اپنے بندے کیوں مروائے؟ 

اپنے بندے کیوں مروائے؟ 
اپنے بندے کیوں مروائے؟ 

  

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے افغانوں کے لئے عام معافی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کسی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا، افغانستان کی  سر زمین کسی   کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، بین الاقوامی اصولوں کے عین مطابق دنیا کو تعلقات استوار کرنے کی پیشکش کرتے ہیں، کسی سے انتقام نہیں لیا جائے گا،امارت اسلامیہ یقین دہانی کراتی ہے کسی سے کوئی تصادم نہیں ہو گا۔ خواتین ہمارے معاشرے کا ایک معزز حصہ ہیں۔ ان کو وہ تمام حقوق دیئے جائیں گے، جو  دین میں ہیں۔ خواتین کو ملک کے ہر شعبے میں فرائض کی ادائیگی کی اجازت ہوگی۔ خواتین شرعی حدود میں رہتے ہوئے عملی زندگی میں حصہ لے سکتی ہیں۔ 

سب کو معلوم ہے کہ 11ستمبر 2001ء کو پیش آنے والے واقعے کے بعد امریکہ نے پوری دنیا میں ایک تصویر بنائی،جس میں مسلمانوں کو دہشت گرد دکھایا۔  اسلامو فوبیا تیزی سے پھیل گیا اور مسلمانوں کا جینا مشکل ہو گیا، جس نے داڑھی رکھی وہ دہشت گرد ہوتا تھا۔ 2010ء میں شاہ رخ خان کی فلم ”مائی نیم از خان“ ریلیز ہوئی، جس میں انہوں نے ایک لائن بار بار دہرائی کہ ”میرا نام خان ہے اور میں دہشت گرد نہیں ہوں“۔ امریکہ نے عہد کر لیا کہ ہم نے حملہ آوروں کو تباہ کرنا ہے اور پھر امریکہ  نے  بڑے بڑے دعوے کئے کہ ہم دنیا سے دہشت گردوں کو ختم کر دیں گے، ہم امن و امان کے قیام کے لئے جا رہے ہیں اور دنیا کے تمام ممالک ہمارے ساتھ ہیں۔

یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے  ڈیزی کٹر اور بنکر بسٹر بم مار کر بڑی تعداد میں معصوم شہری، عورتیں اور بچے شہید کیے۔ پھر انہوں بے تحاشہ  ڈرون حملے بھی کروائے۔ اس کے ساتھ جدید ترین ہتھیاروں کے کئی تجربات بھی کئے۔ طاقت کے نشے میں یہ ایک بات بھول گئے کہ افغانستان کو  مختلف سلطنتوں کا قبرستان کیوں  کہا جاتا ہے۔ ادھر جتنی مرضی بڑی سلطنتیں آئی ہوں،انہوں نے وہاں پر مار ہی کھائی،اب امریکہ کے ساتھ بھی بالکل ویسا ہی ہوا۔ امریکہ نے کھربوں ڈالر کا خرچہ کیا اور اپنے بندے بھی مروائے۔ کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد برطانیہ کے مشہور اخبار ڈیلی میل کی ہیڈ لائن بھی یہی تھی کہ اپنے بندے کیوں مروائے؟ اسی لئے کہ تم نے بھاگنا تھا یہاں سے؟ اگر آپ افغانستان کے نقطہ نظر سے دیکھیں جو  ان کے لاکھوں افراد، عورتیں اور بچے مرے ان کا کون جواب دہ ہوگا؟ طالبان نے جس آسانی سے کابل سمیت ملک کے مختلف حصوں کا کنٹرول سنبھالا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ افغان عوام امریکہ اور ان کی مسلط کردہ کٹھ پتلیوں  سے تنگ آچکے تھے۔ ان کے ذہن میں بس اتنا تھا کہ  طالبان آئیں یا کوئی اور بس ہماری جان امریکہ سے چھڑائی جائے۔طالبان جب کابل میں داخل ہوئے تو سورہئ نصر کی تلاوت کرتے ہوئے گئے، اور عام معافی کا اعلان کر دیا۔

سوشل میڈیا پر لوگ طرح طرح کی چیزیں اپ لوڈ کر رہے ہیں لیکن خود وہاں پر موجود افغان کہہ رہے ہیں یہاں حالات بالکل صحیح ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں شدید بدامنی پیدا ہونے کی صورت میں داعش، القاعدہ، ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کو پنپنے کے لئے محفوظ ٹھکانے میسر آ سکتے ہیں،لیکن طالبان کا خیال ہے کہ ایسی صورت پیدا نہیں ہو گی وہ دنیا کے ساتھ امن چاہتے ہیں اور اپنے ملک میں بھی امن قائم کریں گے۔ بعض لوگوں کا یہ الزام بھی درست نہیں کہ افغان طالبان اور تحریک طالبان پاکستان ایک ہی چیز ہیں۔ افغان طالبان کو پاکستان سے کوئی مسئلہ نہیں ہے اور ان کے  بیانات سے یہ بات واضح بھی ہوگئی ہے، تحریک طالبان پاکستان ریاست مخالف ہے، بعض حلقوں نے کوشش کی کہ ان دونوں کو ایک جیسا دکھایا  جائے، جبکہ ہم سب کے علم میں ہے تحریک طالبان پاکستان کو فنڈنگ کہاں سے آ رہی ہے۔ پاکستان کے دشمن چاہتے ہیں کہ تحریک طالبان پاکستان میں خرابی پیدا کرے،بلکہ بلوچستان میں بھی خانہ جنگی کی صورتِ حال پیدا کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ خطے میں قیام امن کے لئے ہونے والی کاوشوں میں پاکستان مرکزی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ہمیں چاہئے کہ اس صورتِ حال سے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کریں۔

مزید :

رائے -کالم -