فنڈز تنخواہیں، پیف سکولز سسٹم بند کرنے کا منصوبہ، 30لاکھ بچوں ک مستقبل تاریک 

      فنڈز تنخواہیں، پیف سکولز سسٹم بند کرنے کا منصوبہ، 30لاکھ بچوں ک مستقبل ...

  

 مظفزگڑھ، ماہڑہ شہر(نامہ نگار) حکومتِ پنجاب کی عدم توجہی پیف سکولز سے تیس لاکھ بچوں کا مستقبل خطرے میں پڑ گیاتفصیلات کے مطابق پنجاب ایجوکیشن فاونڈیشن کو تین ماہ سے فنڈزنہ مل سکے جس کے باعث پیف سے ملحق سکول مالکان سکول بند کرنے پر مجبور ہوگئے متعدد سکول بند کردیئے گئے اکثر سکولز نے مانیٹرنگ کرانے بھی انکار کر دیا سکول مالکان کا کہنا تھا کہ جب دے پی ٹی آئی کی حکومت آئی(بقیہ نمبر42صفحہ7پر)

 ہے پیف میں داخلے روک دیئے گئے ہیں صوبائی وزیر تعلیم مراد راس نے آتے ہی ان سکول کو ن لیگ کے سکولز کا ٹائٹل دے کر ان میں پڑھنے والے بچوں اور پڑھانے والے اساتذہ کی تضیک کی کبھی انہیں شرپسند عناصر اور کبھی مافیا کا نام دیا گیا اس کے برعکس پنجاب ایجوکیشن فاونڈیشن میں انرولمنٹ کی شرح تیس لاکھ سے کم ہوکر بائیس لاکھ رہ گئی جوکہ حکومت اور انتظامیہ کی کھلی نااہلی ہے اب رواں تعلیمی سیشن میں پیف کا بجٹ 24 ارب سے کم کرکے 19 ارب روپئے کردیا گیا ہے جو کہ وہ بھی ابھی تک پیف کو گورنمنٹ آف پنجاب نے ریلیز نہیں کیا جس سے سکول مالکان اور اساتذہ انتہائی مالی مشکلات کا شکار ہیں انہوں نے مزید کہا کہ پیف سکولز کو فنڈز اور داخلے نا دیکر گورنمنٹ غریب اور یتیم بچوں پر تعلیم کے دروازے ہمیشہ ہمیشہ کیلیے بند کرنا چاہتی ہے ساتھ ہی سکول مالکان کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعلی پنجاب عثمان بزدار اور وزیرِ تعلیم مراد راس کی عدم توجہی کے باعث پیف جیسا صاف شفاف ادارہ آخری سانسین لینے لگا ہے سکول مالکان نے مطالبات نا منظور کرنے پر سکولوں کی تالا بندی کی دھمکی بھی دے دے سکول مالکان نے گورنمنٹ سے پیف میں داخلوں کی اجازت فنڈز کی بروقت ادائیگی رجسٹریشن اور دیگر مسائل کے حل کی اپیل کی ہے انہوں مطالبات نا ماننے پر سکولز بند کرنے کی دھمکی بھی دے رکھی ہے

مزید :

ملتان صفحہ آخر -