چوہدری شجاعت حسین کی صحت اب کیسی ہے اور وہ کب تک ہسپتال میں زیر علاج رہیں گے؟اہم خبر آ گئی

چوہدری شجاعت حسین کی صحت اب کیسی ہے اور وہ کب تک ہسپتال میں زیر علاج رہیں ...
چوہدری شجاعت حسین کی صحت اب کیسی ہے اور وہ کب تک ہسپتال میں زیر علاج رہیں گے؟اہم خبر آ گئی

  


گجرات ( ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق وفاقی وزیر چوہدری وجاہت حسین نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم  اور پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین کو  کل جرمنی کے ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا جائے گا،اب ان کی حالت بہت بہتر ہے،یہ سب چودھری ظہور الہی خاندان سے پیار کرنے والے عوام کی طرف سے ان کے لئے مسلسل دعاؤں کا نتیجہ ہے،دعائیں کرنے والوں کے ممنون اور مشکور ہیں اور ان افراد کے بھی جنہوں نے جرمنی فون کرکے قائد کی خیریت دریافت کی ۔

تفصیلات کے مطابق  روزنامہ ’’پاکستان‘‘ کےبیورو چیف مرزا نعیم الرحمان سےجرمنی سے ٹیلیفون پرگفتگو کرتےہوئےچوہدری وجاہت حسین کاکہنا تھا کہہمارا اس بات پرغیرمتزلزل ایمان ہے کہ دعائیں تقدیر بدل دیتی ہیں اور یہ معجزہ چوہدری شجاعت حسین کی صحتیابی کی صورت میں ہمارے سامنےہے،ہم خداوند کریم کے انتہائی شکرگزار ہیں جس نےان کے بڑے بھائی چوہدری شجاعت حسین کو صحت عطا کی. انہوں نے کہا کہ چودھری شجاعت حسین ہسپتال سے ڈسچارج ہوکر چند دنوں کے لئے گھر آرام کریں گے اور وہ جلد ہی وہ اپنے چاہنے والوں کے درمیان ہونگے ۔علاوہ ازیں چوہدری  شجاعت  حسین کے صاحبزادوں ممبر قومی اسمبلی چوہدری سالک حسین، چودھری شافع حسین ،رکن قومی اسمبلی چوہدری مونس الٰہی ، چوہدری موسی الہی اور سید امیر حسین شاہ نے خصوصی طور پر  گجرات کی عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جس شخصیت کے لیے لاکھوں کروڑوں لوگ اللہ کے حضور گڑگڑا کر دعائیں کرتے ہیں، ہم ان کا احسان ساری زندگی نہیں بلا سکتے.دوسری طرف  سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی نے پاکستان مسلم لیگ  کے کارکنوں کے علاوہ تمام ممبران قومی و صوبائی اسمبلی، عوامی رہنماؤں اور مختلف ممالک میں مقیم تارکین وطن کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے نہ صرف جرمنی آکر ان کی عیادت کی بلکہ ان کی صحت یابی کیلئے قرآن خوانی اور دعاؤں کا اہتمام بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے محبوب قائد جلد عوام میں ہوں گے ،دعاؤں کا سلسلہ جاری رکھا جائے تاکہ چوہدری شجاعت حسین مکمل صحتیاب ہوکر اپنے چاہنے والوں کے درمیان آ جائیں۔ انہوں نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کبھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے مثبت صحافت کی۔

مزید : قومی


loading...