افغانستان: ماضی والی غلطی نہ دہرائی جائے!

افغانستان: ماضی والی غلطی نہ دہرائی جائے!
افغانستان: ماضی والی غلطی نہ دہرائی جائے!

  

حال ہی میں افغانستان کے لویہ جرگہ نے سنگین جرائم میں ملوث چار سو طالبان قیدیوں کی رہائی کی منظوری دی ہے۔ دارالحکومت کابل میں تین روز تک جاری رہنے والے لویہ جرگہ کے اختتام پر 25 نکات پر مشتمل قرارداد منظور کی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ رہائی پانے والے باقی ماندہ طالبان اسیروں میں اگر کوئی غیر ملکی بھی شامل ہے تو انہیں ان کے ممالک کو دوبارہ افغانستان میں داخل نہ ہونے کی ضمانت پر حوالے کیا جائے۔ قرارداد میں طالبان سے طویل مدت کے لیے جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اب طالبان بھی مزید تاخیر نہ کرتے ہوئے فوری طور پر انٹرا افغان ڈائیلاگ کا اعلان کر دیں تاکہ ایک پُرامن اور خوشحال افغانستان کی جانب قدم بڑھائے جا سکیں۔ قرارداد کی منظوری کے بعد صدر اشرف غنی نے باقی ماندہ طالبان اسیروں کی رہائی کا حکم دے دیا۔

واضح رہے کہ امسال 29 فروری کو امریکا اور افغان طالبان کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت کابل حکومت کو 5 ہزار طالبان اسیروں کو رہا کرنا تھا۔ اب تک 4600 قیدیوں کو رہا کیا جا چکا تھا جبکہ باقی ماندہ 400 قیدیوں کے سنگین جرائم میں ملوث ہونے پر ان کی رہائی لویہ جرگہ کی منظوری سے مشروط کی گئی تھی۔ اب یہ شرط پوری ہو چکی ہے اور اسی لئے افغان قومی سلامتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ نے امید ظاہر کی ہے کہ بین الافغان امن مذاکرات کی راہ میں حائل آخری رکاوٹ بھی دور ہو گئی ہے۔ 

پاکستان نے لویہ جرگہ کے انعقاد‘ اس میں کئے گئے فیصلوں اور منظور کی گئی قرارداد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان رہنماؤں کو اس تاریخی موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہئے۔ دعا بھی یہی ہے کہ نہ صرف بین الافغان ڈائیلاگ کا سلسلہ جلد شروع ہو بلکہ یہ کامیاب بھی ٹھہرے تاکہ ہمارے اس پڑوسی ملک میں پائیدار امن قائم ہو سکے کیونکہ پاکستان کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ افغانستان میں امن ہو گا تو اس کے مثبت اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوں گے۔ ویسے بھی علامہ اقبال افغانستان اور افغان قوم کو خطے میں امن کی کلید قرار دے چکے ہیں۔ 

آسیا یک پیکرِ آب و گل است

 ملتِ افغان درآن پیکر دل است 

از فسادِ اُو، فسادِ آسیا 

از کشادِ او، کشاد آسیا 

(اردو ترجمہ: ایشیا پانی اور مٹی کا ایک جسم ہے اور افغانستان کی قوم اس جسم میں دل کی مانند ہے  اس (افغانستان) کی بد امنی سے ایشیا میں بد امنی اور اس کے امن میں ایشیا کا امن پوشیدہ ہے)

اللہ کرے کہ اس خطے کے امن کے بارے میں جو سوچا جا رہا ہے‘ وہ پورا ہو جائے لیکن اس خطے اور خصوصی طور پر افغانستان کی تاریخ ایک الگ جہت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اس امر کی جانب کہ افغانستان میں امن کے قیام کی اس سے پہلے بھی کئی کوششیں ہو چکی ہیں‘ جن کے نتائج سے بھی ہم نا آگاہ نہیں ہیں۔ میرے خیال میں بنیادی غلطی آج بھی وہی کی جا رہی ہے جو 1988 میں سوویت افواج کے انخلا کے وقت یا اس کے بعد کی گئی تھی۔ اس وقت بھی افغان قوتوں کو ان کے حالات پر چھوڑ دیا گیا تھا اور آج بھی امریکہ صرف یہ چاہتا ہے کہ اسے افغانستان سے نکلنے کا راستہ مل جائے‘ بعد میں افغانستان کے ساتھ جو کچھ بھی ہوتا رہے‘ اس کی بلا سے۔  

15 اپریل 1988 کو پاکستان اور افغانستان نے جنیوا معاہدے پر دستخط کئے جس کے بنیادی نکات یہ تھے کہ افغانستان کی خود مختاری اور افغان عوام کا حقِ خود اختیاری قائم رہے گا‘ اس کے معاملات میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کی جائے گی‘ افغان مہاجرین کی بحفاظت اور باعزت واپسی کا بندوبست کیا جائے گا۔ بعد ازاں اسی سال مئی میں یہ معاہدہ طے پایا کہ تمام غیر ملکی افواج (مراد سوویت افواج) افغانستان سے واپس چلی جائیں۔ اس معاہدے کے تحت 15 فروری1989 کو آخری سوویت فوجی نے دریائے آموں پار کیا اور اس طرح افغانستان سے سوویت افواج کا انخلا مکمل ہو گیا‘ لیکن یہ ایک بحران کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک نئے بحران کا آغاز تھا۔

 افغانستان سے سوویت فوجوں کا انخلا ابھی مکمل نہیں ہوا تھا کہ مغربی پریس نے افغانستان میں اگلی حکومت کے قیام کے بارے میں چہ میگوئیاں اور قیاس آرائیاں شروع کر دیں۔ افغانستان میں نجیب اللہ کی حکومت تھی‘ لیکن سوویت افواج کے خلاف لڑنے والے مجاہدین کے مختلف گروہ بھی افغانستان میں خود کو اقتدار کے حق دار سمجھتے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہاں ایک نئی چپقلش شروع ہو گئی اور افغان صدر نجیب اللہ نے کہا کہ وہ اپنی حکومت برقرار رکھنے کے لئے مجاہدین سے لڑیں گے اور ان کا برا حشر کر دیں گے۔ اس کے نتیجے میں افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہو گئی اور مجاہدین نے نجیب اللہ حکومت کے خاتمے کے لئے کوششیں تیز کر دیں۔ 1992میں مجاہدین نے نجیب اللہ کا تختہ الٹ دیا۔ امن پھر بھی قائم نہ ہو سکا۔ الٹا خانہ جنگی تیز ہو گئی۔ اب مجاہدین کے مختلف گروہ ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار تھے۔ نجیب اللہ کے مستعفی ہونے کے بعد اپریل1992 میں معاہدہ پشاور عمل میں لایا گیا‘ جس کے تحت تمام افغان پارٹیوں کو متحد کیا گیا؛ تاہم گلبدین حکمت یار کی حزب اسلامی اس معاہدے کا حصہ نہ بنی اور اس کی جانب سے کابل پر حملوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ انہوں نے ایک دو بار کابل پر قبضہ کرنے کی کوشش بھی کی لیکن پسپا کر دیئے گئے۔ اس طرح معاہدہ پشاور پر پوری طرح عمل درآمد نہ ہو سکا۔ جون 1992 میں شیڈول کے مطابق برہان الدین ربانی کو افغانستان کا صدر بنا دیا گیا‘ لیکن مسئلہ پھر بھی حل نہ ہو سکا۔ مجاہدین کے اختلافات دور نہ کئے جا سکے۔

پھر پاکستان‘ ایران اور سعودی عرب کو خدشہ لاحق ہوا کہ اگر مجاہدین کے اختلافات دور نہ کئے گئے تو اس کے اثرات ان پر بھی مرتب ہوں گے؛ چنانچہ تینوں کی کوششوں سے 7 مارچ 1993 کو اسلام آباد میں ایک اور معاہدہ کیا گیا‘ جس میں طے پایا کہ ربانی جون 1994تک بدستور افغانستان کے صدر رہیں گے‘ حکمت یار کو وزارت عظمیٰ دی جائے گی اور کابینہ میں تمام پارٹیوں کو نمائندگی ملے گی۔ اس معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لئے افغان لیڈروں نے مکہ کا دورہ کیا اور وہاں اس معاہدے پر قائم رہنے کی قسم کھائی‘ لیکن اس معاہدے پر بھی وہ قائم ہ رہ سکے اور چند ہی روز میں کابینہ کے انتخاب کے موقع ان کے اختلافات ایک بار پھر ابھر کر سامنے آ گئے۔ 18 مئی1993 کو اس معاہدے میں کچھ ترامیم کی گئیں اور حکمت یار کو کچھ مزید اختیارات دیئے گئے‘ لیکن اس سے مسئلہ حل نہ ہو سکا۔

1994 میں طالبان نے طاقت پکڑنا شروع کر دی اور 26 ستمبر 1996 کو وہ کابل پر قابض ہو گئے۔ 27 ستمبر 1996 کو طالبان نے اقوام متحدہ کی حفاظت میں رہنے والے نجیب اللہ کو تشدد کے بعد سرعام پھانسی دے دی۔ 1996 سے 2001 تک اگرچہ افغانستان میں طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں میں صورتحال کچھ بہتر رہی لیکن افغانستان کے باقی حصوں میں خانہ جنگی کا سماں رہا۔ اسی دوران نائن الیون کا واقعہ رونما ہوا اور اس کے بعد کے واقعات تو ماضی قریب کی تاریخ ہے‘ کسی کے بھی ذہن سے محو نہیں ہوئی ہو گی؛ چنانچہ یہ سوال اہم ہے کہ اگر ماضی میں افغان قوتیں مل کر نہیں بیٹھ سکیں تو اب کیسے مل بیٹھیں گی۔ افغان مذاکرات کی کوششیں کرنے والوں کے ذہن میں شاید یہ سوال موجود ہو‘ ممکن ہے موجود نہ ہو۔اس ساری بحث کا مقصد یہ باور کرانا ہے کہ ماضی والی غلطی نہ دہرائی جائے افغانستان میں پائیدار امن کے قیام تک امریکہ کو فرار نہ ہونے دیا جائئے کیونکہ افغانستان کی حالیہ بربادی کا وہی ذمہ دار ہے۔

مزید :

رائے -کالم -