میرے دور کی ائیر فورس   (3) 

میرے دور کی ائیر فورس   (3) 
میرے دور کی ائیر فورس   (3) 

  

24 جنوری1952 بروز جمعرات۔ ابھی دو روز پہلے ہی ہم لوئر ٹوبہ سے کراچی پہنچے تھے۔ کورنگی کریک کے اپرنٹس بیرکس میں ہمارا قیام تھا۔ ہم ٹوٹل 53-54 لڑکے تھے جو کراچی کورنگی کریک کیمپ پہنچے تھے۔ ہم میں سے 26 نے UK جانا تھا۔ 14 لڑکوں نے دوسری ہائی ٹیک ٹریڈز کے لئے آسٹریلیا جانا تھا۔ باقی لڑکوں کی ٹرئینگ کورنگی میں ہی ہونی تھی۔ 24 تاریخ کی صبح 10 بجے ہمیں اپنی یونیفارم میں تیار ہو کر ائیر فورس کے ٹرک نما ہوائی جہاز Bristol Freighter کے ذریعے لندن براستہ بحرین یا کویت اور پھر استنبو ل ٹھہرتے ہوئے لندن پہنچنا تھا۔ برسٹل فریٹر ہماری ائیر فورس کا ہمہ ضرورت کا بڑا ہوائی جہاز تھا۔ ہم 26 لڑکے یعنی 13 مغربی پاکستانی اور 13 مشرقی پاکستانی جمعہ کی شام لندن پہنچ گئے۔ وہاں ہمیں لینے کے لئے پاکستان ائیر فورس کے وارنٹ آفیسرزر داد خان پہنچ چکے تھے۔ بڑی شفقت سے پیش آئے۔ ہمیں ہما رے مختصر سے سامان کے ساتھ ایک کھلی چھت اور طویل باڈی والے ٹرک میں لاد دیا گیا۔ اس ٹرک کی باڈی ریل کے ڈبے سے بھی طویل تھی۔ اس وہیکل کا نام کوئین میری (Queen Mary) تھا۔ ہم لندن سے 4-5 گھنٹے کی مسافت کے بعد سردی سے ٹھٹھرتے ہوئے ہالٹن RAF سٹیشن پہنچ گئے۔ ہمیں لندن ائیر پورٹ پر ہی گرم او ور کوٹ جن کو  ائیر فورس کی زبان میں چسٹر کہتے ہیں، فراہم کر دیئے گئے تھے۔ اگلے دو دن ہفتہ، اتوار کی چھٹی تھی۔ اِن دو دِنوں میں ہم اپنی بیرکوں میں براجمان ہوگئے۔ RAF کی یونیفارم جو زیادہ گرم اور ملائم کپڑے کی تھی ہمیں دی گئی۔ ہمارا حلیہ ہی بدل گیا۔ ہمیں سائیڈ کیپ اورP-Cap بھی دی گئیں۔ پہلے دو روز میس کا کھانا ڈبل روٹی، اَنڈے اور آلو کی آملیٹ تھی کیونکہ ابھی حلال کھانے کا انتظام نہیں تھا۔ بڑی مشکل سے یہ کھانا ہمارے گلوں سے نیچے اُترا۔اگلے ہفتے سے ہمارے لئے سبزی اور مچھلی (فِش& (Chips کا بھی اِنتظام ہو گیا۔ ہمارے UK میں تربیت کے 3 سال ب ڑے مصروف گذرے۔

برطانیہ کا دوسرا بڑا RAF اسٹیشن ہالٹن ہے جو ہزاروں ایکڑز میں پھیلا ہوا ہے۔ ٹرئینگ ونگ الگ حصے میں قائم تھا۔ پائلٹس کا ٹرئینگ سکول بھی اسی وِنگ میں تھا۔ رائل ائیر فورس کے ماحول میں آ کر ہمیں عزتِ نفس اور اَفسروں کے ساتھ برابری کا احساس ہوا۔ پاکستان میں ہم نے 2 ماہ اور ایک ہفتہ بطور اپرنٹس یونیفارم میں گذارا۔ اس عرصے میں ہمیں اپنے اَفسروں سے ڈر اور خوف کا احساس رہا۔ کمیشنڈ آفیسر تو ہمارے لئے اللہ میاں کا سا درجہ رکھتے تھے۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے ہمارے ایک ساتھی نے یہ کہاوت سُنا کر اور بھی ڈرا دیا تھا کہ ”اَفسر کی اَگاڑی اور گھوڑے کی پچھاڑی سے بچو“۔ RAF ٹرئینگ سنٹر میں ہمیں ذرا Relaxed ماحول مِلا۔ یہاں ہم مختلف بیرکس میں ٹہرائے گئے۔ لکڑی کے صندوق کی جگہ ہر دو لڑکوں کو ایک کشادہ وارڈ روب مِلا جہاں ہم اپنا تمام سامان قرینے سے رکھ سکتے تھے۔ یہاں ہمیں نائٹ سوٹ اور ٹریک سوٹ مہیاکئے گئے۔ ہم میں سے اکثر اپنا دیسی لباس پاکستان ہی چھوڑ آئے تھے البتہ مشرقی پاکستانی ساتھی اپنا لُنگی کُرتہ ساتھ لائے تھے۔ پہلے دِن ہی وارنٹ آفیسر زرداد خان جو پٹھان تھے، بڑی خوبصورت انگریزی بولتے تھے جو ہمیں سمجھ بھی آجاتی تھی۔ بڑے شفیق اور نرم گو تھے۔ اُنہوں نے ہمیں دو دن کی Briefing میں بتا دیا تھا کہ ہمارا پرائیوئٹ لباس پتلون شرٹ اور RAF کا بلیزر کوٹ ہوگا۔ ہمارے میس میں تمام رینکس کھانا اکٹھے کھاتے تھے۔ صرف کمیشنڈ آفیسر کا Mess الگ ہوتا تھا۔ ہم لوگ کھانے کے لئے چُھری کانٹے کا اِستعمال کریں گے خواہ ہمیں چند روز بھوکا رہنا پڑے۔ ہم نووارد Apprentices کو برٹش سوِل لائف سے روشناس کرانے کے لئے ہر لڑکے کو ایک ایک برٹش فیملیمیں  انفرادی طور پرWeekends گذارنے کی سہولت ہو گی۔ اس برٹش فیملی کا سربراہ ہمارا Dad ہو گا اور خاتونِ خانہ Mom ہو گی۔ اگر اُس فیملی کے بچے ہیں تو وہ جس طرح بھی اپنے ماں باپ کو بلاتے ہونگے، ہم بھی اُن کو اُسی طرح مخاطب کریں گے۔ امریکیوں کی طرح اپنے بڑوں کو نام سے نہیں پکاریں گے۔ مجھے جو گھر مِلا وہ ایک مہذب سا گھرانہ تھا۔ میرے فاسٹر ماں باپ کیمپ سے 3-4 میل کے فاصلے پر Widnes گاؤں میں رہتے تھے۔ اُن کی 2 بیٹاں اور ایک چھوٹا بیٹا تھا۔ مسٹر ووُلف کے بچے اُن کو Pop کہتے تھے۔ وہ میرے بھی Pop بن گئے۔ مسٹر ووُلف(Wolf) دوسری جنگِ عظیم کے بعد آرمی سے ریٹائر ہو کر Widnes میں رہائش پذیر ہوئے تھے۔ میری Mom بڑے پیار والی خاتون تھی۔ چونکہ میری والدہ میری پیدائش کے چند ہفتوں بعد ہی اِنتقال کر چکی تھیں اس لئے مسز ووُلف مجھے ماں ہی کی طرح لگتی تھیں۔ اُن کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ میری پسند کا کھانا پکائیں۔ جمعہ ہفتہ اور اتوار کو گھر میں Ham (خنزیر کا گوشت)نہیں پکتا تھا۔ سبزیاں یا بیف، ڈبل روٹی اور چاول ضرور پکتے تھے۔ برطانیہ میں اَبھی ایشیائی اور پاکستانی تارکینِ وطن بالکل نظر نہیں آتے تھے۔ تمام ریسٹورینٹسFish & Chip یا فائن ڈائنگ کے تھے خالصتاً برٹش کھانے مہیا ہوتے تھے۔ وڈنس کوئی 8-9 ہزار آبادی کا پُر سکون سا دیہات تھا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد کے اثرات اِس گاؤں کی Basic سی زندگی میں نظر آتے تھے۔ میَں جینی (Jenny) جو مسٹر ووُلف کی بڑی بیٹی اور میری ہی ہم عمر تھی، کے ساتھ وڈنس (Widnes) کے کمیونٹی کلب چلا جاتا تھا۔ مسزووُلف (ہماریMom)کا حکم تھا کہ ہم رات 10 بجے تک گھر لوٹ آئیں گے۔ برطانوی معاشرے میں ابھی مادر پدر آزادی نہیں آئی تھی۔ شرم و حیا باقی تھی۔ لڑکیاں گھٹنوں سے ذرا نیچے تک سکرٹ پہنتی تھیں۔ اگر میَں جینی کو دِن کے وقت باہر لے جانے کی صلاح مارتا تھا تو وہ آنکھوں آنکھوں میں Mom سے اِجازت لیتی تھی۔ ہم لڑکے بھی تھوڑی بہت شرم رکھتے تھے۔ دراصل برطانوی معاشرے کے اخلاقی بخئے 1960 کے بعد اُدھڑنے شروع ہوئے جب کامن ویلتھ ممالک کی مزدور کلاس کو کُھلے عام Immigeration کی اِجازت ملی اور ساتھ ہی امریکن کلچر برطانوی قدامت پسندی پر حاوی ہونا شروع ہو گیا۔ ہمیں بہت بعد میں پتہ چلا کہ ہم پاکستانی لڑکے برٹش خاندانوں میں ویک اینڈز کے دوران کیوں مہمان بن کر جاتے تھے۔ دراصل ہم Paying guests ہوتے تھے جس کا ہمیں اپنی تربیت کے آخری دِنوں میں معلوم ہوا۔ ہمارے اخراجات کون دیتا تھا یہ ہمیں آج تک معلوم نہیں ہو سکا۔ پاکستان ائر فورس کے کمانڈر چیف ائیر مارشل اچرلے تھے جو انگریز تھے اور RAF سے تھے۔ یہ Apprentice سکیم اُن ہی نے متعارف کروائی تھی۔ ہو سکتا ہے کہ برٹش خاندانوں سے ہمارا میل جول ہماری تربیت کا حصہ ہی ہو۔ 

 RAF کیمپ میں ہم پوری طرح Settle ہو چکے تھے۔ لوئرٹوبہ میں ہم پی۔ٹی۔ پریڈ اور اُٹھنے بیٹھنے کے آداب سیکھ چکے تھے۔ یہاں کلاس روم اور ورکشاپ کی عملی تربیت پر زیادہ زور تھا۔ P.T اور پریڈ روزانہ ہوتی تھی لیکن پاکستان جیسی کرخت زبان استعمال نہ ہوتی تھی۔ تربیت کے پہلے سال ٹیکنیکل ٹریڈزکا پڑھائی کا کورس ایک جیسا تھا۔ ریاضی کا معیار ہمارے Bsc کا تھا۔ کیمسٹری میں صرف Metallurgy،Acids اور Alklines پڑھائے جاتے تھے۔ فزکس زیادہ تفصیل سے پڑھائی جاتی تھی خاص طور سے  Electronics, Magnetism،اور وائرلیس تھیوری اور Practicals۔ ہمارے آخری دو سال اپنی اپنی خصوصی ٹریڈ کی تربیت کے لئے ہوتے تھے۔ ہمارا دو گھنٹے کا پیریڈ ورکشاپ کا ہوتا تھا۔ عملی ورکشاپ پر بہت زیادہ زور تھا۔ ہمیں ہر قسم کی دھات،لکڑی اور پلاسٹک کو الگ الگ ڈیزائن یعنی گول، چوکور، تکونی، شش پہلو وغیرہ مختلف شکلوں میں کاٹ کر ایک دوسرے میں فِٹ کرنا ہوتا تھا۔ مختلف Tools مثلاً ریتی(Files)، پیچ کش(Screw drivers)ہر قسم کے Nuts,bolts,screws, Nails اورsolders سے مکمل روشناس کروایا جاتا تھا اور بار بار استعمال کرنا سکھایاجاتا تھا۔ ہمیں فولادی اور غیر فولادی دھاتوں کی فاؤنڈریز پر لے جا کر ہم سے Casting اور Forging کروائی جاتی تھی۔ہم میں سے ہر ٹرینی ایک مکمل ریڈیو (MW & SW) خود بنا کر اپنے انسٹرکٹرکو باقاعدہ سرکِٹ ڈایا گرام کے ساتھ دکھانا ہوتا تھا۔ ریڈیو کی Cabinet بھی پلائی ووڈ کو Mould کر کے بنانی ہوتی تھی۔ 

غرض کہ 3 سال کی تربیت کے بعد ہم انگریزی Manners جان چکے تھے، بہت اچھے مستری بن چکے تھے، قابلِ اعتماد Elector-magnetism کے آلات (ریڈار، وائرلیس)کے ٹیکنیشنز بن چکے تھے۔ میرے 3 ساتھی پاکستان واپس آ کر جی۔ڈی پائلٹ بن گئے، 5 ساتھی Navigator بن گئے۔ واپسی کے 4 سالوں میں سوائے میرے، سیف الرحمن بھوئیاں کے اور بنی کے ہمارے تمام ساتھی سگنل برانچ میں کمیشنڈ اَفسر بن گئے۔ بنی پاکستان کا بہترین فٹ بالر بن کر 57-58 کی پاکستان فٹ بال ٹیم کا کپتان بنا۔ سیف اور میَں میڈیکل گراونڈپر جی۔ ڈی پائلٹ نہ بن سکے۔ دوسری برانچ میں کمیشن شائد اپنی ہی کسی نا اہلی کی وجہ سے حاصل نہ کر سکے۔ سیف بھوئیاں میرا گہرا دوست تھا۔ ہم دونوں نے ائیر فورس مین رہتے ہوئے انگریزی ادب میں ماسٹر کیا اور دونوں نے 1959 میں CSS کا امتحان دیا۔ میں کامیاب ہو کر 1961 میں سوِل سروس اکیڈیمی چلا گیا۔ سیف نے بعد میں ڈھاکہ یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ڈاکٹریٹ کی، بڑا پروفیسر بنا اور اب ریٹائر ہو کر کینڈا میں اپنی پوری فیملی کے ساتھ رہائش پذیر ہے۔ وہ بھی میری طرح عمر رسیدہ ہے میری دوستی اُس سے اَب بھی قائم ہے۔ جب بھی کنیڈا جاتا ہوں، اُس سے خوب ملاقات رہتی ہے۔ پاکستان کا بڑا خیر خواہ ہے اور اسی خیر خواہی کی پاداش میں سیف الرحمن بھوئیاں نے بنگلہ دیش سے ہجرت کی۔ پاکستان دوبارہ آنے کی شدید تمنا ء رکھتا ہے۔ 

بنی فٹ بالر فوت ہو گیا۔ میرے بہت سے ساتھی اِنتقال کر چکے۔ AVM کلب عباس زیدی 5 سال پہلے تک حیات تھا اور امریکہ میں اپنے بیٹوں کے ساتھ رہتا تھا۔ ونگ کمانڈر مظفر PIA میں چلا گیا تھا۔ پتہ نہیں اب حیات ہے کیونکہ زیدی اور مظفر اَب رابطے میں نہیں ہیں۔ ہم 1953 کے آخر میں واپس آگئے تھے۔ پہلے 6 ماہ ہمارے لئے بطور ائیر مین adjust کرنا بڑا کٹھن تھا۔ ابھی ہماری ائیر فورس RPAF ہی کہلاتی تھی۔ 6 ماہ کے اندر اندر ہماری Radar Mobile یونٹ تیار ہو کر فیلڈ میں آ گئی تھی۔ پھر دوسری یونٹ بھی بن گئی۔ ہر یونٹ11-12 سپشل Vehicles اور ٹرکس پر مشتمل ہوتی تھی۔1956 میں RPAF پی، اے، ایف بن گئی۔ 1959-1954 تک ہم سب کی زندگی بنجاروں کی طرح گذری۔ ائیر فورس نے ہی مجھے زندگی گذارنے کا سلیقہ سیکھایا۔ آگے بڑھنے کا حوصلہ دیااوراَب 86 سال کی عمر کا ہوتے ہوئے میَں عام بوڑھوں سے زیادہ چاق و چوبند ہوں۔جن دوستوں نے اپنے اُوپر ریٹائیرمنٹ طاری کر لی تھی وہ جلد ہی راہیِ عدم ہوگئے۔  

https://dailypakistan.com.pk/20-Sep-2020/1186449

مزید :

رائے -کالم -