محکمہ زراعت سے متعلق بیان، شہزاد اکبر نے وضاحت بھی کردی اور معافی بھی مانگ لی

محکمہ زراعت سے متعلق بیان، شہزاد اکبر نے وضاحت بھی کردی اور معافی بھی مانگ لی
محکمہ زراعت سے متعلق بیان، شہزاد اکبر نے وضاحت بھی کردی اور معافی بھی مانگ لی

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے "محکمہ زراعت" سے متعلق اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے معافی مانگ لی۔

بیرسٹر شہزاد اکبر نے اپنے "محکمہ زراعت" والے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ " پریس کانفرنس میں اس محکمہ زراعت کا ذکر تھا جو ن لیگ کے ہونہار انجینئر نما ڈاکٹر ، شوباز شریف اور صاحبزادی پے مبنی تھا جنہوں نے کمال مہارت سے پیوند لگا کر پوری قوم کو نواز شریف کی بیماری کا یقین دلایا، این آر او یہ نیب کی 34 ترامیم کی صورت میں حکومت سے مانگ رہے ہیں جو کسی صورت نہیں ملنا۔"

شہزاد اکبر نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ " یہاں یہ واضح کرنا بھی ضروری ہے کہ میرے بیان سے اگر قومی سلامتی کے اداروں کے بارے میں کوئی غلط تاثر پیدا ہوا ہو تو وہ بے بنیاد اور حقیقت سے عاری ہے اور کسی ادارے یا شخص کی دل آزاری پہ میں معذرت خواہ ہوں۔"

خیال رہے کہ ہفتہ کے روز شہزاد اکبر کی پریس کانفرنس میں ایک صحافی نے مریم نواز کا نام ڈان لیکس سے نکلنے اور نواز شریف کے باہر جانے کے حوالے سے سوال پوچھا تھا جس پر شہزاد اکبر نے کہا تھا کہ اس بارے میں تو محکمہ زراعت ہی جواب دے سکتا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ عام انتخابات سے قبل پی پی 219 سے مسلم لیگ ن ملتان کے صوبائی امیدوار اقبال سراج نے مجروح حالت میں اپنے گودام سے اچانک ایک ہنگامی پریس کانفرنس کی تھی جس میں انہوں نے الزام لگایاتھا کہ آئی ایس آئی کے اہلکاروں نے ان کے گودام پر چھاپا مارا اور ان کو زد وکوب کیا۔

انہوں کہا تھا کہ آئی ایس آئی کے اہلکاروں نے انہیں بارہا اپنے دفتر میں بلایا اور ن لیگ کا ٹکٹ واپس کرنے کو کہا۔ انہوں نے اپنے منہ پر مارے تھپڑوں کے نشانات بھی میڈیا کو دکھائے تھے۔اس بیان پرنواز شریف نے فوراً لندن سے بیان دیاتھا کہ یہ سازشیں اب نہیں چلیں گی، ہمارے ورکروں کو ہراساں کیا جا رہا ہے، ایسی کوششیں جاری رہیں تو انقلاب آ جائے گا ۔

لیکن پھر اقبال سراج کی ایک اور ویڈیو منظر عام پر آ گئی جس میں انہوں نے اقرار کیا ان کی فیکٹری پر چھاپہ دراصل محکمہ زراعت نے مارا تھا اور اس میں آئی ایس آئی کا کوئی اہلکار شامل نہیں تھا۔ 

مزید :

قومی -