جج ارشد ملک کی ویڈیو نون لیگ نے بنائی اور نہ ہی سکینڈل کے طور پر سامنے لائے ،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ہائی کورٹ سے کوئی توقع نہیں:نہال ہاشمی

جج ارشد ملک کی ویڈیو نون لیگ نے بنائی اور نہ ہی سکینڈل کے طور پر سامنے لائے ...
جج ارشد ملک کی ویڈیو نون لیگ نے بنائی اور نہ ہی سکینڈل کے طور پر سامنے لائے ،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ہائی کورٹ سے کوئی توقع نہیں:نہال ہاشمی

  


کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان  مسلم لیگ ن کے رہنما نہال ہاشمی نے کہا ہے کہ احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کی ویڈیو مسلم لیگ نواز  نے نہیں بنائی  اور نہ ہی ہم اسے بطور سکینڈل سامنے لائے،ہمیں توقع تھی کہ لیب سے اس  ویڈیو کی تصدیق ہو جائے گی اور جو رسوائی ہوئی ہے اس داغ کو دھو دیا جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا ،سپریم کورٹ کے فیصلے نے اس  ویڈیو کو  بطور ثبوت نہیں لیا تو ہم کسی  طرح کوئی توقع رکھ سکتے  ہیں کہ ہائی کورٹ اس پر کوئی فیصلہ صادر کرے گی ؟۔

نجی ٹی وی چینل کے پروگرام ’’لائیو  وِد نصر اللہ ملک ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے نہال ہاشمی کا کہنا تھا کہ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کییہ ویڈیو جب پبلک ہوئی  اور  ہماری قیادت تک پہنچی تو اس بنیاد پر انہوں نے پریس کانفرنس کی ،یہ ایک پبلک ڈاکیومنٹ بن چکی ہے اور اس پر ایف آئی اے کو تین ہفتے کا موقع  دیا گیا کہ وہ اس کے مصدقہ ہونے کی تصدیق کر لے ،ہم بڑے مطمئن  تھے کہ ہماری سپریم کورٹ بڑی پاورفل ہے،183 کو انہوں نے پناما کیس میں ایکسرسائز کیا تھا ،جے آئی ٹی تشکیل دی ،تین ریفرنسز بھیجے اور ایک نگران جج  بھی مقرر کیا تھا،ہم سمجھتے ہیں کہ سپریم کورٹ  ان  پاورڈ ہے اور جب وہ کسی سچ کو جاننے کے لئےکسی بھی حد تک جاسکتی ہے تو پھر  اس کیس میں سپریم  کورٹ اٹارنی جنرل کو بھی بلا چکی تھی اور ایف آئی اے کو بھی ہدایات دی تھیں،ہمیں توقع تھی کہ لیب سے اس  ویڈیو کی تصدیق ہو جائے گی اور جو رسوائی ہوئی ہے اس داغ کو دھو دیا جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا ۔

انہوں نے کہا کہ احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کی ویڈیو کو  مسلم لیگ ن سکینڈل کے طور پر منظر عام پر نہیں لے کر آئی تھی،ہم ویڈیو  انصاف کے لئے سامنے لائے تھے ، سچ اور جھوٹ کے تقابلی جائزے کے لئے ویڈیو لائےاور کوئی بھی ویڈیو جو کہیں سے فلوٹ ہو اُس پر  پریس کانفرنس  کی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں امید تھی کہ اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کےبعد ہماری عدالتیں یہاں انصاف بھی کریں گی اور نواز شریف کی رہائی کا حکم دیں گی۔نہال ہاشمی کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے نے اس  ویڈیو کو  بطور ثبوت نہیں لیا تو ہم کسی  طرح کوئی توقع رکھ سکتے  ہیں کہ ہائی کورٹ اس پر کوئی فیصلہ صادر کرے گی ،جب پاکستان کے سب سے معزز اور بڑے با اختیار ادارے میں ایک چیز تھی تو پاکستان کے بائیس کروڑ عوام کو امید تھی کہ نواز شریف کو انصاف ملے گا۔

مزید : علاقائی /سندھ /کراچی


loading...