ٹی ٹی پی پاکستان میں کارروائیاں بند کرے، طالبا ن، بھارت پاکستان کے خلاف افغا ن سرزمین استعماک کرنے سے باز رہے گا: گلبدین حکمت یار

ٹی ٹی پی پاکستان میں کارروائیاں بند کرے، طالبا ن، بھارت پاکستان کے خلاف افغا ...

  

 کابل(مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی)افغان طالبان نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)کو پاکستان میں کارروائیاں روکنے کا حکم دے دیا۔امریکی خبر رساں ادارے وائس آف امریکہ کی رپورٹ کے مطابق افغان طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ نے پاکستانی شکایات پر 3رکنی کمیشن بنایا ہے۔رپورٹ کے مطابق کمیشن نے کالعدم ٹی ٹی پی کو خبردار کیا ہے کہ وہ پاکستان سے معاملات حل کریں، کالعدم ٹی ٹی پی کے ارکان عام معافی کے بدلے ہتھیارڈالیں اور پاکستان چلے جائیں۔رپورٹ کے مطابق پاکستان اورافغان طالبان نے اس پیشرفت پرتاحال کوئی باضابطہ موقف جاری نہیں کیا۔ چند روز قبل پاکستان کے سابق ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چودھری نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا تھا کہ پاکستان، تحریکِ طالبان پاکستان کا معاملہ افغان طالبان کے سامنے رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔افغانستان کے سابق وزیراعظم اور حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار نے کہا ہے کہ بھارت کو اپنے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کشمیریوں کی جدوجہد کا بدلہ لینے کیلئے افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے سے باز رہنا چاہیے۔انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ نئی حکومت کی تشکیل کیلئے افغان دھڑوں کے درمیان باضابطہ مذاکرات آئندہ چند روز میں افغانستان سے غیر ملکی فوج کے مکمل انخلا کے بعد شروع ہوں گے۔کابل میں سرکاری میڈیا کو ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے امید ظاہر کی کہ جلد کابل میں ایک ایسی حکومت قائم ہوگی جو افغان عوام اور عالمی برادری کیلئے قابل قبول ہوگی۔ تمام فریقوں کو اس بات کا احساس ہے کہ افغانستان میں نئی حکومت کی تشکیل کیلئے افغان سیاسی رہنماؤں اور طالبان کو باضابطہ طور پر مذاکرات کرنے چاہیں۔انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے غیر رسمی روابط جاری ہیں جو جلد باضابطہ مذاکرات میں تبدیل ہو جائیں گے۔ گلبدین حکمت یار نے کہا کہ طالبان اپنے بیانات میں یہ کہتے رہے کہ وہ اپنی مرضی کی اسلامی امارات مسلط نہیں کرنا چاہتے اور تمام فریقوں کی مشاورت سے ایک مخلوط حکومت کے قیام کو ترجیح دیں گے۔ایک سوال کے جواب میں حزب اسلامی کے سربراہ نے کہا کہ کچھ امن دشمن افغانستان میں ایک مستحکم اور مضبوط مرکزی حکومتی نہیں چاہتے۔ بعض غیر ملکی خفیہ ادارے افغان عوام کو بغاوت پر اکسا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے بیانات جاری کرنے کے بجائے اپنے اندرونی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔ گلبدین حکمت یار نے افغانستان میں امن کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان کے دیرینہ موقف کی بھی تعریف کی۔افغانستان کے دارالحکومت کابل میں سیاسی غیر یقینی اور اشیا ئے  خوردونوش کی قیمتوں میں اتار چڑھا کے ساتھ ہی حالات معمول پر آرہے ہیں۔طالبان نے افغانستان بھر میں جلد اسکول اور کالجز کھولنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیمی سرگرمیوں پر قدغن نہیں لگائی جائے گی۔ ایک طالبان رہنما نے بتایا کہ کچھ علاقوں میں اس وقت بھی اسکول کھلے ہوئے ہیں اور جلد ہی پورے ملک کے اسکول اور کالجز بھی کھل سکتے ہیں۔طالبان رہنما نے کہا کہ ہمارے کمانڈرز چند روز میں 34 میں سے 20 صوبوں میں سے سابق گورنرز اور بیوروکریٹس سے ملاقات کریں گے اور ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اْٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کریں گے۔دوسری طرف سعودی عرب کی سربراہی میں افغانستان کی صورتحال پر غور کرنے کے لیے اسلامی تعاون تنظیم ”او آئی سی“ کا غیرمعمولی اجلاس جدہ میں ہوا۔سعودی عرب نے دو روز قبل افغانستان کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورت حال پر اسلامی تعاون تنظیم کا غیر معمولی اجلاس بلانے کی درخواست کی تھی۔