افسوس کی بات ہے کہ ریاست مدینہ کا نعرہ لگانے والی حکومت میں وزیر اعلیٰ۔۔۔سینیٹر ساجد میرنے ایسی بات کہہ دی کہ وزیراعظم بھی پریشان ہو جائیں گے

افسوس کی بات ہے کہ ریاست مدینہ کا نعرہ لگانے والی حکومت میں وزیر ...
افسوس کی بات ہے کہ ریاست مدینہ کا نعرہ لگانے والی حکومت میں وزیر اعلیٰ۔۔۔سینیٹر ساجد میرنے ایسی بات کہہ دی کہ وزیراعظم بھی پریشان ہو جائیں گے

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آ ن لائن) مرکزی جمعیت اہلحدیث کےسربراہ سینیٹر پروفیسر ساجدمیرنےکہاہے کہ ہم ا ستحکام پاکستان کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریںگے،پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا اس کی بقا بھی اسلام کے نفاذ میں ہے،کس قدر افسوس کی بات ہے کہ مدینہ کی ریاست کا نعرہ لگانے والی حکومت میں وزیر اعلی شراب کے پرمٹ جاری کرتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق علامہ سینیٹر ساجد میر کی زیر قیادت استحکام پاکستان ریلی نکالی گئی، ریلی مرکز اہلحدیث 106راوی روڈ سے شروع ہوکر مینار پاکستان اور ناصر باغ سے گزرتے ہوئے جامعہ احسان الہی ظہیر53  لارنس روڈ پہنچی، ریلی کے اختتام پر خطاب کرتے سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ ہم ا ستحکام پاکستان کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے،پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا اس کی بقا بھی اسلام کے نفاذ میں ہے،کسقدر افسوس کی بات ہے کہ مدینہ کی ریاست کا نعرہ لگانے والی حکومت میں وزیر اعلی شراب کے پرمٹ جاری کرتا ہے، تحریک انصاف کی حکومت نے عوام کے ساتھ ناانصافیاں کیں،نیب سیاسی انجینئرنگ کا ادارہ بن کر رہ گیاہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری سیاست پاکستان کے استحکام، مسلمانوں کے اتحاد اور دین کے فروغ کے لئے ہے، ہمیں دکھ ہے کہ حکومت اپنے دعووں کے بر عکس عوام کے لئے آزمائش بن گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معیشت اور امن و امان سے لے کر خارجہ پالیسیوں تک حکومتی کارکردگی انتہائی ناقص ہے،فلسطین پر اسرائیلی مظالم قابل مذمت ہیں،اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے،کشمیر ی تکمیل پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں،بھارت اور اسرائیل پاکستان کے دشمن ہیں۔

سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے کہا کہسعودی عرب اور پاکستان کا اسرائیل کے خلاف یکساں موقف حوصلہ افزا ہے،ہمارے اسلاف و اکابرین نے سب سے بھاری تعداد میں پاکستان بنانے کی حمایت کی،آج کا پاکستان ہمارے اسلاف، اکابرین، آباء و اجداد کی قربانیوں کا ثمر ہے،آج پاکستان کو بچانے کیلئے بانیان پاکستان کی اولادیں ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار ہیں،ملک کے فرسودہ نظام سے نجات حاصل کرنے کے لئے ملک کی نوجوان نسل کو آگے بڑھنا ہوگا، ملکی ترقی اور استحکام کے لیے حکمرانوں کو مثبت فیصلے کرنا ہوں گے، قیام پاکستان سے لے کر آج تک عوام ہی قربانی دے رہے ہیں جبکہ حکمرانوں کو عوام کی کوئی فکر نہیں اب حکمرانوں کو قربانی دینا ہوگی، ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ استحکام پاکستان کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے،اہل حدیث کارکنان سروں پر کفن باندھ کر نظریہ پاکستان کا تحفظ کریں گے،پاکستان ہمارے اکابرین نےاپنےخون کےنذرانےدے کرحاصل کیا اور اسے بچانےکے لیے ہم کسی قسم کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کریں گے،عوام  مہنگائی، بے روزگاری  اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے دب کر رہ گئی ہے،عقیدہ ختم نبوتﷺ،ناموس رسالتﷺ اور استحکام پاکستان کے لیے کسی بڑی سے بڑی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے،تحفظ ناموس رسالتﷺ کا قانون تمام انبیاء کرام کی ناموس کا چوکیدار ہے اس میں کسی قسم کی ترمیم و تنسیخ برداشت نہیں کریں گے،بیرونی مداخلت ختم کیےبغیرملک میں امن ممکن نہیں، ملک میں امن وامان کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام دینی سیاسی جماعتوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

علامہ ابتسام الہی ظہیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم قیام پاکستان کے مقاصد کی تکمیل کے لیے ہر قسم کی قربانی دیں گے،علامہ ساجد میر کی قیادت میں اعلائے کلمۃ اللہ کا فریضہ انجام دیتے رہیں گے،پاکستان میں اسلامی اقدار اور شعائر کے خلاف اٹھنے والی ہر ساز ش کا ڈٹ کر مقابلہ کریں  گے۔ ریلی میں کارکنا ن کی بڑی تعداد شریک تھے۔جنہوں نے پرچم اٹھا رکھے تھے۔شرکاء ریلی پاکستان کی سالمیت اور استحکام کےلیےنعرے بازی بھی کی۔ریلی سےمولانا نعیم بٹ، ڈاکٹر عبدالغفور راشد، مولانا عبدالرشید حجازی، حافظ یونس آزاد، ڈاکٹر ریاض الرحمن یزدانی ،حافظ بابر فاروق رحیمی، حافظ معتصم الہی ظہیر  اور رانا نصراللہ نے بھی خطاب کیا۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -