پاکستان اور چین سی پیک منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لئے پر عزم

پاکستان اور چین سی پیک منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لئے پر عزم

  

پاکستان اور چین کے وزرائے خارجہ نے سی پیک کی تعمیر میں پیش رفت اور سی پیک منصوبوں کو بروقت مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی تعمیر میں عالمی برادری کو شامل کرنے پراتفاق رائے کیا۔ چین کے صوبہ حنان میں پاک چین اسٹرٹیجک مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے اختتام پر دونوں وزرائے خارجہ نے پریس کانفرنس سے خطاب کیا، اس موقع پرخطے میں باہمی مفادات کے تحفظ اور امن، خوشحالی و ترقی کو فروغ دینے کے لئے مشترکہ اقدامات کرنے پر زور دیا گیا اور ساتھ ہی ساتھ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی زون، صنعتی مستقبل، سائنس و ٹیکنالوجی،صحت، زراعت، غربت کے خاتمے اور دیگر شعبوں میں تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار بھی کیا گیا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان اور چین جب سے وجود میں آئے ہیں،ایک دوسرے کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں، دونوں ممالک نے ہر مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کے ساتھ غیرمشروط تعاون کیا۔ موجودہ عالمی تناظر میں اگر ہم مختلف ممالک کے آپس میں روابط، دوستی اور بھائی چارے کا جائزہ لیں تو پاکستان اور چین کی دوستی کافی پائیدار اور جاندارمعلوم ہوتی ہے۔ سالہا سال کی دوستی نے دونوں ممالک کی قیادت کو کافی حد تک ایک دوسرے کے قریب کر دیا ہے، چینی صدر شی جن پنگ کا عارف علوی کو خط اس قربت کی نشاندہی کرتا ہے۔اپنے خط میں صدر شی چن پنگ نے سی پیک کو پاکستان اور چین کے مابین برادرانہ تعلقات کی مثال قرار دیا۔

پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، لیکن بدقسمتی سے ان وسائل کو کبھی مکمل طور پر استعمال ہی نہیں کیا جاسکا۔ سی پیک پاکستان کی تقدیربدلنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، پاکستان  اپنے پیروں پر کھڑاہو سکتاہے۔ معاشی صورت حال بہتر ہو سکتی ہے اور بیرونی قرضوں میں کمی آ سکتی ہے۔ پاکستان خود مختار ممالک کی صف میں کھڑا ہو سکتا ہے۔سی پیک  خطے میں گیم چینجر کی حیثیت اختیار کر سکتا ہے، اگر سی پیک کے آدھے پراجیکٹس بھی مکمل  ہو جائیں توکافی خوشحالی آ نے کی امید ہے۔

 سی پیک کی اہمیت سے تمام بیرونی و اندرونی قوتیں بخوبی واقف ہیں،یہی قوتیں پاکستان کی خوشحالی اور خطے کے استحکام کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب سے سی پیک کی تعمیر کے معاہدے طے پائے ہیں ملک دشمن عناصر،اس پر انگلی اٹھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے،ہمیشہ سے طرح طرح کے سوال اٹھاتے آئے ہیں۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ اگر سی پیک التواء کا شکار نہ ہوتا تو بہت سے منصوبے بہت بروقت مکمل ہو سکتے تھے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔پاکستان نے سی پیک منصوبوں پر مکمل عملدرآمد کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے سی پیک اتھارٹی قائم کی جس کی سربراہی خطے کی صورت حال، سیکیورٹی اور بیانیہ کے چیلنجوں کے پیش نظرریٹائرڈجنرل عاصم سلیم باجوہ کوسونپی گئی۔

یہ بات تو واضح ہے کہ سی پیک منصوبوں پر عملدرآمد ایک بہت بڑا چیلنج ہے، جس کو پورا کرنے کے لئے پاکستان اور چین دونوں کو مل کر کوشش کرنا ہو گی۔اس وقت دنیا تیزی سے تبدیل ہوتی نظر آرہی ہے، نئے اتحاد جنم لے رہے ہیں، پرانی وابستگیاں ٹوٹ رہی ہیں، کل کے دشمن آج ایک دوسرے کی طرف دوستی کے ہاتھ بڑھا رہے ہیں۔بھارت اور چین آمنے سامنے ہیں، امریکہ کوڈ 19 کے بعد عالمی نمبرون کی پوزیشن برقرار رکھنے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے، اس کو ہر جگہ چین کا سامناہے۔ پاکستان کوبھی اس خطے میں کافی خطرات کا سامنا ہے، ایک طرف بھارت ہے تو دوسری طرف افغانستان۔ایسے میں چین کی دوستی پاکستا ن کے لئے بہت بڑا سہارا ہے۔روشن اور خوشحال مستقبل  کے لئے سی پیک کے منصوبوں کی تکمیل بہت اہمیت کی حامل ہے۔ کورونا اور دوسری بہت سی وجوہات کی بناء پر اس وقت معیشت کافی حد تک غیر مستحکم ہے، بیروزگاری روز بروز بڑھ رہی ہے، مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے، ایسی حالت میں سی پیک کے منصوبوں کی تعمیرمیں التواء نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، ان کو بروقت مکمل کرنے میں ہی ہماری عافیت ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -