خواتین کو قومی دھارے میں لائے بغیر ترقی ناممکن: پیاف

خواتین کو قومی دھارے میں لائے بغیر ترقی ناممکن: پیاف

  

 لاہور( لیڈی رپورٹر) پاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشنز فرنٹ (پیاف) کے چیئرمین پیاف میاں نعمان کبیر،سینئر وائس چیئر مین ناصر حمید خان، وائس چیئر مین پیاف جاوید اقبال صدیقی اور دیگر اہم عہدیداروں حاجی محمد حنیف، طاہر منظور چوہدری، محمد علی میاں، عامر رفیق قریشی، نعیم حنیف،حسن رضا، محمد ابوبکر نے کہا کہپیاف ورکنگ وومن کی مکمل سپورٹ کرتی ہے اور تمام ٹریڈ باڈیز سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ خواتین کی خدمات حاصل کریں اور انہیں ذہنی و جسمانی سلامتی کی یقین دہانی کرائیں۔ ملک کی51 فیصد آبادی کو قومی دھارے میں لائے بغیر ملکی ترقی ناممکن ہے اس لئے معاشی سرگرمیوں میں خواتین کی شمولیت کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جائے اور تمام بزنس کے اداروں میں خواتین کو 30 سے40 فیصد نمائیندگی دی جائے اور اس سلسلے میں ایک جامع پالیسی تشکیل دی جائے۔ آئین حقوق نسواں کے تحفظ کی گارنٹی دیتا ہے اور قوانین بھی موجود ہیں مگر ان پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔ حکومت کی جانب سے شہری اور دیہی خواتین کو ترقی کے لئے بھرپور مواقع دینے کی ضرورت ہے جس کے لئے نجی شعبہ کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ملک کی پائیدار ترقی یقینی بنانے کے لئے ہر شعبہ سے وابستہ افراد کوخواتین کی ہر ممکن حوصلہ افزائی کرنا ہو گی اور انکی ترقی کے راستہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنا ہونگی جس میں بینکوں کی جانب سے قرضوں کی عدم فراہمی سب سے اہم ہے۔ میاں نعمان کبیر نے کہا کہ حکومت نے صنفی مساوا ت کے لئے متعدداقدامات کئے ہیں جبکہ خواتین کی فلاح و بہبود اور انکے کاروبار کوفروغ دینے میں خصوصی دلچسپی لی جا رہی ہے تاہم اس سلسلہ میں ملک بھر میں خواتین کی تیار کردہ مصنوعات کی نمائشوں کا سلسلہ شروع کیا جائے تاکہ انھیں با اختیار بنانے کا عمل تیز کیا جا سکے۔تاجر خواتین کی استعداد میں اضافہ، مسائل کے حل، سازگارماحول اور یکساں مواقع کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے حکومت کے ساتھ نجی شعبہ بھی آگے آکر اپنا کردار ادا کریں۔ عورتوں کے لئے خوشحال اور محفوظ مستقبل کے لئے انکی مصنوعات کو اندرون وبیرون ملک روشناس کروا نے کی کوششیں بڑھائی جائیں جبکہ متعلقہ ادارے انھیں نئی منڈیاں تلاش کرنے میں مدد دیں تاکہ انکا کاروبار اور روزگار بہتر ہو سکے۔ شہری خواتین کے ساتھ دیہی ہنرمند خواتین کوبھی مواقع فراہم کئے جائیں جبکہ دیہی علاقوں میں لڑکیوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی جائے جس کا اثر آنے والی نسلوں پر بھی پڑے گا۔شہروں اور دیہات میں عام طور پرخواتین کو محنت کے باوجود مردوں کے مقابلے میں کم معاوضہ دیا جاتا ہے جس سے انکی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اس لئے اس سلسلہ کو بند کیا جائے۔

مزید :

کامرس -