بیا ساقی نوائے مرغِ زار از شاخسار آمد 

بیا ساقی نوائے مرغِ زار از شاخسار آمد 
بیا ساقی نوائے مرغِ زار از شاخسار آمد 

  

آج کی یہ خبر میرے لئے نہائت نشاط افزا تھی کہ جمعہ کے روز PIAکی ایک پرواز کے ذریعے افغانستان میں گھرے سینکڑوں غیر ملکی باشندوں کو کابل سے نکال کر پاکستان لایا گیا ہے جہاں سے وہ اپنے اپنے ملکوں کے لئے پرواز کر جائیں گے۔ ان غیرملکیوں میں IMF اور ورلڈ بینک کے بہت سے اہلکار (آفیسرز اور ماتحت عملہ) شامل ہیں۔یہ سب کچھ حکومت کی ایما پر ہوا ہے۔ نہ صرف یہ کہ کابل ائرپورٹ پر اترنے والی پی آئی اے کی پرواز میں اس ائر لائن کے CEOائر مارشل ارشد ملک شامل تھے بلکہ کابل میں پاکستانی سفیر جناب منصور احمد خان بھی ائرپورٹ پر استقبال کرنے والوں میں تھے۔ سب سے پہلے ہوائی جہاز سے ائر مارشل صاحب باہر آئے تو ان کو افغان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل نے خوش آمدید کہا۔

اس کاوش میں عمران خان کی ذاتی خواہش بھی شامل تھی بلکہ خواہش سے بڑھ کر ان کا حکم اور ہدائت تھی کہ عالمی اقتصادی اداروں کے ملازمین کو ہر طرح کی سہولت بہم پہنچا کر وہاں کابل سے نکالا جائے۔ ہمیں نہ صرف عمران خان کے سٹرٹیجک وژن اور طالبان کی اس سیاسی بصیرت کی داد دینی چاہیے جو آج دیکھنے اور سننے کو مل رہی ہے بلکہ یہ ناقابلِ یقین طالبانی کایا پلٹ بھی ہے۔ اس سے پاکستانی اور طالبانی قیادت کی یکسانی ء فکر و نظر کا سراغ بھی ملتا ہے کہ دونوں ایک صفحے پر ہیں۔ دعا کرنی چاہیے کہ آئندہ بھی یہی صورتِ حال برقرار رہے۔

میں سوچ رہا تھا کہ ورلڈ بینک اور IMF کے اس عملے میں بھارتی افراد بھی شامل ہوں گے۔ امریکہ اور بھارت کا جو اثر و نفوذ اشرف غنی حکومت پر تھا اس کے پیش نظر یہ اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں کہ کابل سے نکالے جانے والے ان غیر ملکیوں میں بھارتی عملے کے کئی لوگ بھی شامل ہوں گے۔ اگر پاکستان نے ان کو PIA کے ذریعے پاکستان لانے کی اجازت دے دی ہے تو یہ حقیقت بعض حضرات کے لئے حیران کن ہو گی اور اگر ایسا نہیں کیا گیا تو میرے خیال میں یہ تنگ نظری کہلائے گی خواہ اس کا حجم کتنا ہی چھوٹا اور قلیل کیوں نہ ہو۔

اسی خبر میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان افراد کو اپنے اپنے سفارت خانوں سے کابل ائرپورٹ تک لے جانے میں پاکستانی سفارت خانے نے بہت سی تحریری اور انصرامی سہولیات فراہم کی ہیں۔ افغانستان میں جو بین الاقوامی ادارے اور ایجنسیاں کام کر رہی ہیں ان میں سینکڑوں غیر ملکی مرد و زن شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اس ”ہجوم“ میں غیر ملکی صحافیوں کی بھی ایک بڑی تعداد ہے جو دن رات، طالبان کی کردار کشی میں مصروف تھی۔ اب اچانک کابل پر قبضہ کرنے کے بعد طالبان کو یہ موقع ہاتھ آیا ہے کہ وہ گزشتہ 20برسوں میں اپنے خلاف ہونے والے جبر و جور اور ظلم و ستم کا انتقام لیں۔ وہ یقینا اس انتقامی ردعمل  میں حق بجانب ہیں۔ لیکن……

بہت سے قارئین غیر ملکی میڈیا کو دیکھ، سن اور پڑھ رہے ہوں گے۔ وہ صحافی جو طول طویل کالم لکھ رہے، لمبے لمبے مضامین (Articles) تحریر کر رہے ہیں ان تحریروں کی سپورٹ میں جو تصویری مواد اخباروں میں آ رہا ہے اس کو بھی پڑھئے اور جو کچھ ان کا میڈیا آن ائر کر رہا ہے، اس کو بھی دیکھئے۔ لیکن اس سب کچھ کے باوجود اگر طالبانی انتقام کے شرارے، انگارے نہیں بن رہے تو طالبانی قیادت کو ہزار آفرین کہنی چاہیے۔ وہ کسی خوف کے مارے ایسا نہیں کر رہے۔ ان کی بے خوفی اور نڈرپن تو دنیا نے برس ہا برس تک دیکھا ہے۔ کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ طالبان کا یہ ردعمل ان کی کسی کمزوری کی دلیل ہے۔ اگر آج دنیا ہائبرڈ وار کا طبل بجا رہی ہے تو طالبانی قیادت اس سے بے بہرہ نہیں۔ ان کا یہ وژن یکدم کیسے تبدیل ہو گیا اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ میں گزشتہ کالم میں بھی لکھ چکا ہوں کہ ویسے تو نظر بہ بظاہر افغانستان کے باسی دقیانوسی خیالات و تصورات کے حامل شمار کئے جاتے ہیں لیکن ان کی یہی قدامت پرستی زمانے کی جدت سے ٹکراتی اور فتح یاب ہوتی رہی ہے۔ اس کہنہ روش کو جدید طرز میں ڈھالنے کے لئے پیغمبرانہ فراست کی ضرورت ہوتی ہے…… میں لفظ ”پیغمبرانہ‘ کو ان معنوں میں استعمال نہیں کر رہا جن کی ہمارے مدارس میں تدریس کی جاتی ہے بلکہ انگریزی کے Prophaticمترادف کے طور پر لکھ رہا ہوں جس کا مفہوم جدت و ندرت سے لبریز کسی خیال یا کسی آئیڈیا کو بیان کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔

طالبان کو اس لچک پذیری کا مظاہرہ آنے والے برسوں میں بار بار کرنا پڑے گا…… یہی ہائی برڈ وار فیئر کا نیا مفہوم ہے۔

اہلِ صحافت، اہلِ تجارت اور اہلِ زر کو سہولت بہم پہنچانا، ان کو کسی اچانک گرداب سے باہر نکالنا اور ان کی جان و مال کی حفاظت کرنا ایک ایسی سرمایہ کاری ہے جس کا منافع آنے والے کل میں پاکستان کو مل کر رہے گا۔

پاکستان کی وزارت دفاع پر آج بہت بوجھ آن پڑا ہے۔ یہ بوجھ کسی گرم جنگ سے بھی زیادہ گرم، وزنی اور وسیع و عریض ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج کے بعد دوسری وزارت جس پر یہ وزن آیا ہے وہ وزارتِ خارجہ ہے۔ پاکستان کی وزارتِ خارجہ کو اب چومکھی لڑنی پڑے گی…… اس لئے آج نہیں تو آنے والے کل میں اس وزارت کے ایک ایک ”پرزے“ کو اس کے لئے تیار رہنا ہوگا۔ امریکہ تو ایک طرف رہا، اس کے یورپی حواریوں سے نمٹنا اور زیادہ مشکل ہے۔ پاکستان کی اقتصادی صورتِ حال کی ڈولتی کشتی کو یورپی پانیوں میں لے جا کر متوازن رکھنا ایک بہت Up hill ٹاسک ہے۔ اس ٹاسک کی است و بود سے افغان بھائیوں کو باخبر رکھنا بھی ایک دوسرا چیلنج ہے جو لیلیٰ  ئ امروز کے حصول کے لئے جانِ مجنوں کے لئے دوگونہ عذاب ہوگا…… لیکن اس سے گھبرانا نہیں …… اِن شا اللہ ہواؤں کا رخ بدل چکا ہے۔ اقبال نے جس موسم بہار کی نوید ان اشعار میں دی تھی، وہ سامنے نظر آ رہا ہے۔ طالبان کی زبان فارسی ہے اس لئے ان اشعار کا اردو ترجمہ کرنے کی ضرورت نہیں:

بیاساقی نوائے مرغِ زار از شاخسار آمد

بہار آمد، نگارآمد، نگار آمد، قرار آمد

کشید ابرِ بہاری خیمہ اندر وادی و صحرا

صدائے آبشاراں از فرازِ کوہسار آمد

دگر شاخِ خلیل از خونِ ما نم ناک می گردد

ببازارِ محبت نقدِ ما کامل عیار آمد

”بیاتا گل بیفشانیم و مے در ساغر اندازیم

فلک راسقف بشگافیم و طرحِ دیگر اندازیم“

……………………

فکرِ مکرر: خیال آیا کہ فارسی سے کم آشنا پاکستانی قارئین کو ان اشعار کا ترجمہ بھی بتانا چاہیے جو اس طرح ہے:…… ”اے ساقی! اِدھر آ کہ درختوں کی شاخوں پر پرندے آ بیٹھے ہیں۔ بہار آئی ہے تو محبوب آیا ہے اور محبوب آیا ہے تو دل کو قرار آ گیا ہے…… موسمِ بہار کے بادلوں نے وادی و صحرا میں شامیانے تان دیئے ہیں اور آبشاروں کی صدائیں، پہاڑوں کی بلندیوں سے آ رہی ہیں ……شاخِ خلیلؒ ایک بار پھر ہمارے خون سے رنگین ہو گئی ہے اور عشق و محبت کے بازار میں ہمارا سودا بالکل کھرا ثابت ہوا ہے۔

…… اے ساقی! اٹھ کہ پھول بکھیریں، شرابوں کو ساغروں میں انڈیلیں، آسمان کی چھت پھاڑ ڈالیں اور ایک نیا جہان آباد کریں“۔

مزید :

رائے -کالم -