بچوں سے بداخلاقی واقعات میں تیزی سے اضافہ، والدین خوفزدہ

  بچوں سے بداخلاقی واقعات میں تیزی سے اضافہ، والدین خوفزدہ

  

 کوٹ ادو(تحصیل رپورٹر) کمسن بچوں سے بداخلاقی کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوگیا،سرکل کوٹ ادو کی حدود میں معصوم بچیوں سے درندگی کے واقعات میں تشویش ناک حد تک بڑھ گئے،2دن کے اندر معصوم بچیوں سے درندگی کا تیسرا واقعہ محلہ اجپوتاں کے(بقیہ نمبر7صفحہ6پر)

14سالہ رحمن علی،چک 511 کی 10 سالا خدیجہ اور چہارم جماعت کی  8سالہ ابیحہ درندگی کا  شکار ہو گئیں،آئے روز معصوم بچوں کو بداخلاقی پر نہ صرف والدین معصوم بچے بھی عدم تحفظ کا شکار،کمسن بچے وحشی درندوں سے غیر محفوظ ہونے لگے،7ماہ میں 60سے زائد واقعات رپورٹ،کئی کے مقدمات بھی درج ہوئے،قومی اسمبلی میں بچوں کو تشدد کا نشانہ بنانے والے مجرمان کو سرعام پھانسی دینے کی قرارداد کو کثرت رائے سے منظورہونے کے باوجودقانون نافذ نہ ہو سکا،واقعات سے بچوں سمیت والدین بھی عدم تحفظ کا شکارہیں تفصیل کے مطابق سرکل کوٹ ادو میں معصوم بچوں سے درندگی کے واقعات میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے،پچھلے2 روز کے ندر 3 واقعات پیش آگئے ہیں، گزشتہ 2روز کے دوران محلہ اجپوتاں کے14سالہ رحمن علی،چک 511 کی 10 سالہ خدیجہ اور چہارم جماعت کی 8سالہ ابیحہ درندگی کا  شکار ہو گئیں، پولیس رپورٹ کے مطابق رواں سال کے 7ماہ کے دوران سرکل کوٹ ادو میں 60سے زائد بچے اور بچیاں بداخلاقی کا شکار ہوئی ہیں،سب سے زیادہ چوک سرورشہید، دائرہ دین پناہ اورسٹی کوٹ ادو میں رونما ہوئے جبکہ پولیس بداخلاقی کا نشانہ بنانے والے اکثر مقدمات کے ملزمان کوگرفتار کرنے میں ناکام ہے کیونکہ زیادہ تر مقدمات میں تفتیش کا عمل نامکمل ہونے سے ملزم آزاد گھوم رہے ہیں، دوسری جانب قومی اسمبلی میں بچوں کو تشدد کا نشانہ بنانے والے مجرمان کو سرعام پھانسی دینے کی قرارداد کو کثرت رائے سے منظور کر لیا گیامگر اسے نافذ نہ کیا جاسکا،آئے روز معصوم بچوں کوبداخلاقی پر نہ صرف والدین معصوم بچے بھی عدم تحفظ کا شکار ہو گئے ہیں،شہریوں نے وزیر اعظم عمران خان سمیت اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ قومی اسمبلی میں بچوں کو تشدد کا نشانہ بنانے والے مجرمان کو سرعام پھانسی دینے کے قانون کو نافذ کیا جائے تاکہ معصوم بچوں کو اس حیوانیت سے بچایا جا سکے

بد اخلاقی

مزید :

ملتان صفحہ آخر -