جنرل ہسپتال سے ڈسچارج مریض کی ہلاکت کا واقعہ، تحقیقات کیلئے 4رکنی کمیٹی تشکیل 

    جنرل ہسپتال سے ڈسچارج مریض کی ہلاکت کا واقعہ، تحقیقات کیلئے 4رکنی کمیٹی ...

  

 لاہور(نمائندہ خصوصی) لاہور جنرل ہسپتال میں ڈاکٹرز کی مبینہ غفلت سے ایک شخص ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد گھر واپسی پرجاں بحق ہوگیا۔ 47سالہ ارمان نامی شخص کو اندرون شہر سے لایا گیا تھا جس کی بخار،الٹیاں آنے اور شوگر کی وجہ سے حالت غیر ہو گئی تھی،لواحقین نے مریض کے جاں بحق ہونے پر احتجاج ریکارڈ کروایا جس پر پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پروفیسر الفرید ظفرنے اس واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے 4رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی جس کے سربراہ پروفیسر آف میڈیسن پروفیسر غیاث النبی طیب ہوں گے۔دیگر ممبران میں ایم ایس ڈاکٹر عبدالرزاق،فوکل پرسن ایمرجنسی ڈاکٹر لیلیٰ شفیق اور نرسنگ سپرنٹنڈنٹ رقیہ بانو شامل ہیں۔ہسپتال ریکارڈ کے مطابق ارمان نامی مریض کواتوار کی صبح4بجے ایمرجنسی لایا گیا تھا جس کا بر وقت طبی معائنہ کرنے کے بعد ڈاکٹرز نے تشخیصی ٹیسٹ بھی کروائے،8بجے مریض کی حالت سنبھلنے پر ادویات تجویز کر کے اسے ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا جو 11بجے کے قریب راستے میں چل بسا۔ پرنسپل پروفیسر الفرید ظفر کا کہنا تھا کہ کمیٹی اس مریض کو ملنے والے علاج معالجے سمیت تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گی اور 72گھنٹے میں رپورٹ پیش کر ے گی۔انہوں نے کہا کہ اگر اس واقعہ میں کسی کی غفلت پائی گئی تو اْس کے خلاف سخت ایکشن ہو گا۔انہوں نے مریض کے لواحقین کو یقین دلایا کہ وہ اس واقعہ کی غیر جانبدارانہ انکوائری کروائیں گے اور مکمل انصاف فراہم کیا جائے گا۔پروفیسر الفرید ظفر نے میڈیا کو بتایا کہ لاہور جنرل ہسپتال110 کی ایمرجنسی 110بستروں پر مشتمل ہے۔ مریضوں کے بڑھتے ہوئے رش کے باعث ہسپتال انتظامیہ نے 222بستر لگا رکھے ہیں اور  اس سلسلے میں ڈاکٹرز نرسز کی ڈیوٹیاں لگائی گئی ہیں اور مریضو کو پنجاب حکومت کی پالیسی کے مطابق مفت سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -