کہروڑ پکا،پسند کی شادی پرجوڑا اغواء،اندھا دھند فائرنگ

  کہروڑ پکا،پسند کی شادی پرجوڑا اغواء،اندھا دھند فائرنگ

  

 کہروڑپکا(نمائندہ خصوصی)کراچی سے بھگاکر پسند کی شادی کرنے والاجوڑا گن پوائنٹ پر اغوا،اندھا دھند فائرنگ،2 کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔بھاری اسلحہ برآمدپولیس کی 30 لاکھ میں ڈیل،اغوا کاروں کو بھاری اسلحہ سمیت عوام نے پکڑ کرپولیس کے حوالے کیاپولیس نے اغوا کئے گئے جوڑے کو صادق آباد کے تھانہ کوٹ صفدر کی حدود سے واپس منگوایاپولیس (بقیہ نمبر5صفحہ6پر)

نے دو گھنٹے تک اغوا کاروں سے مذاکرات کرکے لڑکی سیف ہا تھوں سے واپس کرنے کا یقین دلایا 5 بجے لڑکی کو عدالت پیش کیا لڑکی نے عدالت کے پوچھنے پر بھائی کے ساتھ جانے کی اسدعا کی دونوں طرف سے وکیل بھی پیش ہوئے پولیس نے پکڑے گئے دو ملزم اور ڈبل کیبن ڈالا بھاری اسلحہ سمیت چھوڑا دیا مغوی لڑکے کو بھی اغوا کاروں کے خلاف کاروائی نہ کرنے کی تحریر دینے پر چھوڑ دیاوڈیرے نے اپنے بچاو کے لیے سپاہی سے اوپرتک خوب مال چلا دیاقانون مذاق بن گیاا  تفصیل کے مطا بق لیہ کے رہائشی ابرار نامی نوجوان نے کراچی میں کام کرتے ہو ئے کراچی کے علاقہ گلشن معمارمیں رہائش پزیر وڈیرے سید محمد اکبر شاہ کی جوان سال بیٹی ثنا اکبر سے مراسم قائم کر لیے تھے اور اس کو بھگا کر پنجاب لیہ لے کر آگیا جہاں پر دونوں نے قانونی طریقہ کار استعمال کرتے ہو ئے نکاح کرلیا جبکہ لڑکی کے ورثا نیتھانہ سٹیلائیٹ انڈسٹریل ایریا میں لڑکی کے اغوا کا مقد مہ درج کروادیا سندھ پولیس لیہ میں چھاپے مار لڑکی برآمد کی متعد بار کوشش کر چکی تھے مگر جوڑا مسلسل ان کی گرفت سے نکل جاتا تھا گزشتہ روز 3 گاڑیوں پر مشتمل 10 سے زائد افراد جن میں لڑکی کا والد سید اکبر شاہ،بھائی آصف شاہ،ایک نوجوان عورت اور دیگر افراد آئے ایک کیبن ڈالا،2 کاریں تھیں کہروڑ پکا کے نواحی علاقہ موضع چیلے واہن کی نئی بستی میں یہ تمام افراداچانک ایک گھر میں جدید اسلحہ سے مسلح ہو کر داخل ہو گئے اور وہاں سے پسند کی شادی کرنے والیجوڑیابراراورثنا اکبر کو اٹھا کر لائے اور ایک کار میں ڈال کر اس کو فرار کروادیا جبکہ کار اور ڈالے میں موجود افراد نے جدید اسلحہ سے فائرنگ شروع کر دی تاکہ اہل علاقہ مزاحمت نہ کریں اور مبینہ طور پر یہ تاثردیا کہ یہ پولیس کا روائی ہے لوگ خوف سے ان سے دور رہے جب ان لو گوں کو یقین ہو گیا کہ مغویوں کی گاڑی کافی دور نکل گئی ہے تو انہوں نے فرار ہونے کی کوشش کی تو ڈبل کیبن ڈالا کھال میں پھنس گیا اور اس میں بیٹھے ایک شخص نے سندھی میں بات کی جس پر عوام نے ان کو گھیرلیا جبکہ کاروالے فائرنگ کرتے ہو ئے فرار ہو گئے 15 پر کال کی پولیس آگئی جس نے دو افراد کو گرفتار کر لیا اس موقعہ پر پولیس کو مبینہ طور عوام کے سامنے چھوڑنے پر 10 لاکھ کی آفر کی مگر پولیس ملزمان،ڈالہ اور اسلحہ پکڑ کر تھانے لے آئیملزمان نے مبینہ طور پر پولیس کو بتایا کہ اس لڑکا اور لڑکی کو سندھ لے جا یا جائے گا جس پر پولیس کی ہوائیاں اڑنے لگیں پولیس نے پکڑے گئے ملزمان جن میں لڑکی کا بھائی آصف بھی شامل تھاکے موبائل سے رابطہ کیا تو لڑکی کے والد سید اکبر شاہ نے مغویوں کو واپس کرنے سے انکار کر دیا جس پر پولیس نے مبینہ طور پر دھمکی دی کی پکڑے گئے ملزمان کو پولیس مقابلہ میں پار بھی کیا جاسکتا ہیجس پر وڈیرے اکبر شاہ نے مبینہ طور پر 2 گھنٹے بات چیت کی اور اس دوران یہ طے پایا کہ لڑکی ان کو قانونی طریقہ سے سیف ہا تھوں میں سے دے دی جائے گی اور ان کے خلاف کو ئی کاروائی بھی نہ ہو گی پنجاب کی ایک اہم شخصیت اس میں گارنٹر بنی پھر بھی انہوں نے مغوی لڑکے کو پولیس کے حوالے کیا جبکہ لڑکی انہوں نے اپنے ساتھ رکھی جس پر پولیس نے بھی خاموشی اختیار کر اس دوران لڑکی کو مبینہ طور پر ڈرا دھمکاکر اپنے حق میں بیان دینے کے لیے مجبور کر لیا اور سب اوکیہونے پر 5 بجے عدالت میں لڑکی کو پیش کیا گیا لڑکی کے ساتھ اس کا بھائی آصف شاہ بھی عدالت میں ساتھ ہی رہا جواغوا کے الزام میں پولیس تھانہ کی حراست میں تھا کھلے عام پھرتا رہا جبکہ عدالت میں دونوں طرف سے وکیل پیش ہوئے عدالت میں لڑکی کے بیان پر کہ وہ بھائی کے ساتھ جانا چاہتی ہے عدالت نے بھائی کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی پولیس تھانہ صدر نے پکڑے گئے دونوں ملزمان آصف شاہ اور نامعلوم کو جدید اسلحہ،ڈبل کیبن ڈالاسمیت باعزت طور پر چھوڑ دیا جبکہ مغوی ابرار سے بھی پولیس نے مبینہ طوراغوا کاروں کے خلاف کاروائی نہ کرنے تحریر لے کر چھوڑ دیا اس تمام کاروائی میں پولیس نے 30 لاکھ میں ڈیل کی اور قانون کو مذاق بناکر رکھ دیا مبینہ ذرائع سے معلوم ہواہے کہ لڑکی اور لڑکے کو کاروکاری کے لیے اغوا کرکے لے جایا جا رہا تھا اکبر شاہ کے بیٹے آصف کے پھنس جانے کی وجہ سے یہ کاروائی کی گئی اگر عوام نے ان کو نہ پکڑ کر دیا ہو تا تو شاید لڑکا ان کو دے دیا جاتا بتایا جاتا ہے کہ لڑکی کے والد اکبر شاہ کا کراچی میں بہت بڑا مدرسہ ہے اور کھربوں پتی ہے اور ڈبل کیبن ڈالا پر شاہ جی کی نیم پلیٹ سرخ رنگ کی لگی ہو ئی تھی جو کراچی میں خوف ودہشت کی علامت سمجھی جاتی ہے ایس ایچ او تھانہ صدر نے اپنے موقف میں کہا  کہ لڑکی کے والد بھائی وغیرہ تھے علاقہ میں کوئی فائرنگ نہ ہو ئی ہیاور نہ ہی گاڑی سے اسلحہ برآمد ہوا ہے لڑکی نے عدالت میں بیان دیا ہے کہ اس کو کسی نے اغوا نہ کیا ہے وہ اپنے بھائی کے ساتھ جانا چاہتی ہے جبکہ لڑکے نے بھی بیان دیا ہے کہ اس کو کسی نے اغوا نہ کیا ہے انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ 30 لا کھ میں ڈیل الزام ہے جبکہ ابرار کے خلاف کراچی میں لڑکی کے اغوا کا مقد مہ درج ہے۔

ڈیل

مزید :

ملتان صفحہ آخر -