57 مسلم ممالک کی نمائندگی کرنے والی اسلامی تعاون تنظیم نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ جنگ زدہ ملک میں انسانی ضروریات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس لیے کڑے وقت میں افغانستان کو ہر طرح کی مدد فراہم کی جائے اور قیمتی جانوں کے ضیاع کو بچانے کے لیے ہرممکن اقدامات اْٹھائے جائیں۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے او آئی سی کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر یوسف بن احمد العثمین نے کہا کہ افغانستان میں مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں۔ افغانستان میں امن کے قیام اور شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کے لیے اْٹھائے گئے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔امریکہ نے افغانستان سے نکلنے والوں کے لیے نجی ایئر لائنز کے استعمال کا فیصلہ کر لیا۔پینٹاگون کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی ایئر لائنز کے طیارے کابل نہیں جائیں گے، تیسرے ملک سے مسافروں کو لفٹ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ مختلف امریکی ایئر لائنز کے 18 طیاروں کو استعمال کیا جائے گا۔دوسری جانب ڈچ حکومت نے اپنے باشندوں کے انخلا کی کوششوں کو مزید محفوظ بنانے کے لیے اضافی فوجی بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ برطانیہ کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ہماری مسلح افواج نے 13 اگست سے اب تک تقریبا 4 ہزار افراد کو افغانستان سے نکالا ہے۔انہوں نے بتایا کہ برطانوی فوجیوں کے ذریعے نکالے جانے والوں کی اکثریت افغان ہیں جنہوں نے گزشتہ 20 سالوں میں برطانیہ کی مدد کی ہے۔دوسری طرف افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ایئرپورٹ کے قریب بھگدڑ سے 7 افراد ہلاک ہو گئے۔  ملک چھوڑنے کے خواہشمند ہزاروں افراد اب بھی کابل ایئرپورٹ کے باہر جمع ہیں اور اسی دوران بھگدڑ کا واقعہ پیش آیا۔ بھگدڑ کے واقعے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے جنہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا۔  دوسری طرف  امریکا نے افغانستان میں موجود اپنے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ کابل ایئرپورٹ کی جانب سے جانے سے اجتناب برتیں۔ ہدایات میں کہا گیا ہے کہ اس ہوائی اڈے کے دروازوں کے قریب 'ممکنہ سکیورٹی خطرات موجود ہیں۔افغان طالبان نے کہاہے کہ وہ کابل ایئرپورٹ پر افراتفری کے ذمہ دار نہیں ہیں،ہزاروں لوگ کابل کے حامد کرزئی ایئرپورٹ پر جمع ہیں تاکہ ملک سے باہر نکل سکیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق طالبان کا کہنا تھا کہ وہ ایئرپورٹ پر ہونے والی اس افراتفری کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ایک طالبان ترجمان نے کہا کہ مغربی قوتوں کے پاس لوگوں کو نکالنے کے لیے بہتر منصوبہ ہونا چاہیے تھا۔افغانستان میں پاکستانی سفیر منصور احمد خان نے حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار سے ملاقات کی ہے۔ کابل میں ہونے والی ملاقات میں افغانستان میں جاری حکومت سازی کے عمل پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا، پاکستانی سفیر منصور احمد خان نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں امن کے قیام کیلئے ہرممکن تعاون فراہم کریگا۔ اس موقع پر افغان رہنما گلبدین حکمت یار نے کہا کہ افغانستان میں امن اور حکومت سازی کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرحل تلاش کرنا ہو گا۔ افغان طالبان کے مرکزی رہنما خلیل الرحمان حقانی نے کہاہے کہ اب کسی سے دشمنی نہیں ہے، اشرف غنی، امراللہ صالح اور حمد اللہ محب سمیت سب کے لیے عام معافی ہے۔اشرف غنی، جرنیل اور سابقہ حکومتی عہدیداروں سمیت جو بھی افغانستان آنا چاہے آسکتا ہے، کسی سے بھی انتقام نہیں لیا جائے گا، تاجک، بلوچ، ہزارہ، پشتون اور ہم سب بھائی ہیں۔امریکا سے دشمنی میں ہم نے پہل نہیں کی تھی اور اب بھی نہیں کر رہے، امریکا نے ہمارے مذہب اور ملک سے زیادتی کی تو مجبور ہو کر بندوق اٹھائی۔افغانستان کا ایک منظم نظام بنے گا جس میں تمام اقوام، ساری تنظیمیں اور اہل تعلیم یافتہ لوگ شامل ہوں گے، قوم کو متحد کرنے والوں کو حکومت میں شامل کیا جائے گا۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایک انٹرویو میں طالبان رہنما خلیل الرحمان حقانی نے کہاکہ امریکا سے دشمنی میں ہم نے پہل نہیں کی تھی اور اب بھی نہیں کر رہے، امریکا نے ہمارے مذہب اور ملک سے زیادتی کی تو مجبور ہو کر بندوق اٹھائی۔