قومی تہواروں کی چھٹیوں میں ہلڑ بازی، ناخوشگوار واقعات روکنے کیلئے قانون سازی کا فیصلہ 

قومی تہواروں کی چھٹیوں میں ہلڑ بازی، ناخوشگوار واقعات روکنے کیلئے قانون ...

  

 لاہور(شہزاد ملک) ملک کے قومی دنوں جیسے چودہ اگست‘ عید کی چھٹیوں اور قومی تہواروں کی چھٹیوں پرمینار پاکستان اور چنگ چی رکشہ جیسے کسی بھی ناخوشگوار واقعات کی روک تھام کے لیئے حکومت نے نئی قانون سازی اور اس حوالے سے ایس او پیز بنانے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے جس کے مطابق ان چھٹیوں کے دوران کسی بھی قسم کی ہلڑ بازی کی اجازت نہیں دی جائے گی اس بات کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا کہ پبلک مقامات پر کسی بھی منچلے کو فیملی کے بغیر داخل نہیں ہونے دیا جائے گا،شور شرابا کرنے والوں اور فیملی کے بغیر ان مواقع کے دوران کسی کو سڑک پر ہی نہیں آنے دیا جائے گا اور کوشش کی جائے گی کہ ایسے شور شرابا کرنے والے جوانوں کو ان کے گھروں سے ہی نکلنے نہ دیا جائے جبکہ چودہ اگست کے موقع پر باجے فروخت کرنے والوں اور اس کو بنانے والوں کو بھی قانون کی گرفت میں لایا جائے گا وزیر اعظم عمران خان کے آئندہ لاہور کے دورے کے دوران ان نکات پر مشتمل قانون سازی کا مسودہ انہیں پیش کرکے ان کی اجازت کے بعد اس مسودے کی منظوری باقاعدہ طور پر اسمبلی سے منظور کروائی جائے گی اور اس حوالے سے سزا ؤں میں مزید سختی کا بھی قانون لایا جائے گا۔اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے حکومت کے ایک وزیر نے ”پاکستان“ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان نکات پر مبنی یہ تجاویز قانون سازی کے لیئے تیار کر لی گئی ہیں جن کو آئندہ وزیر اعظم عمران خان کے لاہور کے دورہ کے دوران ان کے سامنے رکھا جائے گا اورمجھے یقین ہے کہ وہ ان تجاویز کی فوری طور پر منظوری بھی دے دیں گے جس کے بعد اس پر پنجاب حکومت باقاعدہ قانون سازی کرے گی۔ان کا کہنا تھا کہ افسوس کا مقام ہے کہ نور مقدم کیس،عائشہ ٹک ٹاکر اور چنگ چی رکشہ جیسے واقعات پی ٹی آئی حکومت کی ایک مثالی حکومت کی کارکردگی کی راہ میں حائل ہو جاتے ہیں اور پاکستان کا وہ سافٹ امیج جو کہ وزیر اعظم عمران خان کی وجہ سے دنیا بھر میں گیا ہے اس پر بھی حرف آتا ہے جس کا ہمیں بہت دکھ اور افسوس ہے حکومت کسی بھی قیمت پر ایسے شر پسند عناصر کو ان کے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دے گی اس لیئے حکومت نور مقدم کیس اور عائشہ ٹک ٹاکر والے ایشو کو قانون کے مطابق نہ صرف حل کرے گی اور ان کیسز کو پایہ تکمیل تک بھی پہنچائے گی اور جن لوگوں کا یہ خیال ہے کہ وہ ہر قسم کے قانون سے بالا تر ہیں انکو قانون کی مضبوط گرفت میں لایا جائے گا لوگوں کے دلوں میں قانون کا خوف پیدا کریں گے ہم نور مقدم کیس اور عائشہ کیس کو ایک مثال بنا دیں گے کہ جس کے بعد قانون توڑنے والے لاکھ بار سوچیں گے کہ ان کے ساتھ حکومت کیا کر سکتی ہے اگر کسی کا یہ خیال ہے کہ وہ پیسے کے بل بوتے پر قانون سے بچ جائے گا تو اس کا یہ زعم حکومت ختم کردے گی۔

قانون سازی

مزید :

صفحہ اول -