اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں 20سے 25فیصد اضافہ، غریبوں کی چیخیں 

اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں 20سے 25فیصد اضافہ، غریبوں کی چیخیں 

  

  ملتان (نیوز رپورٹر)ملک میں چند سالوں کے دوران اشیائے خورونوش کی قیمتیں پہلے ہی محدود آمدنی والے متوسط و غریب طبقے کی دسترس سے باہر ہوتی جارہی ہیں جبکہ افغانستان اور پاکستان کے مابین بارڈر کے کھلنے اور اشیائے خورونوش کی نقل و حرکت نے ایک ہی دن میں دالوں کے نرخوں کو پر لگ گئے ہیں اور دالوں کی قیمتوں میں 20 سے 25 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا ہے مارکیٹ ذرائع کے مطابق دال مسور 5000 روپے(بقیہ نمبر46صفحہ6پر)

 سے بڑھ کر 6100 روپے من کی سطح کو چھونے لگی ہے دال چنا 4800 روپے سے بڑھ کر 5400 روپے دال ماش 8000 روپے سے بڑھ کر 9000 روپے سفید چنا باریک 4400 روپے سے بڑھ کر 5200 روپے سفید چنا موٹا 5600 روپے سے بڑھ کر 6200 روپے کی سطح کو چھونے لگا ہے جبکہ آئندہ چند دنوں تک چاول کی متعدد اقسام کے نرخوں میں بھی اضافہ متوقع ہے صوبائی حکومتیں اور مارکیٹ کمیٹیوں کے ذمہ داران اس آنیوالے بحران سے کس طرح نبرد آزما ہوتے ہیں کس نوعیت کی منصوبہ بندی کرتے ہیں کہ عوام کو اشیائے خورونوش کی نہ صرف قلت سے دوچار ہونا پڑے بلکہ انتظامیہ کو اس صورتحال میں ذخیرہ اندوزوں اور گرانفروشوں پر بھی کڑی نظر رکھنا ہوگی وگرنہ پہلے سے مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے عوام کی آہ فغاں میں مزید اضافہ ہونے کا قوی امکان ہے مارکیٹ ذرائع کے مطابق انٹرنیشنل مارکیٹ میں خام خوردنی آئل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے لیکن مقامی مینوفیکچررز تیار شدہ آئل اور گھی کی قیمتوں میں کمی لانے کو تیار نہیں ہیں انٹرنیشنل مارکیٹ میں خام خوردنی آئل کی قیمت فی من 10275 روپے سے کم ہوکر 9800 روپے کی سطح پر آن پہنچی ہے لیکن اس قیمتوں میں کمی کے ثمرات صارفین تک منتقل نہیں کیئے جارہے اور نہ ہی وزارت انڈسٹریز کے افسران صارفین کو ریلیف دینے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

اضافہ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -