اکیسویں صدی کے طالبان

اکیسویں صدی کے طالبان
اکیسویں صدی کے طالبان

  

بیسویں صدی کے طالبان سخت گیر تھے، اکیسویں صدی کے طالبان صلح گیر معلوم ہوتے ہیں۔ بیسویں صدی والے طالبان کسی کی نہ سنتے تھے اور نہ مانتے تھے، کمپرومائز کا لفظ ان کی لغت میں موجود ہی نہیں تھا۔ غالباً ان کی غالب اکثریت نیم خواندہ تھی اور ان کے فیصلے میز پر بیٹھنے کی بجائے بندوق سے ہوتے تھے۔ شائد سو فیصد ایسا نہ رہا ہو اور اس میں مغربی دنیا کا پراپیگنڈا بھی ہو، لیکن جھکنے کا تصور بہر حال ان میں سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔ طالبان تحریک کئی سال سے جاری خانہ جنگی کا نتیجہ تھی، جب افغانستان کے طول وعرض کی فضا بارود کی مہک اور زمین خون ارزاں سے سنچی ہوئی تھی۔ ایسے میں ملا عمر نے قندھار سے شریعت کے نفاذ کی تحریک شروع کی جو پورے افغانستان میں چھا گئی۔ ملک میں جاری کشت و خون کی جگہ امن قائم ہو گیا، بد امنی، لوٹ مار، منشیات، جرائم اور کرپشن کا خاتمہ ہو گیا۔ مغربی دنیا کے چونکہ دہرے معیار ہوتے ہیں اس لئے اس نے طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کیا اور اس کے خلاف پراپیگنڈا اور سازشیں جاری رکھیں۔ بیسویں صدی کے آخری چند سال افغانستان میں انتہائی پُرسکون اور منظم طالبان حکومت تھی لیکن اکیسویں صدی کا آغاز امریکہ کا اپنے حواریوں سمیت افغانستان پر حملہ سے ہوا، جس کی وجہ سے طالبان حکومت ختم ہو گئی اور وہاں پر امریکہ نواز حکمران مسلط ہوگئے۔ روس اگر افغانستان میں دس سال کے ناجائز قبضہ کے بعد ذلیل و خوار ہو کر نکلا تھا تو امریکہ کی ذلت اس سے دوگنا دورانیہ کی تھی اور وہ وہاں بیس سال تک ذلیل و خوار ہوتا رہا اور بالآخر ویت نام کی یاد تازہ کرتے ہوئے نکلا، جہاں 1975ء میں امریکی فوجی ہیلی کاپٹروں سے لٹک کر بھاگے تھے۔ کون جھٹلا سکتا ہے کہ وتعز و من تشا و تذل من تشا۔

امریکہ اور اس کے حواریوں کے بھاگنے کے بعد اس کا کٹھ پتلی حکمران اشرف غنی ایک دن بھی حکومت نہ کر سکا اور وہ بھی فرار ہو کر ابوظہبی پہنچ گیا۔ نائب صدر اول امراللہ صالح بھی مفرور ہیں اور اشرف غنی کی ریاستی مشینری کے بہت سے سرکردہ لوگ بھی۔ عبدالرشید دوستم جو اپنے آپ کو مارشل دوستم کہلواتا ہے وہ بھی دم دبا کر بھاگ چکا ہے اور 15 اگست سے کابل اب مکمل طور پر طالبان کے قبضہ میں ہے، باقی کا افغانستان تو وہ پہلے ہی فتح کر چکے تھے۔ اس وقت کابل میں حتمی مذاکرات سے قبل کی مشاورت ہو رہی ہے، جس میں سابق صدر حامد کرزئی اورسابق چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے ساتھ طالبان کے نمائندے بات چیت کر رہے ہیں۔ حزبِ اسلامی کے کمانڈر گلبدین حکمت یار نے واضح کیا ہے کہ یہ مذاکرات سے قبل کی مشاورت ہے، جس میں TORs طے کئے جا رہے ہیں اور حتمی مذاکرات طالبان کی مرکزی قیادت کرے گی۔ بھارت جو خوا مخواہ افغانستان میں سٹیک ہولڈر بننے کی کوشش کرتا تھا اب افغانستان کے منظر نامہ سے گدھے کے سر پر سینگ کی طرح مکمل طور پر غائب ہو چکا ہے۔ بھارت میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے اور وزیراعظم نریندر مودی انتہائی غیر مقبول ہو چکے ہیں۔ یہ کیسا حسن اتفاق ہے کہ سازشی بھارتیوں کو دو بڑے صدمے 15 اگست، یعنی اپنے یوم آزادی کودیکھنا پڑے، پہلے 1975ء میں شیخ مجیب الرحمان کا قتل اور اب 2021 ء میں افغانستان گیم سے اخراج۔

اکیسویں صدی کے طالبان اب سیاسی طور پر میچور ہیں۔ موجودہ طالبان کی مرکزی قیادت 1990ء کی دہائی میں نوجوان تھی، لیکن اب جہاندیدہ اور آدابِ سیاست و سفارت سے بخوبی آشنا ہے۔ صاف نظر آرہا ہے کہ گرم گرم کھیر سے ان کا اپنا منہ جلانے کا کوئی ارادہ نہیں،بلکہ وہ اسے ٹھنڈی کرکے کھائیں گے۔ مغربی پراپیگنڈے کے برعکس انتقام کا دور دور تک نام و نشان نہیں اور انسانی حقوق کی مکمل پاسداری ہو رہی ہے۔ اس وقت خواتین کی حرمت اور عزتِ نفس افغانستان میں یورپ، امریکہ اور دوسرے ممالک سے زیادہ محفوظ ہے۔ طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی میڈیا سے گفتگو دنیا بھر کے تین سو سے زائد چینلوں نے براہ راست دکھائی، جس میں انہوں نے مغرب کے تمام پراپیگنڈے اور خدشات کو انتہائی مدلل طریقہ سے رد کیا اور باور کرایا کہ طالبان حکومت قانون، اسلام، اخلاقیات اور افغان قوم کی روایات کے دائرے میں رہنے والوں سے حسن ِ سلوک سے پیش آئے گی۔ خواتین کو حجاب میں تعلیم اور ملازمت کی اجازت ہے اور کھیلوں پر بھی کوئی قدغن نہیں۔ اس ماہ سری لنکا میں ہونے والی پاکستان کے خلاف کرکٹ سیریز شیڈول کے مطابق ہوگی اور افغانستان اکتوبر میں ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ میں بھی بھرپور شرکت کرے گا۔ افغانستان کی کرکٹ لیگ میں شریک ٹیموں کی تعداد بھی چھ سے بڑھا کر آٹھ کر دی گئی ہے اور کوچنگ کے لئے مشہور آسٹریلین فاسٹ باؤلر شین ٹیٹ سے معاہدہ بھی ہو گیا ہے۔ 

پڑوسی ممالک، خصوصاً پاکستان اور چین کے لئے افغانستان اہم ہے۔یہ قدیم سلک روٹ کا راستہ تھا اور جدید CPEC میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ روس کی گرم پانیوں کی دیرینہ خواہش بھی افغانستان اور پاکستان سے دوستی کی صورت میں پوری ہو سکتی ہے۔ مغربی پریس پراپیگنڈا کر رہا ہے کہ پاکستان میں تحریک طالبان پاکستان (TTP) دہشت گردی کا سلسلہ دوبارہ شروع کر سکتی ہے یا پھر چین کو مشرقی ترکستان میں اسلامی علیحدگی پسند تحریک کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ طالبان نے دونوں باتوں کی سختی سے نفی کی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ افغانستان میں ایران کی طرح سپریم لیڈر انقلاب کی روح رواں ہوں گے اور صدر امور مملکت چلائیں گے۔طالبان دوسرے سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر پاور شیرنگ کرنا چاہتے ہیں، جس سے ملک میں اتحاد اور یگانگت کا دور آئے گا۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات 74 سالوں میں طالبان دور کے پانچ برس چھوڑ کر باقی تمام وقت کشیدہ رہے ہیں۔ لگتا ہے اب اچھے تعلقات کا دور دوبارہ شروع ہو گا۔چین، روس، پاکستان، ایران، ترکی اور وسطی ایشیائی ریاستیں اگر طالبان کے ساتھ ہمقدم ہو کر چلیں تو پورے خطہ میں امن اور خوش حالی کا دور شروع ہوگا۔ بیسویں صدی کے طالبان کے بارے میں سچ یا جھوٹ جو بھی پراپیگنڈا کیا جاتا تھا، اکیسویں صدی کے طالبان اس سے قطعی مختلف ثابت ہوئے ہیں۔ یہ دنیا کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں۔ دنیا کو بھی چاہئے کہ تعصب کی عینک اتار کر دیکھے اور انہیں اپنے ساتھ چلائے۔

مزید :

رائے -کالم -