شہباز ضمانتی،نواز شریف کو واپس لائیں:حکومت،4ہفتے کیلئے علاج کرانے کی اجازت دی گئی تھی،ایک ٹیکہ لگانہ ہی کوئی رپورٹ جمع کرائی،ضمانت ختم ہوچکی،سٹیٹس مفرور:مشیر داخلہ

    شہباز ضمانتی،نواز شریف کو واپس لائیں:حکومت،4ہفتے کیلئے علاج کرانے کی ...

  

لاہور (جنرل رپورٹر) وزیراعظم عمران خان کے مشیر خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ(ن) کے قائد نواز شر یف کو واپس لانا صدر مسلم لیگ (ن) اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی ذمہ داری ہے کیونکہ وہ ان کے ضمانتی ہیں۔لاہور میں صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہا ن اور وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل کیساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مشیر داخلہ شہزاد اکبر کا کہنا تھا حالیہ عرصے کے دوران نوازشریف لندن کی سڑکوں پرچہل قدمی کررہے ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ سے العزیزیہ کیس میں 8 ہفتے کی ضمانت ہوئی تھی، نوازشریف کو 4 ہفتے کیلئے علاج کرانے کی اجازت دی گئی تھی اور شہباز شریف نے ان کی ضمانت دی تھی۔مشیر داخلہ اور احتساب کا مزید کہنا تھا نوازشریف کے ضمانتی شہبازشریف سے بھی پوچھیں گے، وہ اب ذمہ داری کا ثبوت دیں، تصاویرمیں توماشااللہ ان کی بڑی اچھی صحت ہے۔ نوازشریف لندن میں گھوم رہے ہیں یہ مذاق برداشت نہیں کیا جائے گا، سابق وزیراعظم خود لندن سے نہیں آئینگے، ان کوواپس لانے کیلئے تمام قانونی طر یقہ کاراختیارکیے جائیں گے۔ نوازشریف کوکرپشن کے دوکیسزمیں سزا ہوچکی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی یہی کہا ضمانت ختم ہوچکی سٹیٹس مفرورکا ہے، 6نومبر2019ء کو شہباز شریف نے عدالت کوانڈرٹیکنگ دی علاج کے بعد نوازشریف واپس آئیں گے۔ دو مارچ 2020ء کوبرطانوی حکومت کو خط لکھا گیا، عدالتی فیصلے کی کاپی ساتھ لگا کربرطانوی حکومت کوخط لکھا گیا۔ان کا کہنا تھا سابق وزیراعظم لندن میں علاج کا کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکے۔ میڈیکل بورڈ نے لندن میں علاج کی رپورٹس مانگی، لندن میں انہیں ایک ٹیکہ بھی نہیں لگا۔ عدالت اورحکومت پنجاب کو نواز شریف کی کوئی رپورٹ جمع نہیں کرائی گئی۔ چارہفتوں کیلئے علاج کرانے کی اجازت دی گئی تھی۔اپوزیشن سے متعلق بات کرتے ہوئے مشیر داخلہ کا کہنا تھا اپوزیشن کا انتہائی نان سیریس رویہ ہے۔ اپوزیشن لیڈروں کے ذاتی کیسزسے ہٹ کرملکی مفاد میں فیصلہ کرے۔ جتنا مرضی این آراوپلس،پلس مانگتے رہیں وزیراعظم عمران خان نے نہیں دینا، آپ جتنا مرضی شورمچالیں قانون توہم نے پاس کرانا ہے۔شہزاد اکبر کا کہنا تھا کیوں اپوزیشن چاہتی ہے نیب منی لانڈرنگ پرانویسٹی گیشن نہ کرے؟۔ قانون سازی ذاتی نہیں ملکی مفاد کیلئے کی جاتی ہیں، اپوزیشن ذاتی مفاد، ذاتی کیسزکیلئے ردوبدل نہ کرے، ہم کسی صورت بلیک میل نہیں ہونگے، اپوزیشن کوکسی صورت این آراوپلس نہیں دیں گے، بدقسمتی سے منی لانڈرنگ کے بارے میں اپوزیشن کا خیال کچھ اورہے، اپوزیشن منی لانڈرنگ کوسیریس جرائم نہیں سمجھتی، منی لانڈرنگ پراپوزیشن اپنی ڈیڑھ انچ کی مسجد کیسے بناکربیٹھے گی۔ منی لانڈرنگ مدرآف آل کرائم ہے۔ جہانگیر ترین کیس سے متعلق بات کرتے ہوئے انکاکہناتھا شوگرکمیشن کی سفارشات تمام اداروں کولکھ دی گئیں۔ ایف آئی اے اپنا کام شروع کرچکی ہے، جہانگیرترین کی کمپنی جے ڈی ڈبلیوعدالت میں سٹے کیلئے گئی ہے، ابھی تک جہانگیر ترین کی کمپنی کو سٹے نہیں ملا، شوگرکمیشن رپور ٹ میں جہانگیرترین، سلمان شہباز کا بھی نام ہے، شوگرکمیشن رپورٹ، اداروں نے قانون کے مطابق کارروائی کرنی ہے۔ اگرادارے کسی کوبلانے کا کہیں گے توایک لمحے کی بھی دیرنہیں ہوگی۔

شہزاد اکبر

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں سابق وزیراعظم اور قائد پاکستان مسلم لیگ (ن) نواز شریف کی سزا کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر کردی گئی۔اسلام آباد ہائی کورٹ کا دو رکنی بینچ یکم ستمبر کو اپیل کی سماعت کریگا۔ ساتھ ہی نیب کی نوازشریف کی سزا بڑھانے اور فلیگ شپ ریفرنس میں بریت کیخلاف اپیلیں بھی سماعت کیلئے مقرر کردی گئی ہیں،دوسری طرف قومی احتساب بیورو نے نواز شریف اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے صاحبزادے سلمان شہباز کو وطن واپس لانے کا فیصلہ کرتے ہوئے سابق وزیراعظم کو توشہ خانہ ریفرنس میں اشتہاری قرار دلوانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔نیب ذرائع کے مطابق العزیزیہ ریفرنس میں سزا پر عملدرآمد کیلئے بھی عدالت سے رجوع کیا جائیگا۔ نواز شریف کی طلبی کیلئے دفتر خارجہ کے ذریعے برطانیہ سے رابطے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ نیب کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ کو بھی نواز شریف کے مفرور ہونے سے آگاہ کرنے کا فیصلہ ہوا ہے۔ حکام کے مطابق نیب نے اس ضمن میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے کہ نواز شریف کی ضمانت ختم ہو چکی ہے وہ اب ایک ملزم اور مجرم ہیں۔ادھر نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ وفاقی حکومت آئندہ ہفتے نواز شریف کی وطن واپسی کیلئے کارروائی کا آغاز کریگی۔قومی احتساب بیورو (نیب) کا نواز شریف کو برطا نیہ سے لانے میں کوئی کردار نہیں، اس حوالے سے وزارتِ داخلہ کو برطانیہ اور انٹر پول کو خط لکھنا ہو گا۔نیب ذرائع کے مطابق نواز شریف کو بیرونِ ملک جانے کی اجازت نیب نے نہیں دی تھی، انہیں عدالتی حکم پر وفاقی حکومت نے بیرونِ ملک جانے کی اجازت دی تھی۔ذرائع کے مطابق سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی عدم واپسی کی صورت میں ان کے بھائی شہباز شریف ان کے ضمانتی بھی ہیں۔یاد رہے کہ العزیزیہ ریفرنس میں نوازشریف کی اپیل پر آخری سماعت 18 ستمبر کو ہوئی تھی۔نوازشریف اور نیب کی اپیلوں پر سماعت کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ کا خصوصی بنچ تشکیل دیا گیا ہے جس میں جسٹس عامرفاروق اورجسٹس محسن اخترکیانی شامل ہیں۔واضح رہے کہ احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ ریفرنسز کے فیصلے سنائے تھے۔ وڈیو سکینڈل آنے کے بعد جج محمد ارشد ملک کو عہدے سے برطرف کر دیا گیا تھا۔