خلیل الرحمان حقانی نے کہا کہ ہماری دشمنی کی وجہ نظام کی تبدیلی تھا اور اب نظام تبدیل ہو چکا ہے، اب اشرف غنی، امراللہ صالح اور حمد اللہ محب سمیت سب کے لیے عام معافی ہے، اشرف غنی، جرنیل اور سابقہ حکومتی عہدیداروں سمیت جو بھی افغانستان آنا چاہے آسکتا ہے، کسی سے بھی انتقام نہیں لیا جائے گا، تاجک، بلوچ، ہزارہ، پشتون اور ہم سب بھائی ہیں۔انٹرویو میں خلیل الرحمان حقانی کا کہنا تھا کہ افغانستان کا ایک منظم نظام بنے گا جس میں تمام اقوام، ساری تنظیمیں اور اہل تعلیم یافتہ لوگ شامل ہوں گے، قوم کو متحد کرنے والوں کو حکومت میں شامل کیا جائے گا۔طالبان رہنما نے افغانستان چھوڑ کر جانے والوں کو پیغام دیا کہ باہر نہ جائیں، یہیں رہ کر اپنے ملک کی خدمت کریں، دشمن آپ کو ڈراتے ہیں کہ امارات اسلامی آپ کو سزائیں دیں گے، اسلام امن کا دین ہے، یہاں سب کو برابر حقوق ملیں گے اور کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہو گی۔خلیل الرحمان حقانی کا کہنا تھا کہ تمام ممالک اور مسلمان ملکوں کے لیے پیغام ہے اپنے لوگوں کو حقوق دیں خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو، جن لوگوں کے جو حقوق بنتے ہیں وہ انہیں فراہم کریں۔یورپی یونین نے کہا ہے کہ طالبان کو تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی ان کے ساتھ سیاسی مذاکرات کر رہے ہیں، طالبان کے الفاظ کا موازنہ ان کے عملی کردار اور کارروائیوں سے ہی کیا جائے گا۔بین الاقوامی ویب سائٹ کے مطابق یورپی یونین کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لین  نے کہا ہے کہ  طالبان کی جانب سے بیانات سامنے آئے ہیں تاہم ان کے الفاظ کا موازنہ طالبان کے عملی کردار اور کارروائیوں سے ہی کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ یورپی یونین نے رواں سال کے دوران افغانستان میں انسانی امداد کی مد میں 67ملین ڈالر کی رقم مختص کی ہے جس میں وہ اضافے کی تجویز پیش کریں گی۔یورپی یونین کمیشن کی صدر نے واضح کیا کہ افغانستان کے لیے مختص امداد ملک میں انسانی حقوق کی پاسداری، اقلیتوں کے ساتھ حسن سلوک اور خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کی عزت کے ساتھ مشروط ہے۔افغان صوبے ننگر ہار کے سابق گورنر ضیا الحق امرخیل نے بھی امارت اسلامیہ افغانستان کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ننگر ہار کے سابق گورنر ضیا الحق امرخیل نے طالبان کے مرکزی رہنما خلیل الرحمان حقانی سے ملاقات کی، دوران ملاقات  ضیا الحق امرخیل نے امارت اسلامیہ افغانستان پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے طالبان کی حمایت کا اعلان کیا۔دریں اثنا طالبان نے وادی پنجشیر کا کنٹرول  حوالے کرنے کیلئے  شمالی افغانستان کیشمالی اتحاد کے رہنما احمد مسعود کو چندگھنٹے کی مہلت دے دی۔عرب میڈیا کے مطابق سابق جہادی کمانڈر احمد شاہ مسعود کے 32 سالہ بیٹے احمد مسعود کو طالبان نے پنجشیر پر قبضے کے حوالے سے الٹی میٹم دے دیا ہے تاہم احمد مسعود نے کہا ہے کہ  اگر طالبان نے  وادی پر قبضے کی کوشش کی تو انہیں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑیگا۔ احمد مسعود کا کہنا تھا کہ ہم دہشت گردی کا قلع قمع کرنے کی خاطر طالبان کے ساتھ مل کر وسیع البنیاد حکومت کی تشکیل کے لیے سیاسی مذاکرات کے لیے تیار ہیں تاہم اگر طالبان نے مذاکرات سے انکار کیا تو جنگ ناگزیرہوگی طالبان کی صوبے کی جانب پیش قدمی جاری ہے، اور لڑائی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق احمد مسعود نے پنج شیر وادی میں تقریباً 9 ہزار جنگجوؤں کو جمع کرکے تیار رہنے کا حکم دیدیا ہے۔ خیال رہے کہ پنج شیر وادی کابل کے شمال مشرق میں واقع ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے افغانستان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور مغربی ممالک افغان مہاجرین کو بغیر ویزہ اپنے ملک لے جانا نہیں چاہتے مگر وہ انہیں بغیر ویزہ وسطی ایشیائی ممالک میں رکھنا چاہتے ہیں۔ روسی صدر نے کہا کہ پناہ گزینوں کے بھیس میں جنگجو بھی خطے میں آسکتے ہیں جس کے لئے وہ تیار نہیں ہیں۔ادھر برطانوی وزیراعظم نے منگل کو افغانستان کی صورتحال پر جی سیون ممالک کا آن لا ئن اجلاس بلایا ہے۔ بورس جانسن کا کہنا ہے کہ عالمی برادری کو محفوظ انخلا اور انسانی بحران سے بچانے کے لئے کردار ادا کرنا ہوگا۔

طالبان وارننگ

مزید :

صفحہ اول -