آسان فنانس سکیم سے کاروباری اداروں کو فائدہ ہوگا، جلال الدین رومی

  آسان فنانس سکیم سے کاروباری اداروں کو فائدہ ہوگا، جلال الدین رومی

  

 ملتان (نیوز رپورٹر)حکومت پاکستان نے اسٹیٹ بینک کے ذریعے ضمانت نہ رکھنے والے چھوٹے اور درمیانے کاروبار کے لئے ایس ایم ای آسان فنانس(صاف)سکیم متعارف کروا کر ہمارا دیرینہ مطالبہ پورا کیا ہے۔جس پر ہم وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار معروف صنعت کار، سابق صدر چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری ملتان اور موجودہ صدر چیمبرز آف کامرس اینڈ (بقیہ نمبر26صفحہ6پر)

انڈسٹری ڈیرہ غازی خان خواجہ جلال الدین رومی نے ملتان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انھوں نے کہا کہ میں نے متعدد مرتبہ وزیراعظم، وزیر خزانہ اور گورنر سٹیٹ بینک سے ملاقات میں یہ تجویز دی تھی کہ ملک میں آبادی کے بڑھتے ہوئے پھیلا کی وجہ سے جو  بے روزگاری کا طوفان آیا ہوا ہے۔اس کا بہترین حل یہ ہے کہ بے روزگار نوجوانوں کو بلا ضمانت قرضہ دیا جائے۔ اب سٹیٹ بینک نے چھوٹے و درمیانے کاروبار کے لئے بلا ضمانت قرضہ سیکم(صاف)متعارف کروا کر کاروباری اداروں کو تقویت پہنچائی ہے۔اس اسکیم سے یہ فائدہ ہو گا کہ جن لوگوں کے پاس ضمانت یا رہن کے وسائل نہیں ہوتے۔ان کو قرضہ لینے کی سہولت حاصل ہوگی۔ خواجہ جلال الدین رومی نے مزید بتایا کہ اس اسکیم کے متعلق وزیر خزانہ شوکت ترین کا ویژن بڑا واضح ہے کہ ان کی اس منصوبے سے جہاں نوجوانوں کو بلا ضمانت قرضے ملیں گے۔وہاں کمرشل بینکوں کو بھی ملکی معیشت بہتر بنانے میں اپنا رول نبھانے کا موقعہ ملے گا۔ (صاف)کے تحت وہ تمام ایس ایم ای ادارے جو کسی بینک کے نئے قرضہ دار ہوں گے۔ایک کڑوڑ تک قرضہ لینے کے  بغیر ضمانت کے اہل ہوں گے۔خواجہ جلال الدین رومی نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ اسکیم اگلے ماہ سے قرضہ دینے کا کام شروع کرے گی۔جس کے بعد نہ صرف بے روزگاری کے خاتمے میں مدد ملے گی بلکہ صنعتی اور تجارتی ترقی کو فروغ ملے گا۔خواجہ جلال الدین رومی نے کہا کہ وہ آنے والے دنوں میں وزیراعظم عمران خان  اور وزیر خزانہ شوکت ترین سے ملاقات کرکے مطالبہ کریں گے کہ اس اسکیم میں تیس فیصد کوٹہ جنوبی پنجاب کے لئے مختص کیا جائے۔تاکہ اس خطے میں معشیت کے پہیہ میں تیزی لائی جاسکے۔ اس سلسلے میں بہت جلد چمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری ملتان اور ڈیرہ غازی خان میں آگاہی ڈیسک بھی قائم کیا جائے گا تاکہ قرضہ لینے والے بے روزگار نوجوانوں اور اداروں کی رہنمائی کی جا سکے۔

رومی

مزید :

ملتان صفحہ آخر -