یو ٹیوب…… ایک پہلو یہ بھی ہے

یو ٹیوب…… ایک پہلو یہ بھی ہے
یو ٹیوب…… ایک پہلو یہ بھی ہے

  

مینار پاکستان پر ایک ”یوٹیوبر“ لڑکی کے ساتھ پیش آنے انتہائی افسوس ناک، پاکستانیوں کے سر شرم سے جھکا دینے والے واقعہ کے سلسلے میں ساٹھ سے زیادہ افراد گرفتار کر لئے گئے ہیں اور پولیس کے بعض افسروں کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ذرا سوچئے، چار سو سے زائد اوباش لوگ اپنی بہن اور بیٹی جیسی لڑکی کو  سرعام ننگا کررہے ہیں، اس پر تشدد کررہے ہیں،اس کی مرنے جیسی حالت کر رہے ہیں اور دوسر ے سینکڑوں آدمی یہ سب تماشا دیکھ رہے ہیں۔کوئی بھی اس بیٹی کی مدد نہیں کر رہا۔ پولیس والوں کی ڈیوٹی ان جگہوں پر لگی ہوتی ہے۔ وہ اگر تھوڑے تھے تو فوری کال کرکے نفری منگا سکتے تھے، لیکن ناقابل ِ یقین بات ہے کہ یہ تماشا ڈھائی گھنٹے جاری رہا،

لیکن کیوں پولیس کو اطلاع نہ ہوئی اور وہ کیوں موقع پر نہ پہنچی،  اس لڑکی نے مکمل اور شریفانہ لباس پہنا ہواتھا اور وہ اپنی چھوٹی سی ٹیم کے ساتھ اپنے چینل کے لئے ایک وڈیو بنانے آئی تھی، جس میں وہ دنیا کو پاکستانیوں کا ”روشن چہرہ“ دکھانا چاہتی تھی کہ جو وطن ہم نے لاکھوں جانوں اور عزتوں کی قربانی دے کر اسلام کے نام پرحاصل کیا ہے،دیکھتے ہیں کہ نئی نسل اپنی آزادی کے دن کو کیسے منا رہی ہے اور اس کے لئے مینار پاکستان سے بڑھ کر اچھی جگہ اور کون سی ہو سکتی ہے،جہاں پاکستان بنانے کے لئے قرارداد منظور کی گئی تھی۔ وہ خوشی خوشی گھر سے اپنے پروگرام کے ساتھ اس اعتماد سے مینار پاکستان پر آئی تھی کہ وہاں اس کے ہزاروں بھائی تشکر کے جذبات لئے ہوئے آزادی کا دن منا رہے ہوں گے اور وہ ان کی باتیں اورجذبات ساری دنیا کو بتائے گی، لیکن انتہائی افسوس، نہ صرف اس بیٹی کا اعتماد پاش پاش ہوا، بلکہ ان قابلِ نفرت لوگوں کی وجہ سے دنیا کو بھی بجائے روشن چہرے کے پاکستان کا ایک گھناؤنا چہرہ دیکھنا پڑا۔  

وطن عزیزکی صورت حال یہ ہے کہ یہاں حکومتی دعووں کے برعکس ”میرٹ“ نام کی کوئی چیز کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ لاکھوں روپے فیس کے نام پردینے کے بعد جب نوجوان ڈگری لے کر عملی میدان میں نکلتے ہیں تو کہیں نوکری کا نشان نہیں ملتا۔ سرکاری نوکریاں اندرہی اندر حکمران سیاسی جماعت کے لیڈروں،وزیروں اور اسمبلی ممبران کی بندر بانٹ کی نذر ہو جاتی ہیں۔اس مایوسی کے عالم میں ”سوشل میڈیا“ نوجوانوں کے لئے متبادل روزگار کی صورت لئے ایک بڑاسہارا بن کر سامنے آیا ہے۔ ہزاروں نوجوان سافٹ وئر،بلاگنگ اور آئی ٹی کے مختلف شعبہ جات کے ذریعے نہ صرف اپنے اور اہل خانہ کے لئے روزی روٹی کا بندوبست کر رہے ہیں،بلکہ ملک کے لئے بھی ڈالرز کے شکل میں زرمبادلہ کے حصول کا وسیلہ بنے ہوئے ہیں۔ 

”یوٹیوب“ بھی باصلاحیت پاکستانیوں کے لئے پیسے کمانے کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے،جہاں ہرکوئی اپنی صلاحیت کا پھل پا سکتا ہے۔ ہزاروں نوجوان، لڑکوں،لڑکیوں، عورتوں اورمردوں نے مختلف یوٹیوب چینل بنائے ہوئے ہیں۔ کوئی ٹیکنالوجی کی تعلیم دے رہا ہے تو کوئی بچی کھانے بنانے کے طریقے بتا رہی ہے تو کوئی  سلائی کڑھائی کی تربیت دے رہی ہے۔کسی نے اردو ادب پر چینل بنا رکھا ہے تو کسی نے سیاحت پر چینل بنایا ہواہے۔ ایک پاکستانی نوجوان نے جرمنی سے مختلف ممالک کے ذریعے موٹر بائیک پر پاکستان تک کا سفر کیا ہے اور اپنے سفر کی مکمل تفصیل اور وڈیوز یو ٹیوب پر اَپ لوڈ کی ہیں۔ہمارے نوجوان بچے اور بچیاں اس میدان میں بہترین کام کررہے ہیں۔ سیاحت کو فروغ دینے کا سبب بن رہے ہیں۔ یہ سب پاکستان کے اصلی سفیر ہیں،لیکن حکومتی اور معاشرتی طورپر ان لوگوں کی کوئی حوصلہ افزائی نہیں ہو رہی، بلکہ الٹا ان کے کام میں رکاوٹیں پیدا کی جاتی ہیں، حالیہ واقعہ اس کی ایک مثال ہے۔ کچھ لوگ اگر غلط اور قابل ِ اعتراض کام کررہے ہیں تو ان کو لازمی سزا ملنی چاہئے اور پیمرا کو ان کے چینل بند کرنے چاہئیں، لیکن اکثریت بہت اچھا اور بہترین کام کررہی ہے، ان کی تحسین ہونی چاہئے۔

مزید :

رائے -کالم -