ہجری سال نو!

ہجری سال نو!
ہجری سال نو!

  

دنیا بھر میں ہجری سال نو شروع ہو چکا اور آج ماہ مقدس محرم الحرام کی دوسری تاریخ ہے اور یہ تحریر قارئین تک پہنچے گی تو تیسری ہو چکی ہو گی۔ عیسوی سال باقاعدہ طے شدہ تاریخ کے مطابق شروع ہوتا اور 31 دسمبر کی شب کو دنیا بھر کے لوگ سال نو کی خوشی مناتے ہیں اور بتدریج مشرق میں بھی پاکستان سمیت ایسا ہی ہوتا ہے اور لوگ ہلا گلا کرتے ہیں۔ تاہم اسلامی سال نو کا آغاز ہو تو خوشی منانا مشکل ترین مسئلہ ہے۔ اگرچہ اب ہم مسلمان لوگ ایک دوسرے کو سال نو کی مبارک دیتے وقت بھی، دعائیہ فقرے ہی ادا کرتے ہیں اب اس میں ہم عام لوگوں کا تو کوئی قصور نہیں کہ یہ ماہ مقدس شروع ہی درد ناک اور دکھ والے سانحات سے ہوتا ہے۔ یکم محرم الحرام شروع ہی خلیفہ دوم فاتح عالم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وصال سے ہوتا ہے کہ ان کی شہادت اسی تاریخ کو ہوئی۔ اور پھر یہی وہ مہینہ ہے جس کے دوران یزیدی لشکر نے حضورؐ اکرم کے نواسے حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان کے 72 ساتھیوں سمیت میدان کربلا میں روکا، گھیرا اور پھر شہادت عظیم کا وہ سانحہ پیش آیا جس میں نواسہ رسولؐ (خاتم النبین) کو شہید کر دیا گیا اس سانحہ شہادت (واقعات کربلا) کا سوگ پوری مسلم امہ میں منایا جاتا ہے اور برصغیر پاک و ہند کی اپنی روایات ہیں یہاں ایام محرم میں جہاں محافل ذکر ہوتی ہیں وہاں مجالس اور ماتمی جلوسوں کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے اور اس حوالے سے برصغیر کی اپنی روایات ہیں ان میں مرثیہ خوانی بھی شامل ہے جبکہ نعتیہ کلام بھی نذر کیا جاتا ہے۔

اس سال جب ماہ مقدس اور سال نو کا آغاز ہوا تو دنیا بھر میں کورونا کی وجہ سے بہت بڑی تبدیلی آ چکی ہے اجتماعات تو دور کی بات لوگوں کو سماجی فاصلہ رکھنے کی تلقین کی جاتی ہے۔ پاکستان میں اس جرثومے (کورونا وائرس) کی شدت میں کافی کمی آئی اور حکومت نے معیشت کی بحالی کے لئے کاروبار کی اجازت دے دی بازار کھل گئے اور دفاتر میں بھی کام ہونے لگا ہے تاہم ساتھ ہی ساتھ ہدایات بھی موجود ہیں کہ ماسک پہن کر باہر نکلاا ور چلا پھرا جائے۔ سینٹی ٹائیزر کا استعمال ہو، ہاتھ بھی دھوئے ہیں اور سماجی فاصلے کا پورا پورا خیال رکھا جائے ابھی تک اجتماعات کی اجازت نہیں ہے تاہم محرم الحرام میں مجالس اور ماتمی جلوسوں کا اہتمام اپنی جگہ ایک مسئلہ ہے اس کے لئے کئی میٹنگوں میں مشاورت ہوئی اور یہ طے کیا گیا کہ اس حوالے سے بھی ایس او پیز (حفاظتی اقدامات) پر بھرپور طریقے سے عمل کیا جائے گا خبر ہے کہ عزا دار مجالس اور جلوس میں شرکت کریں گے تو ان کو ماسک لازمی پہننا اور پھر سماجی فاصلہ بھی برقرار رکھنا ہوگا جبکہ نیاز عام تقسیم نہیں ہو گی اس کے لئے پیکنگ استعمال کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی روایت کے مطابق جو حفاظتی انتظامات عرصہ سے مروج ہیں، وہ سب کئے جائیں گے۔ عزاداروں کے لئے بھی درجہ حرارت کی جانچ کے ساتھ ساتھ حفاظت کے لئے تلاشی بھی ہو گی اور غیر متعلقہ لوگوں کا مجالس اور جلوسوں میں داخلہ ممنوع ہوگا۔

یہ سب تفصیل لکھتے ہوئے، ذہن ماضی کی طرف پلٹ گیا۔ جب اس شہر لاہور میں ماحول ہی مختلف تھا لاہور میں عزاداری کا مرکز پرانا شہر اور اس میں چوک نواب صاحب تھا، یوں پرانی کوتوالی، اندرون دہلی،اکبری  اور موچی دروازہ کے علاقے ماتمی جلوسوں کے لئے معروف و مشہور تھے۔ اب بھی نویں، دسویں محرم کا مرکزی جلوس نثار حویلی (محلہ چہل بیبیاں) سے برآمد ہوتا ہے اور ساتویں محرم کو چوک نواب صاحب کے اردگرد کی امام بارگاہوں سے سات ذوالجناح (جلوس) برآمد ہوتے ہیں۔ یہ ہمارا پیدائشی محلہ اور علاقہ ہے ہمارے والد صاحب بتایا کرتے تھے کہ قیام پاکستان سے پہلے ماحول دوستانہ اور برادرانہ تھا، کوئی تفرقہ نہیں تھا اور محرم مل جل کر منایا جاتا تھا علاقے کے سبھی لوگ نذر نیاز کا بھی اہتمام کرتے اور مجالس و وعظ مل کر سنتے جلوس دیکھتے اور جلوسوں میں شرکت بھی کر لیتے تھے۔ ہمیں یہ بھی یاد ہے (بقول دادی جان) کہ ہماری دادی ہمیں بچپن میں جلوس ذوالجناح میں شرکت کے لئے کالا کرتا پہنا کرلے جا تیں اور ہم بھی عزاداروں کو دیکھ کر ماتم کرتے تو ہمارے محلے دار بڑے اہل تشیع ہمیں اٹھائے اٹھائے پھرتے تھے بہرحال یہ سب اس بچپن کا حصہ ہے، جب ہم بچے تھے، تاہم یہ ہماری اپنی سمجھ اور ہوش کے دور کا   زمانہ ہے جب ہم دوست مل کر حویلی قزلباش میں مجلس سننے چلے تھے اور سردیوں والے محرم میں تو ہم سب ایک امام بارگاہ سے دوسری امام بار گاہ تک کے چکر لگاتے، کشمیری چائے اور باقر خانی شوق سے کھاتے پیتے تھے۔

یہ بھی اسی دور کے حالات ہیں کہ ہمارے بزرگ حضرت علامہ ابوالحسناتؒ اپنے مکان کی گیلری میں تشریف فرما ہوتے لاؤڈ سپیکر گلی کی نکڑ پر اکبری منڈی میں لگایا جاتا، وہ یکم محرم سے 10 ویں محرم تک اس سال نو کے تمام واقعات تاریخی اور دینی پس منظر کے ساتھ بیان کرتے، اکبری منڈی کا یہ حصہ حویلیوں والی امام بارگاہوں کے لےء مرکزی گزر گاہ تھا اس دور میں محترم مظفر علی قزلباش اور ایسے دوسرے بزرگ جب یہاں سے گزرتے تو رک کر حضرت علامہ ابولحسناتؒ کا وعظ سن کر جاتے۔ دوسری طرف نثار حویلی یا حویلی قزلباش میں علامہ کفایت حسین (مرحوم) مجلس آرا ہوتے اور سانحہ محرم و کربلا کا ذکر کرتے ان کے مجلس پڑھنے اور تقریر کا اپنا ہی انداز تھا اور لوگ سر دھنتے تھے، ان کی طرف سے یا علامہ ابوالحسنات کی جانب سے کبھی کسی کو شکایت کا کوئی موقع نہیں ملا اور یوں رواداری میں یہ مقدس مہینہ گزر جاتا تھا۔ محرم الحرام کا مہینہ اتنا مقدس ہے کہ ہمارے اولیاء اللہ (رحم اللہ علیہم) کے عرس اسی ماہ میں ہوتے ہیں لاہور میں تو حضرت امام حسینؓ کے چہلم والے روز حضرت علی ہجویری داتا گنج بخش کا عرس مبارک ہوتا اور پاکپتن میں بابا فرید گنج شکرؒ کے عرس کی تقریبات کا آغاز بھی یکم محرم کو ہوتا ہے۔

سب ٹھیک تھا۔ کوئی مسئلہ پیدا نہ ہوتا تھا پھر غالباً نظر بد لگی فرقہ واریت کا زہر شامل ہوا حافظ کفایت حسین اور علامہ ابوالحسنات جیسی شخصیات اور مظفر علی قزلباش جیسے راہنما نہ رہے اور کشیدگی کا ماحول شروع ہو گیا اور اب تومحرم کی آمد سے پہلے ہی حفاظتی اقدامات کا ذکر شروع ہو جاتا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ اندرون شہر کے گھروں کی جو چھتیں جلوس دیکھنے والوں سے بھری ہوتی تھیں وہ اب خالی اور بازار بند ہوتے ہیں، جیسے ہڑتال ہو، اللہ سے دعا ہے کہ سب لوگ احترام کریں اور فرقہ پرستی سے گریز کریں۔

مزید :

رائے -کالم -