لکھنے کا شوق ختم نہیں ہوا، بلاگنگ جاری رکھوں گی!

لکھنے کا شوق ختم نہیں ہوا، بلاگنگ جاری رکھوں گی!

  

رمضان المبارک میں ہم ٹی وی سے نشر ہونے والے ڈرامہ سیریل ”چپکے چپکے“ سے جن نئے فنکاروں نے شہرت اور مقبولیت حاصل کی ان میں ایک نام سدرہ نیازی بھی ہے جو اگرچہ شوبز انڈسٹری کے لئے نیا نام ہے لیکن انہوں نے پہلی ہی انٹری کے ذریعے کروڑوں لوگوں کو اپنا گرویدہ بنایا لیا۔”چپکے چپکے“ کے بعد ان کے ڈرامے”قیامت“ نے تو سچ مچ ہی شائقین پر قیامت ڈھا دی۔سدرہ نیازی نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد باقاعدہ طور پر میڈیا کی فیلڈ میں قدم رکھا اور ابتدا میں ہی کامیابیاں سمیٹنا شروع کردیں۔ ان سے گفتگو کرتے ہوئے مرحوم احمد فراز کا یہ شعربار بار ذہن میں آتا۔”سنا ہے کہ وہ بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں،یہ بات ہے تو چلو بات کرکے دیکھتے ہیں“۔ سدرہ نیازی نہایت شائشہ اور سلجھے ہوئے انداز میں گفتگو کرتی ہیں۔شوبز انڈسٹری میں آنے سے پہلے وہ میڈیا سے ہی وابستہ تھیں لیکن ذرا مختلف شعبے میں۔دو ڈراموں کی کامیابی کے بعد شائقین ان کے بارے میں بہت کچھ جاننے کے خواہش مند ہیں اور اسی مقصد کے لئے ان تفصیلی انٹرویو کیا گیا جو قارئین کی نذر ہے۔

گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے سدرہ نیازی نے بتایا کہ ان کی پیدائش لاہور میں ہوئی جبکہ انہوں نے تعلیم بھی وہیں سے حاصل کی۔ کمیونیکیشن اسٹیڈیز میں ڈ گری لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارے سے حاصل کی۔ عملی زندگی کا آغاز جرنلسٹ کی حیثیت سے کیا کیونکہ ابتدا سے ہی میری یہی خواہش تھی۔انٹرن شپ کے دوران اسپورٹس اور کرائم رپورٹنگ کرتی رہی۔جب میں ایک دوسرے چینل میں گئی تو مجھے نیوز اینکر بننے کی پیشکش ہوئی لیکن میں نے انکار کردیا کیونکہ مجھے سکرین پر آنے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی بلکہ لکھنے لکھانے کی شوقین تھی،میں سیاسی اور سماجی موضوعات پر کچھ نہ کچھ لکھتی رہتی تھی اور اسی سلسلہ میں میری ملاقات سلطانہ صدیقی سے بھی ہوئی کیونکہ میں سکرپٹ لکھنے کی خواہش مند تھی لیکن سلطانہ آپا نے مجھے کہا کہ تمہیں سکرین پر بھی آنا چاہیئے۔ سب سے پہلے مجھے ڈائریکٹر حسیب حسن کی ٹیلی فلم”لال“ میں کام کا موقع ملا جس کی کاسٹ میں بلال عباس اور کبریٰ خان سمیت کئی نامور فنکار شامل تھے۔اس ٹیلی فلم کے آن ایئر ہوتے ہی مجھے آفرز ملنا شروع ہوگئیں لیکن اس وقت میں بلاگنگ کرنا چاہتی تھی کیونکہ مجھے وہ کام کافی دلچسپ لگتا تھا۔ کچھ عرصہ مختلف موضوعات پر بلاگنگ کرتی رہی پھر ماڈلنگ بھی کی اور کمرشل بھی اور اسی طرح مجھے ہم ٹی وی میں ”چپکے چپکے“ میں کام کا موقع ملا جس کا رسپانس انتہائی شاندار اور حیران کن تھا جس کی مجھے بالکل توقع نہیں تھی۔اس کے بعد ”قیامت“کا تجربہ بھی بہت اچھا رہا جہاں سب سینئرز نے بہت راہنمائی کی،خاص طور پر ہارون شاہد،صبافیصل اور نیلم منیرخان،جو مجھے ہر چیز بہت اچھے طریقے سے بتاتی رہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ میرا جذبہ اب بھی لکھنے کا ہے جسے جاری رکھوں گی لیکن اچھے اسکرپٹ اور اچھی آفرز آتی رہیں تو اداکاری بھی کرتی رہوں گی کیونکہ ڈرامے کی پہنچ بہت زیادہ ہے کیونکہ عوام تک جاتا ہے، مجھے لگتا ہے کہ ڈرامے کے ذریعے سوشل پیغام بہت اچھے طریقے سے دے سکتے ہیں۔لوگ ڈرامے دیکھ کر بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ جب ”اڈاری“ جیسے سماجی موضوعات پر ڈرامے بنائے جائیں گے تو اس سے یقینی طور پر مثبت تبدیلی ضرور آئے گی۔میرے نزدیک عمیرہ احمد اور آمنہ مفتی بہت اچھا لکھتی ہیں لیکن مجھے سعادت حسن منٹوکااسٹائل پسند ہے جس سے انسان ہل کر رہ جاتا ہے۔ جس طرح انتظار حسین،اشفاق احمد اور منٹو نے معاشرتی مسائل بیان کئے وہ زبردست ہے۔جب آپ سچ بولتے ہیں پھر ری ایکشن تو آتا ہی ہے،اگر معاشرے میں کچھ ایسے ایشوز ہیں تو وہ لوگوں کو راستہ دکھائیں گے۔لوگ ڈرامہ سے متاثر ہوتے ہیں،اگر ہم ڈراموں میں سوشل ایشوزپر بات کریں گے تو جو لوگ ایسی چیزوں سے متاثر ہوتے ہیں انہیں یہ بات ضرور سمجھ میں آئے گی کیونکہ ہمارے زیادہ تر لوگوں کی رسائی سوشل میڈتا تک کم ہے۔ڈرامے بہت بڑا میڈیم ہے جو معاشرتی تبدیلی میں اہم کردار اداکرسکتا ہے۔تفریح کے ساتھ ساتھ اس کے ذریعے بہترین پیغام بھی دیا جاسکتا ہے۔ایک سوال کے جواب میں سدرہ نیازی نے کہا کہ لوگوں میں فرسٹریشن اس لئے ہے کیونکہ ان کے پاس کتھارسز کے لئے فورم نہیں ہے،لوگ آسانی سے کسی کو کچھ بھی کہہ دیتے ہیں۔ابھی حال میں ”دھوپ کی دیوار“ لکھنے پر عمیرہ احمد کو جس طرح تنقید کا نشانہ بنایا گیا وہ بالکل بھی مناسب نہیں تھا۔انہیں کیوں اپنی صفائی دینا پڑی؟وہ بہت بڑی رائٹرہیں،ہم اپنے لوگوں کو کیوں اس نہج تک لے جاتے ہیں غداری اور کفر کا فتویٰ بہت جلد دے دیتے ہیں،کسی بھی بات پر اپنی رائے کا اظہار بھی اچھے طریقے سے کریں۔گالی گلوچ اورلعن طعن کی بجائے اچھے طریقے سے رائے کا اظہار کریں۔ اس سے لوگ طیش میں آجاتے ہیں، ہمیں اپنا طرزعمل بدلنا ہوگا اور دوسرے کی بات بھی سننا پڑے گی۔اپنی طاقت کا غلط استعمال نہ کریں کیونکہ ہرعروج کو زوال ہے۔انہوں نے بتایا کہ میں ان دنوں ڈائریکٹر حسیب حسن کی نئی سیریل ”تمہارے حسن کے نام“میں کام کررہی ہوں جس کی کاسٹ میں صباقمر اور عمران عباس جیسے بڑے نام بھی شامل ہیں۔صبا قمر بہت ہی پروفیشنل اور باصلاحیت اداکارہ ہے۔اگر میں عائزہ خان کی بات کروں تو انہوں نے ”چپکے چپکے“ میں ناقابل یقین پرفارمنس دی ہے۔اس کے علاوہ ایمن سلیم نے بہت اچھا کام کیا۔ڈرامے کی رائٹرصائمہ اکرم چوہدری کی تو کیا ہی بات ہے۔ انہوں نے نہ صرف کہانی بلکہ ڈائیلاگ بھی بہت اچھے تحریر کئے۔ اس ڈرامے کے ذریعے لوگوں کو تفریح اور ہنسنے کا بہترین موقع ملا۔میرے خیال میں ایسے ڈرامے رمضان کے علاوہ بھی چلنے چاہئیں تاکہ لوگوں کا غصہ کم ہو اور انہیں زیادہ سے زیادہ خوشی ملے کیونکہ عام آدمی کے پاس ڈرامے کے علاوہ تفریح کے دیگر ذرائع نہیں ہیں۔صائمہ اکرم چوہدری کی قلم پر گرفت بہت زیادہ ہے۔سدرہ نیازی نے مزید کہا کہ میرا مزاج بہت حساس ہے اس لئے میں اہم ایشوز پر ہی لکھوں گی لیکن بہت احتیاط کے ساتھ کیونکہ ہمارے لوگ درگزر کرنے کی بجائے بات پکڑ لیتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک انڈسٹری کا کام کا تجربہ نہایت خوشگوار رہا۔

٭٭٭

”چپکے چپکے“ سے شہرت پانے والی سدرہ نیازی کہتی ہیں 

ڈرامے کے ذریعے سماجی پیغام بہتر انداز میں دیا جاسکتا ہے

حسن عباس زیدی

مزید :

ایڈیشن 1 -