العزیزیہ ریفرنس 

لاہور، اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،نیوز ایجنسیاں)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہا ہے نواز شریف پاکستانی قوم کے ہیرو ہیں،جب معالجین نے سر ٹیفکیٹ دیا تو نواز شریف ایک دن ضائع کئے بغیر وطن واپس آ جائیں گے،وزیراعظم عمران خان، صوبائی وزیر صحت اور مشیر صحت استعفیٰ دیں کہ ہم دھوکہ کھا گئے،یہ لوگوں کی بیماری پر بھی سیاست کرتے ہیں،انہوں نے ڈھٹائی کیساتھ کلثوم نواز کی صحت پر تنقید کی اور پھر شرمندہ پھرتے رہے،آج حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ جنہوں نے بلے کو ووٹ دیا وہ بھی آپ کا جلوس نکالنے کیلئے تیار ہیں،جھوٹے کیس بنانے کا اختیار تو صرف نیب کے پاس ہے،نیب حکومت کے اشاروں پر چلتی ہے،این آر او کی تسبیح کی حقیقت قوم کے سامنے رکھیں کہ کس نے این آر او مانگا ہے۔گزشتہ روزپارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا حکومت کے سپر چیئرمین نیب شہزاد اکبر نے پریس کانفرنس کی ہے جس میں حکومت نے دو سو صفحات ضائع کرکے رپورٹ شائع کی،حکومت رپورٹ کے پوسٹمارٹم سے بوکھلا گئی ہے،دو سال بعد حالات یہ ہیں کہ کہ ملک کی معیشت 7فیصد گر گئی ہے بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافہ کرنے کے بعد سرکلر ڈیٹ کیوں بڑھ گیا؟،ان کی باتوں پر تو شیطان بھی شرمندہ ہوتا ہوگا۔ نواز شریف حکومت کی تسلی کے بعد علاج کے لئے بیرو ن ملک گئے۔ہم نے کبھی بھی پی ٹی آئی والی اپوزیشن نہیں لی،ہم اپنی سیاست کیلئے ملکی مفاد سے نہیں کھیلتے۔ ہم نے آپ کی فیٹف میں چوری پکڑی،آپ فیٹف کی آڑ میں منی لانڈرنگ کا ایسا قانون بنا رہے تھے کہ کسی کو چھ ماہ کیلئے پکڑ ا جا سکتا ہے،یہ کالا قانون فیٹف کی ضرورت نہیں،حکومتی تکلیف ہمیں سمجھ آتی ہے،ان کو معلوم نہیں معیشت کو کیسے چلانا ہے اور ان سے حکومت چل نہیں رہی،ان کو نواز شریف کا فوبیا ہو جاتا ہے۔نواز شریف حکومت کو دھوکہ دے کر گئے تو کیا عمران خان اپوزیشن میں تھے؟یہ بات کابینہ میں کہی گئی کہ نواز شریف کی زندگی کو خطرہ ہے،عمران خان نے کہا میں نے انہیں باہر جانے کی اجازت دینے کافیصلہ کیا،وزیر صحت نے نواز شریف کے علاج کی نگرانی کی،ڈاکٹر فیصل سلطان اس وقت حکومت میں مشیر ہیں جنہوں نے نواز شریف کی زندگی کو خطرات لا حق ہونے کی تصدیق کی۔شہزاد اکبر بتائیں کس قانون کے تحت وزیر اعظم کے پاس این آر او دینے کااختیار ہے۔ ہم جیل.جانے کو تیار ہیں لیکن ان کے سامنے نہیں جھکیں گے۔آپ اپنی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے نان ایشوز کو ایشو بنا کر سیاست کرنا چاہتے ہیں۔ عمران خان ٹی وی پر آکر مناظرہ کرلیں، جتنی کرپشن اب ہو رہی ہے پہلے کبھی نہیں ہوئی،جہانگیر ترین کو رات کے اندھیرے میں کیسے باہر بھیجا گیا،ادویات سکینڈل میں نیب کو توفیق نہیں ہوئی کہ وہ تحقیقات کرے۔حکومتی انتقامی کارروائیوں کے اشتہار پوری دنیا میں لگ رہے ہیں۔ اسحاق ڈار کا کیس ثابت ہو چکا،انٹرپول نے کہا کہ سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کیلئے واپس بلایا جا رہا ہے۔ دوسری طرف ترجمان  مسلم لیگ(ن) مریم اورنگزیب کا کہناہے کہ چینی اورآٹا چوروں کوعمران خان نے چارٹرجہازمیں بٹھا کراین آراودے کرفرارکرایا،چینی110روپے میں مل رہی ہے، روزاجلاس بلا کرکہتے ہیں نوازشریف کوواپس بلارہے ہیں، اگرنواز،شہبازشریف نے منی لانڈرنگ کی توعدالت میں ثبو ت کیوں نہیں دیتے۔ناکامی اورکرپشن سے نظرہٹانے کیلئے نوازشریف کا نام استعمال کرتے ہیں،جوقانون ملک کی ترقی کیخلاف ہوگا ڈٹ کرآوازاٹھائیں گے۔ اگررپورٹس پرشبہ ہے تومیڈیکل بورڈ،وزیروں کوجیلوں میں ڈالیں۔ عثمان بزدار، ڈاکٹریاسمین راشد کوعبرت کا نشان بنائیں۔ پچھلے ماہ نوازشریف کی رپورٹس جمع کرائی گئی، اے پی سی کی تاریخ اور سلیکٹڈ وزیراعظم کوگھربھیجنے کا اعلان جلد کردیا جائے گا۔ مشیر داخلہ شہزاداکبرتقریریں کرنے سے پہلے وزیرخارجہ سے مشورہ کریں۔

مسلم لیگ ن 

مزید :

صفحہ اول -