قرار دیکر قرآن و سنت کے احکامات کو نصاب تعلیم سے خارج کیا جارہا ہے،مسلمانوں کے اندر سے اسلامی اخوت اور ایمان کی روشنی کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،حکمران ٹرمپ کے اتنے دیوانے ہیں کہ اس کے علاوہ کسی کی سننے کو تیار نہیں۔

مزید : قومی


loading...