غیر ملکی ثقافتی یلغار اور ہماری بے بسی 

غیر ملکی ثقافتی یلغار اور ہماری بے بسی 
غیر ملکی ثقافتی یلغار اور ہماری بے بسی 

  

کوئی مانے یا نہ مانے ہم ایک تہذیبی و ثقافتی یلغار کی زد میں ہیں خاص طور پر ہماری نوجوان نسل اس حوالے سے دوراہے پر کھڑی ہے ایک طرف اس کے سامنے آج کی تہذیب ہے جس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وجہ سے سارا مغرب امنڈ آیا ہے اور دوسری طرف وہ تہذیب ہے جو ہماری اصل ہے اور نسل در نسل چلی آ رہی ہے۔ لاہور میں جو واقعات ہوئے ہیں یا اس سے پہلے جو سنگین اور شرمناک واقعات ہوتے رہے ہیں آج سے پندرہ بیس سال پہلے ایسا کوئی اکا دکا واقعہ ہوتا تھا اور پورا معاشرہ اس کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتا تھا۔ اب تو لگتا ہے بدتہذیبی، بد اخلاقی اور بدقماشی کا ایک جھکڑ چل رہا ہے۔ جس نے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم تہذیبوں کے تصادم کی زد میں ہیں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے پوری یورپی تہذیب ہمارے موبائل فونوں ور لیپ ٹاپ کے ذریعے گھر گھر داخل ہو گئی ہے۔ نوجوانوں کی اس تہذیب تک جو در حقیقت ہمارے نقطہ نظر سے مخرب الاخلاق ہے مکمل رسائی ہے۔

ان کے ذہن اس سے آلودہ ہو رہے ہیں، وہ ٹک ٹاک ہو یا فحش مواد والی سائٹس ان سے بچ نہیں پا رہے آپ کو یاد ہوگا کچھ عرصہ پہلے ایک گیم پب جی پر پابندی لگائی گئی تھی کیونکہ اس گیم سے متاثر ہو کر نوجوان خود کشیاں کرنے لگے تھے۔ سوشل میڈیا ہویا انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دیگر مظاہر وہ اس طرح نوجوانوں کے ذہن خراب کر رہے ہیں وہ جو ان میں دیکھتے ہیں وہی کچھ کرنے کی کوشش کرتے ہیں یا چاہتے ہیں کہ انہیں ویسا ہی ماحول ملے، جس سے سب برائیاں جنم لے رہی ہیں بدقسمتی یہ ہے کہ ہم ساری توقع پیمرا سے لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ اس طوفان کو روکے وہ کیسے روک سکتا ہے، گاہے بہ گاہے عدالتیں نوٹس لیتی رہتی ہیں کبھی ٹک ٹاک کو وارننگ دی جاتی ہے اور کبھی فیس بک کو، کبھی فحش مواد والی سائٹس بند کرنے کو کہا جاتا ہے اور کبھی ایف آئی اے حرکت میں آتی ہے۔ مگر یہ سب وہ تنکے ہیں جو اس طوفان کے آگے بند نہیں باندھ سکتے۔

اصل مسئلہ یہ ہے ہمارے تعلیمی ادارے، ہمارے دینی مدارس، ہمارے علماء کرام، مفکرین، دانشور، خطیب، موٹیویشنل اسپیکرز، دنیا جہاں کی باتیں کریں گے مگر اس مغربی ثقافتی یلغار کی وجہ سے نوجوان نسل کا جو اخلاق بگڑ رہا ہے، وہ جس بے راہ روی کا شکار ہو رہی ہے اور جس طرح اسے ایک طوفان کے سامنے بغیر کسی حفاظتی سامان کے چھوڑ دیا گیا ہے، اسے بچانے کے لئے کوئی نہیں سوچتا۔ اس وقت اپنی ثقافت، تہذیب، اقدار اور اسلامی حدود و قیود کو نوجوانوں کے ذہنوں میں اُجاگر کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ یہی وہ وقت ہے جب وہ کشمکش کا شکار ہیں۔ کعبہ ان کے پیچھے اور کلیسا ان کے آگے کھڑا ہے۔ دنیا جہان کی ترغیبات اور خرافات ان کے موبائل کی سکرین پر موجود ہیں وہ ایک اور ہی دنیا ہے، جو ہر آدم کو اپنے سحر میں مبتلا کر لیتی ہے، ہم ایک ایسے دور سے گذر رہے ہیں جس میں مغربی ثقافتی یلغار سے بچنا بھی چاہیں تو نہیں بچ سکتے۔ کوئی ملک بھی نہیں بچ سکتا آج سعودی عرب جیسے ملک میں بھی اس ثقافتی یلغار کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں تاہم وہاں ایک دائرہ کھینچ دیا گیا ہے، جس کے باہر کی دنیا وہی ہے جو اسلامی تہذیب و ثقافت کی امین ہے۔

ہم ایسا نہیں کر سکے اور نہ کر سکتے ہیں۔ ہم نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کو بھی بے لگام چھوڑ دیا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں موبائل فون استعمال کرنے والوں کی تعداد ان کی آبادی کا ستر فیصد سے زیادہ ہے۔ چین نے بڑی کامیابی سے سوشل میڈیا کو اپنے ملک میں محدود کیا ہوا ہے، فحش مواد والی سائٹس پر بھی وہاں پابندی ہے انہوں نے اپنی تہذیب و ثقافت اور اخلاقی روایات کو بچانے کے لئے حتی الامکان کوشش کی ہے۔ یہی وجہ ہے چین آج بھی عالمی برادری میں اپنی منفرد تہذیب و زبان کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے ہم بد قسمتی سے ایسا نہیں کر سکے۔ ہم نے بغیر کوئی ضابطے بنائے سب کچھ مغرب کی ثقافتی یلغار کے سامنے رکھ دیا۔ پیمرا اور ایف آئی اے کا سائبر کرائمز ونگ بنا کر ہم یہ سمجھے کہ سب کچھ کنٹرول میں رہے گا۔ نہیں صاحب سب کچھ تو بے لگام ہو چکا ہے، شتر بے مہار کی طرح ہم آگے بڑھ رہے ہیں، کسی کو کچھ معلوم نہیں یہ بے راہ روی، یہ مغربی تہذیب کی یلغار ہمیں کہاں لے جائے گی۔

لاہور میں ایک ٹک ٹاکر خاتون کے ساتھ واقعہ پیش آیا تو خطرے کی گھنٹی بج گئی پھر اس کے بعد ایک چنگ چی رکشے میں جانے والی لڑکی کے ساتھ بدتمیزی کی ویڈیو سامنے آئی تو سب کے مزید کان کھڑے ہوئے، حالانکہ یہ واقعات تو ان سنگین واقعات کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں جو پچھلے چند برسوں سے اس معاشرے کے چہرے کو مسخ کر رہے ہیں، جن میں معصوم بچیوں کو درندگی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جب قصور کی زینب کا کیس سامنے آیا تھا تو یہ تفصیلات بھی کھلی تھیں کہ ملک میں چائلڈ پورنو گرافی کا ایک پورا سلسلہ پروان چڑھ چکا ہے اور عالمی سطح پر اس کے خریدار موجود ہیں۔ اب بھی کوئی دن ہی جاتا ہے جب کسی معصوم بچے یا بچی کی زیادتی کے بعد کسی ویران جگہ پر پھینکی گئی لاش نہ ملتی ہو۔ ابھی کل ہی مردان میں پانچ بہنوں کے اکلوتے بھائی کی کھیتیوں سے لاش ملی اور ہمارے معاشرے کے بڑھتے ہوئے زوال کا ایک اور ثبوت چھوڑ گئی ہے۔ ایک زمانہ تھا سنیماؤں میں انگریزی فلمیں لگتی تھیں تو بعض کے ساتھ سنسر بورڈ کی ہدایت پر ”صرف بالغان کے لئے“ بھی لکھا ہوتا تھا۔ مقصد یہی تھا کہ کچے ذہنوں کو اس بے حیائی سے بچایا جائے، جو ان کا اخلاق تباہ کر سکتی ہے۔ اب تو یہ سب پابندیاں خواب و خیال ہو چکی ہیں، انٹرنیٹ نے سارے حجاب ختم کر دیئے ہیں والدین کو کچھ پتہ نہیں ان کے بچے اپنے موبائل فون یا لیپ ٹاپ پر کیا دیکھ رہے ہیں چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کی وجہ سے ہم  بدتہذیبی کے ایک ایسے طوفان کی زد میں ہیں، جو ہمیں خس و خاشاک کی طرح بہا لے جا سکتا ہے۔

لاہور میں جو واقعات ہوئے ان کے ملزم پکڑے بھی جائیں گے اور ممکنہ سزا بھی پائیں گے۔ مگر کیا اس سے یہ سلسلہ رک جائے گا؟ کیا ہم یہ کہہ سکیں گے اب سب کچھ ٹھیک ہو گیا ہے۔ نہیں صاحب کبوتر کی طرح بلی کو دیکھ کے آنکھیں بند کرنے سے بات نہیں بنے گی۔ ہمیں اس جنگ کے لئے بحیثیت قوم خود کو تیار کرنا ہوگا۔ جو غیر ملکی تہذیبی یلغار کے خلاف ہمیں درپیش ہے ہمیں اپنے تعلیمی اداروں میں، مدرسوں اور ہر نوعیت کی درسگاہوں میں اپنی اسلامی و اخلاقی اقدار کو اجاگر کرنا ہوگا۔ نئی نسل کے ذہنوں میں یہ بات بٹھانی ہو گی کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط، کیا ہمارے دین کے خلاف ہے اور کیا ہمارے دین سے موافقت رکھتا ہے۔ اصلاح کا سب سے اہم مرکز گھر ہے۔ آج ہمارے گھروں کا یہ حال ہو چکا ہے، سب موبائل فون میں گم ہو کر ایک دوسرے سے دور ہو چکے ہیں والدین کی ذمہ داری سب سے زیادہ ہے کہ وہ بچوں کو موبائل فون لے کر دیں تو ان پر نظر بھی رکھیں، انہیں بتائیں کیا غلط ہے کیا صحیح ہے، ہماری اسلامی اور اخلاقی حدود و قیود کیا ہیں ہمیں کن برائیوں سے بچنا ہے اور کن باتوں سے دور رہنا ہے۔ ایک مضبوط خاندانی سسٹم اس انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی یلغار کے سامنے مضبوط ڈھال ثابت ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف یہ بھی ضروری ہے شادی کے مرحلے کو آسان بنایا جائے، بے جا رسومات، نمود و نمائش اور ذات پات کی پابندیوں کو ختم کر کے نکاح کو سہل اور آسان کرنا ضروری ہے، یہ بھی ایک طریقہ ہے جس کے ذریعے ہم بے راہ روی کے طوفان کو روک سکتے ہیں حکومت کو بھی غیر ملکی ثقافتی یلغار کے خلاف کوئی ٹھوس پالیسی بنانی چاہئے۔

مزید :

رائے -کالم -