معاشی ترقی کیلئے سیلز ٹیکس شرح میں کمی ناگزیر: صفدر علی بٹ

  معاشی ترقی کیلئے سیلز ٹیکس شرح میں کمی ناگزیر: صفدر علی بٹ

  

 لاہور(سٹی رپورٹر) صدر لبرٹی مارکیٹ بورڈصفدر علی بٹ نے  کہا ہے کہسیلز ٹیکس کی شرح سنگل ڈیجٹ تک لائی جائے،معیشت اور برآمدات کی تیز رفتار ترقی کیلئے ایس ایم ای سیکٹر کو فوری مراعات دینے کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بورڈ ممبران سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔مہنگائی کے باعث عوام اورتاجروں کیلئے یوٹیلٹی بلز کی ادائیگیاں کرنا محال ہوتا جارہا ہے، بجلی کے بلوں میں شامل بے جا ٹیکسز فی الفور ختم کئے جائیں۔کورونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے تاجر طبقہ شدید مالی مشکلات سے دوچار ہوا ہے جس کی وجہ سے کاروباری معاملات میں اخراجات پورے کرنا بھی مشکل ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت چھوٹے تاجروں کے لئے بلا سود قرض کی سکیم دے اور اس کیلئے گارنٹی کی شرط کوبھی ختم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی کسی بھی معیشت کی ترقی کیلئے ایس ایم ا ی سیکٹر کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ اگرچہ لارج سکیل مینو فیکچرنگ گروپ نے کافی ترقی کی ہے مگرا س کے باوجود قومی برآمدات میں اس کا حصہ صرف 33فیصد ہے جبکہ مالی اور دیگر مجبوریوں کے باوجود ایس ایم ای سیکٹر برآمدات میں 66فیصد کا گرانقدر حصہ ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے جہاں عالمی سطح پر تجارتی شعبہ متاثر ہوا وہاں پاکستان جیسی کمزور معیشت پر اس کے منفی اثرات سے خاص طور پر چھوٹے یونٹوں کیلئے اپنا کاروبار جاری رکھنا مشکل ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی پالیسیوں کے  باعث ٹیکسٹائل کی برآمدات میں ساڑھے سترہ فیصد کا اضافہ ہوا۔ پاکستان میں اس وقت دھاگے کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں جن پر قابو پانے کیلئے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔ حکومت نے اپنی بہترین حکمت عملی سے معیشت کو ترقی کی راہ پر ڈال دیا ہے لیکن ملک کے مختلف شعبوں میں چھپے ہوئے مافیا نے اپنے مخصوص ہتھکنڈوں کی وجہ سے اس کی کوششوں کو زائل کرنا شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کاروباری طبقہ کی دی گئی تجاویز پر عملدآمد کرے تاکہ معیشت کو ٹھوس اور پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔ ملک میں صنعتکاری کا عمل تیز کرنے کیلئے حکومت تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے صنعتی پالیسی کا اعلان کرے تا کہ سرمایہ کاروں کو مستقبل کی  ایک بہتر سمت کا تعین کرنے میں سہولت ہو اور وہ مزید اعتماد کے ساتھ پاکستان میں صنعتی شعبے میں سرمایہ کاری کر سکیں۔ جس سے ملک میں روزگار کے بے شمار نئے مواقع پیدا ہوں گے، ویلیو ایڈڈ مصنوعات تیار ہونے سے برآمدات میں اضافہ گا، درآمدی متبادل کو فروغ ملے گا اور ملک کے ٹیکس محصولات میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔

مزید :

علاقائی -